Sunan Darmi #2253
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: "مَا أَعْجَلَكَ يَا جَابِرُ؟"قَالَ: إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ:"أَفَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟"قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ:"فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟"قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي:"إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ"، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا، ذَهَبْنَا نَدْخُلُ، قَالَ:"أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا، أَيْ: عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، جب ہم واپس لوٹے تو میں جلدی کرنے لگا، اچانک پیچھے سے ایک سوار آیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ نے مجھ سے کہا: ”جابر جلدی کیوں کرتے ہو؟“ عرض کیا: کیونکہ میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ فرمایا: ”کنواری لڑکی سے نکاح کیا ہے یا ثیبہ (شوہردیدہ) سے“، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: شوہر دیدہ ہی سے شادی کی ہے، فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہیں کی، تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر پہنچ کر صحبت ہی صحبت اور ملاقات ہی ہے۔“، پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹهہرو انتظار کرو یہاں تک کہ رات ہو جائے، یعنی عشاء تک تاکہ بکھرے بالوں والی بناؤ سنگھار کر لے اور جس کا شوہر باہر گیا ہو وہ صفائی ستھرائی کر لے۔“