Sunan Darmi #2392
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ جَارِيَةً رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ، أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَبُعِثَ إِلَيْهِ فَجِيءَ بِهِ، فَاعْتَرَفَ، "فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک لڑکی کا دو پتھروں کے درمیان سر کچل دیا گیا، اس سے کہا گیا: کیا فلاں یا فلاں نے تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے؟ یہاں تک کہ یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے تائید کی، چنانچہ اس کو بلا بھیجا گیا اور اس نے اعتراف کر لیا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔