Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 13 · Chapter 747

نکاح کے مسائل

41. بچہ اس کا ہو گا جس کی زوجیت یا ملکیت میں عورت ہو

3 hadiths in this chapter

2272

Sunan Darmi #2272

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا، اور زنا کرنے والے کے لئے پتھر ہے۔“

2273

Sunan Darmi #2273

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ".

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ (صاحب) فراش کا ہے۔“

2274

Sunan Darmi #2274

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنْ يَقْبِضَ إِلَيْهِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ، أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَإِذَا هُوَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ"، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ مِمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ".

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: عتبہ بن ابی وقاص نے (مرتے وقت) اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے اور وہ اس کو اپنی تحویل میں لے لے، چنانچہ جب فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی لونڈی کے اس لڑکے کو لے لیا جو اور لوگوں میں عتبہ بن ابی وقاص ہی سے زیادہ مشابہ تھا، جب یہ قضیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا: ”یہ بچہ، اے عبد بن زمعہ تمہارے لئے ہے، اس لئے کہ اس کی ولادت اپنے باپ کے فراش پر ہوئی ہے۔“ (کیونکہ اس وقت بچے کی ماں عبد بن زمعہ کی ملکیت میں تھیں)، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اے سودہ! اس لڑکے سے پردہ کرنا“، یہ اس مشابہت کی وجہ سے فرمایا جو اس لڑکے کو عتبہ بن ابی وقاص سے تھی۔