Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 15 · Chapter 797

حدود کے مسائل

17. حاملہ عورت زنا کا اعتراف کر لے تو کیا کیا جائے؟

2 hadiths in this chapter

2361

Sunan Darmi #2361

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي غَامِدٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهَا:"ارْجِعِي". فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ، أَتَتْهُ أَيْضًا، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَاء، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ارْجِعِي، حَتَّى تَلِدِي". فَلَمَّا وَلَدَتْ، جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فِي خِرْقَةٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ، قَالَ:"فَاذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ، ثُمَّ افْطُمِيهِ". فَلَمَّا فَطَمَتْهُ، جَاءَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ فَطَمْتُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا، فَتَلَطَّخَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَسَبَّهَا، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ:"مَهْ يَا خَالِدُ، لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً، لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ، لَغُفِرَ لَهُ". فَأَمَرَ بِهَا فَصُلِّيَ عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ.

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالله بن بریدہ نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ قبیلہ بنوغامد کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے اور چاہتی ہوں کہ آپ مجھے (اس گناہ سے) پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جاؤ“، دوسرے دن وہ پھر آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پاک کر دیجئے، آپ شاید مجھے ویسے ہی وا پس کر رہے ہیں جیسے ماعز کو آپ نے لوٹایا تھا۔ اللہ کی قسم میں حاملہ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی واپس جاؤ جب ولادت ہو جائے تو آنا“، چنانچہ جب ولادت ہوگئی تو وہ ایک کپڑے میں بچے کو لپیٹ کر لائی اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لیجئے ولادت بھی ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے دودھ پلاؤ، جب دودھ چھوڑے تو پھر آنا“، چنانچہ جب اس کا دودھ انہوں نے چھڑایا تو بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھما کر لائی اور عرض کیا: دیکھئے اے اللہ کے رسول! اب میں نے دودھ بھی چھڑا دیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کو ایک صحابی کے سپرد کر دیا اور اس عورت کے لئے گڑھا کھود کر اس میں کھڑا کر کے رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سینے تک کے گڑھے میں کھڑی کر دی گئی۔ سیدنا خالد بن الوليد رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور پتھر اٹھا کر سر پر پھینکا جس سے خون کے چھینٹے سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کے چہرے پر آ پڑے تو انہوں نے اس عورت کو برے لفظوں سے نوازا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ بات سنی تو فرمایا: ”ٹھہرو اے خالد! اس کو برا نہ کہو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس عورت نے اتنی زبردست توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا بھی (جو لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور مسکینوں کو ستاتا ہے) ایسی توبہ کرے تو اس کا گناہ بھی بخش دیا جائے“ (حالانکہ دوسری حدیث میں یہ ایسا شخص جنت میں نہ جائے گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس پر نماز پڑھی گئی اور دفن کر دی گئی۔

2362

Sunan Darmi #2362

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَت ِالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَاءِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ:"اذْهَبْ فَأَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، فَأْتِنِي بِهَا". فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟، فَقَالَ: "لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جو زنا کے نتیجے میں حاملہ ہوگئی تھی، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے حد کا کام کیا ہے، مجھ پر حد قائم کیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر فرمایا: ”اس کو لے جا کر اچھی طرح رکھو، جب ولادت ہو جائے تو میرے پاس لے کر آنا“، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کے کپڑے مضبوطی سے باندھ دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر! آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں جس نے زنا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ اہلِ مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو وہ سب پر وسیع ہوجائے گی، کیا تم نے اس سے بہتر آدمی دیکھا جس نے اللہ کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔“