Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 14 · Chapter 771

طلاق کے مسائل

9. ظہار کا بیان

1 hadith in this chapter

2310

Sunan Darmi #2310

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلِي شَيْئًا، فَيَتَتَابَعَ بِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ أُصْبِحَ، قَالَ: فَتَظَاهَرْتُ إِلَى أَنْ يَنْسَلِخَ، فَبَيْنَا هِيَ لَيْلَةً تَخْدُمُنِي، إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ، وَقُلْتُ: امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ، لَا نَمْشِي مَعَكَ، مَا نَأْمَنُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ الْقُرْآنُ، أَوْ أَنْ يَكُونَ فِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةٌ يَلْزَمُنَا عَارُهَا، وَلَنُسْلِمَنَّكَ بِجَرِيرَتِكَ. فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ خَبَرِي، فَقَالَ:"يَا سَلَمَةُ، أَنْتَ بِذَاكَ؟"قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، قَالَ:"يَا سَلَمَةُ، أَنْتَ بِذَاكَ؟"قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، قَالَ:"يَا سَلَمَةُ، أَنْتَ بِذَاكَ؟"قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، وَهَأَنَا صَابِرٌ نَفْسِي، فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ، قَالَ:"فَأَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي، فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا، قَالَ:"فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قُلْتُ: وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ؟ قَالَ:"فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشَى، مَالَنَا مِنَ الطَّعَام، قَالَ:"فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ، وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ"، قَالَ: فَأَتَيْتُ قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ، وَقَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنی بیویوں سے اتنا جماع کرتا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور نہ کرتا ہوگا، پس جب رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو مجھے خطرہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ اپنی عورت سے کچھ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک نہ چھوڑے، لہٰذا میں نے رمضان کے اخیر تک کے لئے ظہار کر لیا (یعنی دور رہنے کے لئے کہہ دیا کہ تم میری ماں کی طرح ہو)، اس دوران ایک رات وہ میری خدمت میں لگی تھی کہ اس کا بدن کھل گیا، مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں اس پر چڑھ بیٹھا، جب صبح ہوئی تو میں اپنے قبیلہ میں گیا اور یہ ماجرا بیان کیا اور کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے، کیا پتہ تمہارے بارے میں قرآن پاک میں کچھ نازل کیا جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں ایسی بات کہہ دیں جو ہمارے لئے باعثِ عار ہو، اس لئے ہم تم کو ہی تمہارے قصور کے بدلے حوالے کئے دیتے ہیں، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اپنا ماجرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا ہے؟“ عرض کیا: مجھ سے ایسا کام سرزد ہو گیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا ہے؟“ عرض کیا: ہاں میں اس کا قصور وار ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمہ! تم سے یہ فعل سرزد ہوا ہے؟“ عرض کیا: جی ہاں، مجھ سے ایسی حرکت سرزد ہوئی ہے، اور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں اور اللہ کے حکم پر صابر بھی ہوں، اس لئے جو الله کا حکم ہو وہ میرے بارے میں فیصلہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایک گردن آزاد کر دو“، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا اور عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، میں اس گردن کے علاوہ کسی گردن کا مالک نہیں، فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجور کھلا دو“، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، ہم نے پچھلی رات بھر کچھ کھائے بنا گذاری ہے (یعنی اتنے محتاج ہیں تو فقیر مسکین کو کیسے کھلائیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی زریق کا جو صدقہ وصول کیا کرتا ہے اس کے پاس جاؤ، وہ تم کو کچھ دے دیگا، اس سے ساٹھ مسکین کو کھانا کھلا دینا اور جو باقی بچے اس کو تم کھا لینا اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا۔“ سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے قبیلہ والوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میں نے تمہارے پاس تنگی اور بری رائے محسوس کی، اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کشادگی اور اچھی رائے ملاحظہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تم پر صدقے کا حکم دیا ہے۔