Sunan Darmi #2173
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَوْلُ اللَّهِ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، فَقَالَ:"سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ أَوْ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، قَالَ: هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ کے اس فرمان «لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» یعنی ان کے لئے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کی زندگی میں، کا مطلب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے یا میری امت میں سے کسی نے نہیں پوچھی“، فرمایا: ”اس سے مراد اچھا خواب ہے جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی دوسرا شخص دیکھے۔“