Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 14 · Chapter 778

طلاق کے مسائل

16. بچے کو والدین میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا بیان

1 hadith in this chapter

2330

Sunan Darmi #2330

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِوَلَدِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِوَلَدِي أَوْ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا أَوْ قَالَ: تَسَاهَمَا أَبُو عَاصِمٍ الشَّاكُّ، فَجَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي وَلَدِي أَوْ فِي ابْنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا غُلَامُ، هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ". وَقَدْ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ:"فَاتْبَعْ أَيَّهُمَا شِئْتَ"، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابومیمونہ سلیمان اہلِ مدینہ کے غلام سے مروی ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک عورت آئی، عرض کیا کہ میرا شوہر میرے بچے کو لے جانا چاہتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میرا شوہر اپنی اولاد یا میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے جو میری خدمت کرتا اور میرے لئے ابوعنبہ کے کنویں سے پانی لاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں قرعہ ڈال لو“، «استهما» کہا یا «تساهما» کہا، ابوعاصم کو اس میں شک ہے (معنی دونوں لفظ کے ایک ہیں)۔ پھر اس عورت کا شوہر آیا اور کہنے لگا: میری اولاد کے بارے میں یا میرے بیٹے کے بارے میں کون مجھ سے جھگڑا کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے سے) کہا: ”بیٹے یہ تمہارے باپ ہیں اور یہ تمہاری ماں ہیں، تم جس کے پاس رہنا چاہو اس کا ہاتھ تھام لو۔“ اور عاصم نے کہا: ان دونوں میں جس کے ساتھ چاہو چلے جاؤ، چنانچہ اس لڑکے نے اپنی والدہ کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئیں۔