Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 13 · Chapter 713

نکاح کے مسائل

7. اپنے بھائی کے پیغام پر شادی کا پیغام دینے کی ممانعت کا بیان

3 hadiths in this chapter

2212

Sunan Darmi #2212

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر شادی کا پیام دے۔

2213

Sunan Darmi #2213

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے، اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے مول (بیع) پر مول کرے یہاں تک کہ وہ اسے اجازت دے دے۔“

2214

Sunan Darmi #2214

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ وَكَتَبَهُ مِنْهَا كِتَابًا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي مِنْهُمُ النَّفَقَةَ، فَقَالُوا: لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، وَانْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ"، ثُمَّ قَالَ:"إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ إِلَيْهَا إِخْوَانُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، إِنْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ"، فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَلَمَّا حَلَّتْ، ذَكَرَتْ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْ أُسَامَةَ؟"فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَتْ أُسَامَةَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: يَا فَاطِمَةُ، اتَّقِي اللَّهَ، فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة الطلاق آية 1 وَالْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا، فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يُخْرِجُوهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ رحمہ اللہ کو حدیث بیان کی اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے لکھ لیا، وہ قریش کے قبیلہ بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں کہ انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آخری قطعی طلاق (تیسری طلاق) دے دی، انہوں نے اپنے سسرال والوں سے نان و نفقہ طلب کیا تو انہوں نے جواب دیا: تمہارے لئے ہمارے پاس کوئی نان و نفقہ نہیں (کیونکہ طلاق بائنہ ہو چکی ہے جس کے بعد رجوع نہیں)، جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ ”تمہارے لئے کچھ نفقہ نہیں اور عدت گزارنا لازم ہے، اس لئے سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہو جاؤ اور ہم سے دور نہ رہنا۔“ (یعنی جب عدت پوری ہو جائے تو ہمارے پاس آنا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام شریک تو ایسی خاتون ہیں جن کے پاس ان کے مہاجرین بھائی آتے جاتے رہتے ہیں (کیونکہ وہ بڑی مالدار اور مہمان نواز تھیں اور مہمان آتے رہتے تھے) ایسا کرو (اپنے چچا زاد بھائی) ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ جو نابینا ہیں، اگر تم ان کے پاس کپڑے بھی اتار دوگی تو وہ کچھ نہیں دیکھ پائیں گے، اور ہم سے دور نہ رہنا“، چنانچہ وہ عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی گئیں، جب عدت پوری ہو گئی تو آ کر بتایا کہ معاویہ اور ابوجہم نے ان کو پیغام (شادی) بھیجا ہے جس پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو غریب ہیں ان کے پاس مال و دولت ہی نہیں اور ابوجہم (بڑے سخت گیر ہیں) ان کے کندھے سے لاٹھی اترتی ہی نہیں۔ اسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ لیکن ان کے اہل خانہ کو یہ پسند نہ تھا (کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے شادی کر لیں)، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں اس کے سوا کسی سے شادی نہ کروں گی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے، چنانچہ انہوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی (نسائی میں ہے کہ ان سے شادی کر کے میں بہت سکھی رہی، دیگر عورتیں میرے اوپر رشک کرتی تھیں)۔ محمد بن عمرو نے کہا: محمد بن ابراہیم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے فاطمہ! اللہ سے ڈرو کہ تم کس چیز کے بارے میں ایسا کہہ رہی ہو (یعنی مطلقہ بائنہ ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تمہارے لئے نان و نفقہ اور سکن نہیں ہے)، نیز انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت: «﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ ﴾» [الطلاق: 1/65] یعنی مطلقہ عورتوں کو نہ ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود گھر سے نکلیں یہاں تک کہ وہ کھلی ہوئی فحش کاری میں مبتلا ہو جائیں۔ (یعنی) فاحشہ بدکاری اہل خانہ پر واضح ہو جائے، ایسی صورت میں جائز ہے کہ اس مطلقہ عورت کے سسرال والے عدت پوری ہونے سے پہلے اسے اپنے گھر سے نکال دیں۔