Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4042

قاضی کے اداب کا بیان

خط پڑھنے میں احتیاط، اس پر گواہ بنانا اور مہر لگانا تاکہ جھوٹ شامل نہ کیا جاسکے مطرف بن عبداللہ فرماتے ہیں : برے گمان سے لوگوں سے بچانا۔

5 hadiths in this chapter

20422

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20422

Sahih

(۲۰۴۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ قَالَ قَالَ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : احْتَرِسُوا مِنَ النَّاسِ بِسُوئِ الظَّنِّ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَرْفُوعًا۔ وَالْحَذَرُ مِنْ أَمْثَالِہِ سُنَّۃٌ مُتَّبَعَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١٦) مطرف بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے برے گمان سے بچاؤ اختیار کرو۔

20423

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20423

Zaeef

(۲۰۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ سَیَّارٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِیہِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَائِ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَعَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ أَرَادَ أَنْ یَبْعَثَنِی بِمَالٍ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ یَقْسِمُہُ فِی قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقَالَ : الْتَمِسْ صَاحِبًا قَالَ فَجَائَ نِی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ فَقَالَ بَلَغَنِی أَنَّکَ تُرِیدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا قَالَ قُلْتُ أَجَلْ قَالَ فأَنَا لَکَ صَاحِبٌ قَالَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا قَالَ فَقَالَ لِی مَنْ فَقُلْتُ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ قَالَ : إِذَا ہَبَطْتَ بِلاَدَ قَوْمِہِ فَاحْذَرْہُ فَإِنَّہُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ أَخُوکَ الْبَکْرِیُّ فَلاَ تَأْمَنْہُ ۔ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالأَبْوَائِ قَالَ إِنِّی أُرِیدُ حَاجَۃً إِلَی قَوْمِی بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِی قُلْتُ رَاشِدًا فَلَمَّا وَلَّی ذَکَرْتُ قَوْلَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَشَدَدْتُ عَلَی بَعِیرِی حَتَّی خَرَجْتُ أُوضِعُہُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِالأَصَافِرِ إِذَا ہُوَ یُعَارِضُنِی فِی رَہْطٍ قَالَ وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُہُ فَلَمَّا رَآنِی أَنْ قَدْ فُتُّہُ انْصَرَفُوا وَجَائَ نِی فَقَالَ کَانَتْ لِی إِلَی قَوْمِی حَاجَۃٌ قَالَ قُلْتُ أَجَلْ وَمَضَیْنَا حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا مَکَّۃَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١٧) عبداللہ بن عمرو بن فغو اخزاعی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ تھا کہ مجھے مال دے کر ابوسفیان کے پاس مکہ میں روانہ کریں تاکہ فتح کے بعد تقسیم کیا جاسکے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا ساتھی تلاش کر۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے اور کہنے لگے : آپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھی کی تلاش ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ وہ کہنے لگے : میں تیرا ساتھی ہوں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں نے ساتھی پا لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون ؟ میں نے کہا : عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا : جب آپ کسی قوم کے شہر میں اتریں تو اس سے بچنا، کہنے والا کہے گا : تیرا بھائی بکری ہے، تو اس سے بےخوف نہ ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم ابوا نامی جگہ پر آئے، اس نے کہا : مجھے اپنی قوم میں کچھ ضروری کام ہے۔ آپ میرا انتظار کریں، میں نے کہا : درست ہے، جب وہ چلا گیا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات یاد کی۔ میں اپنے اونٹ پر مضبوطی سے بیٹھ گیا، یہاں تک کہ میں اس کو چھوڑ کر نکل گیا۔ جب میں اصافر نامی جگہ پہنچا۔ اچانک وہ ایک گروہ میں میرے مقابل آگئے۔ کہتے ہیں : میں ان کو چھوڑ کر سبقت لے گیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں ان سے بچ گیا ہوں، وہ چلے گئے۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے اپنی قوم سے کام تھا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھک ہے ہم چلتے ہوئے مکہ آگئے، میں نے مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔

20424

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20424

Sahih

(۲۰۴۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُلْدَغُ مُؤْمِنٌ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَیْنِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔

20425

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20425

Sahih

(۲۰۴۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ شَہَادَۃَ الرَّجُلِ عَلَی الْوَصِیَّۃِ فِی صَحِیفَۃٍ مَخْتُومَۃٍ حَتَّی یَعْلَمَ مَا فِیہَا۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ : أَنَّ أَبَا قِلاَبَۃَ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَشْہَدَ عَلَی الصَّحِیفَۃِ الْمَخْتُومَۃِ قَالَ لَعَلَّ فِیہَا جَوْرًا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ وہ آدمی کے وصیت پر شہادت دینے کو جو مہر شدہ صحیفے میں ہو ناپسند کرتے تھے جب تک معلوم نہ ہو کہ اس میں کیا ہے۔ (ب) ابوقلابہ بھی مہر شدہ صحیفے کے اندر بند چیز کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے۔ شاید کہ اس میں ظلم کیا گیا ہو۔

20426

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20426

Sahih

(۲۰۴۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ فِی الرَّجُلِ یَخْتُمُ عَلَی وَصِیَّتِہِ وَقَالَ اشْہَدُوا عَلَی مَا فِیہَا قَالَ : لاَ یَجُوزُ حَتَّی یَقْرَأَہَا أَوْ تُقْرَأَ عَلَیْہِ فَیُقِرَّ بِمَا فِیہَا۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَ : سُئِلَ سُفْیَانُ عَنْ رَجُلٍ کَتَبَ وَصِیَّتَہُ فَخَتَمَ عَلَیْہَا وَقَالَ اشْہَدُوا بِمَا فِیہَا قَالَ کَانَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی یُبْطِلُہَا قَالَ سُفْیَانُ : وَالْقُضَاۃُ لاَ یُجِیزُونَہَا لَہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٢٠) ابراہیم ایک آدمی کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ وہ وصیت پر مہر لگاتے تھے اور کہتے کہ اس پر گواہ ہوجاؤ۔ فرمایا : جائز نہیں کہ وہ بذات خود پڑھے یا اس کے سامنے پڑھا جائے۔ وہ جو اس میں ہے اس کا اقرار کرے۔ (ب) محمد بن یوسف فرماتے ہیں کہ سفیان سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو وصیت لکھتا پھر اس پر مہر لگاتا اور وہ کہتا، اس پر گواہ بنو جو کچھ اس میں ہے۔ ابن ابی لیلیٰ اس کو باطل خیال کرتے اور قاضی اس کو جائز خیال نہیں کرتے تھے۔