Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 8 · Chapter 1306

کتاب الاستسقائ

اس بات کی دلیل کہ صلوٰۃ الاستسقاء سنت ہے جیسے صلوۃ العیدین سنت ہے بیشک اس کی بھی ایسے ہی دو رکعتیں پڑھے گا جیسے عیدین کی نماز بلا اذان و اقامت ہے عید کی نماز کے وقت

9 hadiths in this chapter

6399

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6399

Sahih

(۶۳۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّاسِ یَسْتَسْقِی فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ جَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ فِیہِمَا ، وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ ، وَاسْتَسْقَی ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ومسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٣٩٩) عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے لوگوں کے ساتھ پانی طلب کرنے کیلئے ، سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز میں قرأت کی اور اپنی چادر کو پلٹایا اور پانی مانگا اور قبلے کی طرف منہ کیا اس کے علاوہ نے اضافہ کیا ہے اور وہ عبد الرزاق سے بیان کرتے ہیں کہ اور آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کیا۔

6400

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6400

Sahih

(۶۴۰۰) زَادَ غَیْرُہُ فِیہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَفَعَ یَدَیْہِ یَدْعُو فَدَعَا وَاسْتَسْقَی۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِی الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَکَرَہُ بِزِیَادَتِہِ۔ [صحیح۔ بخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٠) ہمیں حدیث بیان کی عبد الرزاق نے اور انھوں نے تذکرہ اس حدیث کا کچھ زیادتی (اضافے) کے ساتھ۔

6401

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6401

Zaeef

(۶۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ہُوَ ابْنُ رَاشِدٍ یُحَدِّثُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمًا یَسْتَسْقِی فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، ثُمَّ خَطَبَنَا فَدَعَا اللَّہَ ، وَحَوَّلَ وَجْہَہُ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ رَافِعًا یَدَیْہِ ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَائَ ہُ فَجَعَلَ الأَیْمَنَ عَلَی الأَیْسَرِ ، وَالأَیْسَرَ عَلَی الأَیْمَنِ۔ تَفَرَّدَ بِہِ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [سندہ منکر۔ ابن ماجہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠١) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے (بارش) پانی طلب کرنے کیلئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان اور اقامت کے۔ پھر ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے چہرے کو پھیرا قبلے کی طرف اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے پھر اپنی چادر کو پلٹایا اور دائیں جانب کو بائیں طرف کرلیا اور بائیں جانب کو دائیں طرف۔

6402

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6402

Sahih

(۶۴۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کِنَانَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی وَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ قَالَ : أَرْسَلَنِی الْوَلِیدُ بْنُ عُقْبَۃَ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : إِنَّا تَمَارَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فِی صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ ۔ فَقَالَ : لاَ وَلَکِنْ أَرْسَلَکَ ابْنُ أُخْتِکُمْ وَلَوْ أَنَّہُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ مَا کَانَ بِذَاکَ بَأْسٌ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتَّی جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَخْطُبْ کَخُطْبَتِکُمْ ہَذِہِ ، وَلَکِنْ لَمْ یَزَلْ فِی الدُّعَائِ ، وَالتَّضَرُّعِ ، وَالتَّکْبِیرِ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا کَانَ یُصَلِّی فِی الْعِیدِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی وَحَدِیثُ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَۃَ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الْحَدِیثُ یُوہِمُ أَنَّ دُعَائَ ہُ کَانَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ۔ وَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٢) ہمیں حدیث بیان کی ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے، وہ کہتے ہیں : مجھے خبر دی میرے باپ نے ، وہ کہتے ہیں : میں نے سنا اس سے جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انھوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) ابن عباس کی طرف تاکہ میں ان سے پوچھوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا : ہم مسجد میں جھگڑ پڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز استسقاء کے بارے میں تو انھوں نے کہا : نہیں بلکہ تمہیں بھیجا ہے تمہارے بھانجے نے اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔ پھر ابن عباس (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے کپڑے لٹکا کر عاجزی انکساری کرتے ہوئے اور آہ وزاری کرتے ہوئے یہاں تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے اور تمہاری خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے رہے اور گڑگڑاتے رہے اور اللہ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔ یہ لفظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث وہ بھی انھیں معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ ان کی دعا نماز سے پہلے تھی اور یہ بات سفیان ثوری نے کہی۔ شیخ (رح) نے کہا ہے : یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے بیان کیا سفیان ثوری نے بھی۔

6403

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6403

Sahih

(۶۴۰۳) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کِنَانَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَرْسَلَنِی أَمِیرٌ مِنَ الأُمَرَائِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ : مَنْ أَرْسَلَکَ؟ قُلْتُ : فُلاَنٌ قَالَ : مَا مَنَعَہُ أَنْ یَأْتِیَنِی فَیَسْأَلَنِی : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلَلاً مُتَضَرِّعًا فَلَمْ یَخْطُبْ خُطْبَتَکُمْ ہَذِہِ، وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا یُصَلِّی فِی الْعِیدِ۔ قَالَ سُفْیَانُ قُلْتُ لِلشَّیْخِ : الْخُطْبَۃُ قَبْلَ الرَّکْعَتَیْنِ أَوْ بَعْدَہَا قَالَ : لاَ أَدْرِی۔ فَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ ہِشَامًا کَانَ لاَ یَحْفَظُہُ۔ وَقَدْ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ رَبِیعَۃَ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ جَدِّہِ مُحَالاً بِہَا عَلَی صَلاَۃِ الْعِیدَیْنِ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٣) ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والدکہتے ہیں : امیروں میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس کی طرف بھیجا تاکہ صلوٰۃ الاستسقاء کے متعلق ان سے پوچھوں تو ابن عباس نے کہا : تجھے کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا : فلاں نے تو انھوں نے کہا : اس کس نے روکا ہے کہ وہ میرے پاس آئے اور پوچھے۔ پھر ابن عباس نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عاجزی کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا اور دو رکعتیں پڑھائیں، جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے شیخ سے کہا : خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں ؟ تو انھوں نے کہا : میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اس کو بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے۔

6404

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6404

Sahih

(۶۴۰۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ جَدِّہِ ہِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ اسْتَسْقَی مُتَخَشِّعًا مُتَبَذِّلَلاً کَمَا یَصْنَعُ فِی الْعِیدَیْنِ۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ التِّنِّیسِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَبِیعَۃَ بِمَعْنَاہُ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٤) عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے جب بارش طلب کی، خشوع و خضوع اور انکساری کرتے ہوئے جیسے آپ عیدین میں کرتے رہے ۔ اس کو عبداللہ بن یوسف تنیسی نے اسماعیل بن ربیعہ سے اسی معنیٰ میں روایت کیا۔

6405

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6405

Zaeef

(۶۴۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ السُّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ طَلْحَۃَ قَالَ : أَرْسَلَنِی مَرْوَانُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنْ سُنَّۃِ الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ : سُنَّۃُ الاِسْتِسْقَائِ سُنَّۃُ الصَّلاَۃِ فِی الْعِیدَیْنِ إِلاَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَلَبَ رِدَائَ ہُ فَجَعَلَ یَمِینَہُ عَلَی یَسَارِہِ وَیَسَارَہُ عَلَی یَمِینِہِ ، وَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ فَکَبَّرَ فِی الأُولَی سَبْعَ تَکْبِیرَاتٍ وَقَرَأَ بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَقَرَأَ فِی الثَّانِیَۃِ {ہَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ} وَکَبَّرَ فِیہَا خَمْسَ تَکْبِیرَاتٍ۔ [منکر۔ الحاکم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٥) حضرت طلحہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے مروان نے ابن عباس کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے استسقاء کا طریقہ پوچھوں تو انھوں نے کہا : صلوۃ استسقاء کا طریقہ وہی ہے جو صلوۃ العیدین کا ہے سوا اس کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چادر کو پلٹایا (پھیرا) اور دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں جانب کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ پہلی رکعت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات تکبیرات کہیں اور سورة ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ پڑھی اور دوسری رکعت میں ” ھل اتاک حدیث الغاشیۃ “ پڑھی اور اس میں پانچ تکبیرات کہیں۔

6406

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6406

Zaeef

(۶۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ : أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَبِیبِ بْنِ عَرَبِیٍّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّۃِ فِی الاِسْتِسْقَائِ فَقَالَ : مِثْلُ السُّنَّۃِ فِی الْعِیدَیْنِ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَسْقِی فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، وَکَبَّرَ فِیہِمَا ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ تَکْبِیرَۃً سَبْعًا فِی الأُولَی وَخَمْسًا فِی الآخِرَۃِ ، وَجَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ ثُمَّ اسْتَسْقَی۔ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ وَہُوَ بِمَا قَبْلَہُ مِنَ الشَّوَاہِدِ یَقْوَی۔ [منکر۔ دار قطنی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٦) حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس (رض) سے صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ پوچھاتو انھوں نے کہا : عید کے طریقے کی طرح ہے ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے بارش طلب کر رہے تھے ۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان و اقامت کے اور ان میں بارہ (١٢) تکبیرات کہیں، سات پہلی میں اور پانچ دوسری میں اور جہری قرأت کی ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پلٹے اور خطبہ دیا۔ پھر قبلے کی طرف منہ کیا اپنی چادر کو پلٹا اور بارش کی دعا کی۔

6407

Sunan Al Kubra Bayhaqi #6407

Sahih

(۶۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ الأَنْصَارِیَّ : خَرَجَ یَسْتَسْقِی بِالنَّاسِ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ اسْتَسْقَی فَلَقِیتُ یَوْمَئِذٍ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَلَیْسَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ غَیْرُ رَجُلٍ أَوْ بَیْنِی وَبَیْنَہُ رَجُلٌ قُلْتُ : کَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : تِسْعَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً قُلْتُ : کَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَہُ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَۃَ قُلْتُ : فَمَا أَوَّلُ غَزْوَۃٍ غَزَاہَا؟ قَالَ : ذَاتُ الْعُسَیْرَۃِ أَوْ ذَاتُ الْعُشَیْرَۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٤٠٧) ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بیشک عبداللہ بن یزید انصاری لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا کیلئے نکلے ، سو انھوں نے دو رکعت پڑھائیں، پھر بارش کی دعا کی اور اس دن میں زید بن ارقم سے ملا، میرے اور ان کے درمیان کوئی آدمی نہیں تھا یا انھوں نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوات کیے تو انھوں نے کہا : انیس غزوات ۔ پھر میں نے کہا : آپ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کتنے غزوات کیے ؟ تو انھوں نے کہا : سترہ ۔ پھر میں نے کہا : پہلا غزوہ کونسا ہے جو آپ نے لڑا ؟ انھوں نے کہا : ذات العسیرۃ یا پھر ذات العشیرۃ کہا۔