Sunan Darmi #2281
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الشَّعْبِيِّ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ: إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ؟ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، ثُمَّ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا، فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ". ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ يُرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ هُشَيْمٌ: أَفَادُونِي بِالْبَصْرَةِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ.
اردو ترجمہ · Urdu
صالح بن صالح بن حیی ہمدانی نے کہا: میں امام شعبی رحمہ اللہ کے پاس تھا کہ ایک خراسانی آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوعمرو! ہمارے یہاں اہل خراسان کہتے ہیں کہ جو آدمی اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر اسی سے شادی کرے وہ اپنے اونٹ پر سوار آدمی کی طرح ہے۔ امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ہیں جن کو دوہرا (ڈبل) اجر دیا جائے گا۔ ایک تو وہ آدمی جو اہل کتاب سے ہو اور اپنے نبی پر ایمان لایا، پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی، دوسرا وہ غلام ہے جس نے اللہ کا بھی حق ادا کیا اور اپنے مالکوں کا بھی، اس کے لئے ڈبل اجر و ثواب ہے، تیسرا وہ آدمی جس کے پاس لونڈی ہو، اس نے اس لونڈی کو اچھی سے اچھی غذا کھلائی اور اچھے سے اچھا ادب سکھایا پھر اس کو آزاد کیا اور اسی سے شادی کر لی، اس کے لئے بھی ڈبل اجر و ثواب ہے۔“ پھر امام شعبی رحمہ اللہ نے صالح سے کہا: اس حدیث کو یاد کر لو جو ہم نے تمہیں بلا اجرت مفت میں سنا دی ہے، ورنہ لوگ ایسی حدیث سننے کے لئے مدینہ جایا کرتے تھے۔ ہشیم نے کہا: بصرہ میں مجھے اس حدیث کی خبر لگی تو میں ان کے پاس گیا اور اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔