Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 14 · Chapter 769

طلاق کے مسائل

7. خلع کا بیان

1 hadith in this chapter

2308

Sunan Darmi #2308

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ تَزَوَّجَهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَذَكَرَتْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ هَمَّ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا. وَكَانَتْ جَارَةً لَهُ، وَأَنَّ ثَابِتًا ضَرَبَهَا، فَأَصْبَحَتْ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، فَرَأَى إِنْسَانًا فَقَالَ:"مَنْ هَذَا؟"قَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، فَقَالَ:"مَا شَأْنُكِ؟"، قَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ، فَأَتَى ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: "خُذْ مِنْهَا وَخَلِّ سَبِيلَهَا"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي كُلُّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ فَأَخَذَ مِنْهَا، وَقَعَدَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل سے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما نے شادی کی تھی۔ سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑوسن تھیں ( «انفرد به الدارمي») سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تو وہ صبح کو اندھیرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پرآئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آدمی کی پرچھائی (سایہ) دیکھا، فرمایا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نہیں یا ثابت نہیں (یعنی میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی)، پھر جب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اپنا مال لے لو اور اس کو چھوڑ دو“، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے جو کچھ بھی دیا سب میرے پاس محفوظ ہے۔ چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال لے لیا اور اس کو چھوڑ دیا، اور سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے میکے میں جا کر بیٹھ گئیں (یعنی شوہر سے خلع لے لیا)۔