Sunan Darmi #2061
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَسِيرَةٌ، قَالَ: قَالَ أَبِي لِأُمِّي: لَوْ صَنَعْتِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا؟ فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً، وَقَالَ بِيَدِهِ يُقْلِلُ، فَانْطَلَقَ أَبِي فَدَعَاهُ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى ذِرْوَتِهَا، ثُمَّ قَالَ:"خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ". فَأَخَذُوا مِنْ نَوَاحِيهَا، فَلَمَّا طَعِمُوا دَعَا لَهُمْ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جو کچھ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے: میرے والد نے امی جان سے کہا: کاش تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا بناؤ، چنانچہ والدہ صاحبہ نے ثرید بنایا، ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ ثرید تھوڑا سا تھا، اس کے بعد میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے) اور اس کے بیچ کی چوٹی پر ہاتھ رکھا (یعنی برکت کی دعا کی) پھر فرمایا: ”الله کا نام لے کر شروع کرو“، چنانچہ حاضرین نے کنارے کنارے سے کھانا شروع کیا، جب وہ کھانے سے شکم سیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یہ دعا فرمائی: ”اے اللہ! ان کی مغفرت فرما، ان پر رحم کر اور جو روزی تو نے ان کو عطا کی ہے، اس میں برکت نازل کر۔“