Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4063

قاضی کے اداب کا بیان

جس نے غیر حاضر کے خلاف فیصلہ کی اجازت دی

2 hadiths in this chapter

20495

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20495

Sahih

(۲۰۴۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْ ہِنْدُ أَمُّ مُعَاوِیَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ شَحِیحٌ وَأَنَّہُ لاَ یُعْطِینِی مَا یَکْفِینِی وَوَلَدِی إِلاَّ مَا أَخَذْتُ مِنْہُ وَہُوَ لاَ یَعْلَمُ فَہَلْ عَلَیَّ فِی ذَلِکَ مِنْ شَیْئٍ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- : خُذِی مَا یَکْفِیکِ وَبَنِیکِ بِالْمَعْرُوفِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٨٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ ام معاویہ ہندرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ ہمیں مکمل خرچہ نہیں دیتا، لیکن اس کے بتائے بغیر ہم کچھ لے لیتے ہیں۔ کیا کوئی گناہ تو نہیں ؟ آپ نے فرمایا : اچھائی سے اتنا لو جتنا تمہیں کفایت کر جائے۔

20496

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20496

Zaeef

(۲۰۴۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بْکَرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلاَفٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ جُہَیْنَۃَ کَانَ یَشْتَرِی الرَّوَاحِلَ فَیُغَالِی بِہَا ثُمَّ یُسْرِعُ السَّیْرَ فَیَسْبِقُ الْحَاجَّ فَأَفْلَسَ فَرُفِعَ أَمْرُہُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ أَیُّہَا النَّاسُ فَإِنَّ الأُسَیْفِعَ أُسَیْفِعَ جُہَیْنَۃَ رَضِیَ مِنْ دِینِہِ وَأَمَانَتِہِ أَنْ یُقَالَ سَبَقَ الْحَاجَّ إِلاَّ أَنَّہُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا فَأَصْبَحَ قَدْ رِینَ بِہِ فَمَنْ کَانَ لَہُ عَلَیْہِ دَیْنٌ فَلْیَأْتِنَا بِالْغَدَاۃِ نَقْسِمُ مَالَہُ بَیْنَ غُرَمَائِہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٩٠) عمر بن عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہجہینہ قبیلے کا ایک آدمی کجاوہ خریدتا پھر زیادہ قیمت میں فروخت کرتا۔ پھر تیز چلتا اور حاجیوں سے سبقت لے جاتا۔ وہ غریب ہوگیا۔ اس کا معاملہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے فرمایا : اے لوگو ! عمر اس کے دین و امانت سے راضی ہے۔ لیکن اس کا مال ختم ہوگیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حاجیوں کے بارے میں سبقت کرتا تھا۔ لیکن اس کو قرض پیش آگیا۔ جس کی وجہ سے وہ مغلوب ہوگیا۔ جس کا اس کے ذمہ قرض ہو، وہ ہمارے پاس آئے۔ ہم اس کا مال قرض داروں کے درمیان تقسیم کردیں گے۔