Sunan Darmi #2296
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ امْرَأَةَ أَبِي سُفْيَانَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ، وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند (بنت عتبہ) معاویہ کی ماں اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہم کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتے جو مجھے اور میرے بچوں کے لئے کافی ہو مگر یہ کہ میں کچھ ان کی لاعلمی میں لے لوں، تو ایسا کرنے میں مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عادت کے مطابق بھلے طریقہ سے تم اتنا مال لے سکتی ہو جو خود تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے کافی ہو۔“