Sunan Darmi #2316
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يُتَوَفَّى عَنِ الْمَرْأَةِ فَتَلِدُ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ قَلَائِلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: حِلُّهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ. وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا وَضَعَتْ، فَقَدْ حَلَّتْ، فَتَرَاجَعَا فِي ذَلِكَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ،"أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةَ مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَنَفِسَتْ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يُكْنَى أَبَا السَّنَابِلِ خَطَبَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا قَدْ حَلَّتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَيْرَهُ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: فَإِنَّكِ لَمْ تَحِلِّينَ، فَذَكَرَتْ سُبَيْعَةُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ".
اردو ترجمہ · Urdu
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ وہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور اس (حاملہ) عورت کے بارے میں تذکرہ ہوا جس کا شوہر وفات پا گیا ہو اور تھوڑے ہی دن کے بعد اس کی ولادت ہو جائے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی عدت کی مدت وہ ہوگی جو زیادہ ہے، اور ابوسلمہ نے کہا: جب وضع حمل ہوجائے تو وہ حلال ہوجائے گی (یعنی عدت ختم ہوگئی، وہ اب نکاح کرسکتی ہے)، اس بارے میں دونوں میں تکرار ہوئی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں، پھر انہوں نے کریب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور انہوں نے ان سے یہ سوال پوچھا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سیدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے وفات پائی اور اس کے چند دن بعد اس کو نفاس آ گیا (یعنی ولادت کے بعد خون جاری ہو گیا) اور بنو عبدالدار کے ایک شخص جن کی کنیت ابوالسنابل تھی انہوں نے سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا اور بتایا کہ (وضع حمل کے بعد) وہ شادی کے لئے حلال ہو چکی ہیں اور سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انکو چھوڑ کر دوسرے شخص سے شادی کا ارادہ کر لیا تو ابوالسنابل نے کہا کہ تم حلال نہیں ہوئیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور یہ قصہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ نکاح کر سکتی ہیں۔“