Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 3993

قاضی کے اداب کا بیان

امارت کی کراہت اور جو اپنے کو اس قابل نہ سمجھے یا وہ خیال کرے کہ فرض اس کے بغیر بھی ساقط ہوجائے گا

30 hadiths in this chapter

20217

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20217

Sahih

(۲۰۲۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِیُّ إِمْلاَئً بِمِصْرَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عِیسَی بْنِ مَلُّولٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی ہَاشِمٍ الزَّاہِدُ النَّحْوِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ الْقُرَشِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی سَالِمٍ الْجَیْشَانِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِی : یَا أَبَا ذَرٍّ أُحِبُّ لَکَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِی إِنِّی أَرَاکَ ضَعِیفًا فَلاَ تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلاَ تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیمٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنِ الْمُقْرِئِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۸۲۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١١) سیدنا ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے ابوذر ! میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے۔ میں تجھے کمزور محسوس کرتا ہوں، دو کا امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کا والی بھی نہ بننا۔

20218

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20218

Sahih

(۲۰۲۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی أَبِی بَکْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ قُلْتُ حَدَّثَکُمْ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیدَ الْحَضْرَمِیِّ عَنِ ابْنِ حُجَیْرَۃَ الأَکْبَرِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ اسْتَعْمَلَنِی قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی مَنْکِبِی ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّکَ ضَعِیفٌ وَإِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَإِنَّہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ إِلاَّ مَنْ أَخَذَہَا بِحَقِّہَا وَأَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ فِیہَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ شُعَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۸۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٢) حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے عامل مقرر کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا : اے ابو ذر (رض) ! آپ کمزور ہیں، یہ امانت ہے؛ کیونکہ یہ قیامت کے دن ندامت اور رسوائی کا باعث ہوگی لیکن جس نے اس کا حق ادا کیا۔

20219

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20219

Sahih

(۲۰۲۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَیَّارٍ الْبَزَّازُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ بْنِ الْعُرْیَانِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الإِمَارَۃِ وَإِنَّہَا سَتَکُونُ حَسْرَۃً وَنَدَاَمَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ بخاری ۷۱۴۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم امارت پر حرص کرو گے، حالانکہ یہ قیامت کے دن ندامت اور حسرت کا باعث ہوگی۔ دودھ پلانے والی اچھی ہے اور چھڑوانے والی بری ہے۔ (حکومت کا ملنا اچھا لگتا ہے جب ختم ہو اچھی نہیں لگتی) ۔

20220

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20220

Sahih

(۲۰۲۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِیلُ بْنُ نَجِیدٍ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلاَّ یُؤْتَی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَدُہُ مَغْلُولَۃٌ إِلَی عُنُقِہِ ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دس آدمیوں کا امیر بنا وہ قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے۔

20221

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20221

Zaeef

(۲۰۲۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلاَّ وَہُوَ یُؤْتَی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُولاً حَتَّی یَفُکَّہُ الْعَدْلُ أَوْ یُوبِقَہُ الْجَورُ ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دس آدمیوں کا امیر ہوا، وہ قیامت کے دن بندھا ہوا آئے گا اس کا عدل چھٹکارادلائے گایا ظلم ہلاک کر دے گا۔

20222

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20222

Zaeef

(۲۰۲۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنِی سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمِّرْنِی عَلَی بَعْضِ مَا وَلاَّکَ اللَّہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: یَا عَبَّاسُ یَا عَمَّ رَسُولِ اللَّہِ نَفْسٌ تُنَجِیہَا خَیْرٌ مِنْ إِمَارَۃٍ لاَ تُحْصِیہَا۔ ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ۔ وَقِیلَ عَنْہُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تُوَلِّینِی فَذَکَرَہُ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَحْمَدُ بْنُ قَانِعٍ الْقَاضِی بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْوَلِیدِ السُّلَمِیُّ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ مَوْصُولاً وَالأَوَّلُ أَصَحُّ تَفَرَّدَ بِہِ ہَذَا السُّلَمِیُّ الْبَصْرِیُّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٦) محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : مجھے بھی اس کی امارت عطا کردیں جس کا اللہ نے آپ کو والی بنایا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا عباس (رض) ! نفس کو نجات ملے جائے یہ امارت سے بہتر ہے۔ آپ اس کا شمار نہ کریں۔ (ب) محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے امارت نہ دیں گے۔

20223

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20223

Zaeef

(۲۰۲۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا أَبُوالْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّیِّبِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَایَعْتُہُ عَلَی الإِسْلاَمِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ فِیہِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْزِلاً فَأَتَاہُ أَہْلُ ذَلِکَ الْمَنْزِلِ یَشْکُونَ عَامِلَہُمْ وَیَقُولُونَ أَخَذَنَا بِشَیْئٍ کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِہِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: أَوَفَعَلَ ذَلِکَ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ۔ فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی أَصْحَابِہِ وَأَنَا فِیہِمْ فَقَالَ: لاَ خَیْرَ فِی الإِمَارَۃِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٧) زیاد بن نعیم حضرمی کہتے ہیں : زیاد بن حارث صدائی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ، اسلام پر بیعت کی۔ ہمیں حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا وہاں کے لوگ اپنے عامل کی شکایت کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے : اس نے ہم سے ایسی چیزیں بھی لی ہے جو ہمارے اور قریشیوں کے درمیان جاہلیت میں معاہدہ میں تھیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ آپ نے فرمایا : مومن آدمی کے لیے امارت میں بھلائی نہیں ہے۔

20224

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20224

Sahih

(۲۰۲۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَنْبَأَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو کَشْمَرْدُ أَنْبَأَنَا الْقَعْنَبِیُّ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الطَّہْمَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ فَضْلُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَنْبَأَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عُثْمَانَ الأَخْنَسِیِّ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ جُعِلَ عَلَی الْقَضَائِ فَکَأَنَّمَا ذَبَحَ نَفْسَہُ بِغَیْرِ سِکِّینٍ ۔ وَقَالَ ابْنُ أَیُّوبَ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَخْنَسِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو عہدہ قضا سونپ دیا گیا وہ بغیر چھری ذبح کردیا گیا۔

20225

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20225

Sahih

(۲۰۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ وَعَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ قَعَدَ قَاضِیًا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّینٍ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢١٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمانوں کا قاضی بن کر بیٹھا وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔

20226

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20226

Sahih

(۲۰۲۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی عَمْرٍو عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ وُلِّیَ الْقَضَائَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّینٍ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٠) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قاضی بنادیا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔

20227

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20227

Zaeef

(۲۰۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْعَلاَئِ الْیَشْکُرِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سَرْجِ بْنِ عَبْدِ الْقَیْسِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَذُکِرَ عِنْدَہَا الْقُضَاۃُ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : یُؤْتَی بِالْقَاضِی الْعَدْلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَلْقَی مِنْ شِدَّۃِ الْحِسَابِ مَا یَتَمَنَّی أَنَّہُ لَمْ یَقْضِ بَیْنَ اثْنَیْنِ فِی تَمْرَۃٍ قَطُّ ۔ کَذَا فِی کِتَابِی عُمَرُ بْنُ الْعَلاَئِ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢١) عمران بن حطان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے سنا، ان کے پاس قاضی کے عہدہ کا تذکرہ کیا گیا۔ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : قیامت کے دن عادل قاضی کو لایا جائے گا وہ شدت حساب کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ ایک کھجور کا بھی فیصلہ دو کے درمیان نہ کرتا۔

20228

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20228

Zaeef

(۲۰۲۲۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ حِجَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلاَئِ الْیَشْکُرِیُّ عَنْ صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یُؤْتَی بِالْقَاضِی الْعَادِلِ ۔ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٢) عمران بن حطان حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عادل قاضی کو لایا جائے گا۔ اس کی مثل ذکر کیا ہے۔

20229

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20229

Zaeef

(۲۰۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رُبَّمَا ذَکَرَ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَا مِنْ حَکَمٍ یَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ إِلاَّ وُکِّلَ بِہِ مَلَکٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ حَتَّی یَقِفَ بِہِ عَلَی شَفِیرِ جَہَنَّمَ فَیَرْفَعَ رَأْسَہُ إِلَی اللَّہِ فَإِنْ أَمَرَہُ أَنْ یَقْذِفَہُ قَذَفَہُ فِی مَہْوًی أَرْبَعِینَ خَرِیفًا ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٣) مسروق حضرت عبداللہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں، کبھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جو اس کی گدی سے پکڑے رکھتا ہے اور جہنم کے کنارے کھڑا رکھتا ہے اور اپنا سر اللہ کی طرف اٹھاتا ہے۔ اگر اللہ حکم دیں تو جہنم کی چالیس سالہ گہرائی میں پھینک دیتا ہے۔

20230

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20230

Zaeef

(۲۰۲۲۴) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَنْبَأَنَا ہِشَامٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِی عَلِیٍّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : وَیْلٌ لِلأُمَرَائِ وَوَیْلٌ لِلْعُرَفَائِ وَوَیْلٌ لِلأُمَنَائِ لَیَتَمَنَّیَنَّ أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَّ نَوَاصِیَہُمْ مُعَلَّقَۃٌ بِالثُّرَیَّا یَتَخَلْخَلُونَ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ وَأَنَّہُمْ لَمْ یَلُوا عَمَلاً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٤) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : امراء، چوہدریوں اور امینوں کے لیے ہلاکت ہے۔ قیامت کے دن لوگ تمنا کریں گے کہ ان کی پیشانیاں ثر یا ستارے سے باندھ دی جائیں، وہ آسمانوں و زمین کے درمیان لٹکتے رہیں لیکن وہ کسی کام پر والی نہ بنتے ۔

20231

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20231

Zaeef

(۲۰۲۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ذَوَائِبُہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا یَتَذَبْذَبُونَ۔[ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٥) ہشام اپنی سند سے اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی پیشانی کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھے ہوئے تھے وہ درمیان میں جھول رہے تھے۔

20232

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20232

Zaeef

(۲۰۲۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ أَبِی عَلِیٍّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْعَرَافَۃُ أَوَّلُہَا مَلاَمَۃٌ وَآخِرُہَا نَدَامَۃٌ وَالْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قُلْتُ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ إِلاَّ مَنِ اتَّقَی اللَّہَ مِنْہُمْ۔ قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُکَ کَمَا سَمِعْتُ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ چوہدراہٹ ابتدائی طور پر ملامت کا باعث ہے، آخر میں ندامت اور قیامت کے دن عذاب کا باعث ہے۔ ابوحازم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے کہا : ان میں سے جو اللہ سے ڈرتا رہا ؟ فرمایا : میں ویسے بیان کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔

20233

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20233

Sahih

(۲۰۲۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فِی قِصَّۃِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ وَجَائَ النَّاسُ یُثْنُونَ عَلَیْہِ وَجَائَ رَجُلٌ شَابٌّ فَقَالَ أَبْشِرْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ بِبُشْرَی اللَّہِ لَکَ مِنْ صُحْبَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدَمٍ فِی الإِسْلاَمِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ وَلِیتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ الشَّہَادَۃُ قَالَ یَا ابْنَ أَخِی وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِکَ کَفَافٌ لاَ عَلَیَّ وَلاَ لِیَ فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا إِزَارُہُ یَمَسُّ الأَرْضَ فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ الْغُلاَمَ۔ قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ارْفَعْ ثَوْبَکَ فَإِنَّہُ أَنْقَی لِثَوْبِکَ وَأَتْقَی لِرَبِّکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٧) حضرت عمرو بن میمون حضرت عمر بن خطاب (رض) کے قتل کے قصہ کے بارے میں بیان کیا کہ ہم ان کے پاس آئے تو لوگ ان کی تعریف کر رہے تھے۔ ایک نوجوان آدمی آیا۔ اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ کو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت سے نوازا اور اسلام کو قبول کیا جب جانا۔ پھر آپ نے امیر بن کر انصاف کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! یہ برابر ہی ہوجائے نہ ثواب نہ عذاب اتنا ہی کافی ہے۔ جب وہ واپس چلا تو اس کی چادر زمین کو چھو رہی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جوان کو واپس لاؤ۔ اے بھتیجے ! اپنا کپڑا اوپر اٹھاؤ۔ یہ آپ کے کپڑے کی صفائی کے زیادہ مناسب ہے اور آپ کے رب کی رضا بھی ہے۔

20234

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20234

Sahih

(۲۰۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَنْبَأَنَا عُقْبَۃُ یَعْنِی ابْنَ عَلْقَمَۃَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی سِمَاکٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ أَبْشِرْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَدْ مَصَّرَ بِکَ الأَمْصَارَ وَدَفَعَ بِکَ النِّفَاقَ وَأَفْشَی بِکَ الرِّزْقَ فَقَالَ عُمَرُ أَفِی الإِمَارَۃِ تُثْنِی عَلَیَّ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَفِی غَیْرِہَا۔ قَالَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی خَرَجْتُ مِنْہَا کَمَا دَخَلْتُ فِیہَا لاَ أَجْرَ وَلاَ وِزْرَ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٨) سماک فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : جب عمر بن خطاب (رض) زخمی کیے گئے۔ میں ان کے پاس گیا۔ میں نے کہا : امیرالمومنین ! خوش ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے شہر تعمیر یا آباد کروائے۔ نفاق کو دور کیا اور رزق کو عام کیا تو حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : اے ابن عباس (رض) ! کیا میری امارت کی تعریف کرنا چاہتے ہو۔ فرمایا : ہاں اس کے علاوہ بھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میری یہ چاہت ہے جیسے میں داخل ہوا ۔ اس میں ویسے ہی نکل جاؤں۔ ثواب اور گناہ نہ ہو۔

20235

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20235

Sahih

(۲۰۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ قَالَ : کَانَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ رَجُلاً یَصُومُ فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ وَہُوَ یَأْکُلُ خُبْزًا وَسَلْقًا فَقَالَ لَہُ تَعَالَ فَکُلْ قَالَ فَسَأَلَہُ الرَّجُلُ عَنْ شَیْئٍ قَالَ مَا لَکَ ظَنَنْتُ أَنَّہُ مِنْ أَمْرِ الْقَضَائِ فَقَالَ لَہُ سَعِیدٌ : أَرَاکَ أَحْمَقَ اذْہَبْ إِلَی الْقَاضِی الَّذِی أُجْلِسَ لِہَذَا أَتَرَانِی أَنِّی کُنْتُ أَشْغَلُ نَفْسِی بِہَذَا أَوْ قَالَ بِکَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٢٩) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب روزہ رکھتے تھے۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا جو روٹی اور حلوہ کھا رہا تھا۔ اس نے کہا : آؤ کھاؤ۔ کہتے ہیں : آدمی نے کسی چیز کا سوال کیا۔ میرا خیال ہے قضاۃ کے امور میں سے کسی کا سوال کیا تو سعید نے فرمایا : بیوقوف ! قاضی کے پاس جاؤ، جو اس کام کے لیے بٹھائے گئے ہیں، کیا میں اپنے آپ کو اس کام میں مصروف کر دوں یا تجھے بھی۔

20236

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20236

Sahih

(۲۰۲۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ قَالَ أَیُّوبُ : وَجَدْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِالْقَضَائِ أَشَدَّ النَّاسِ مِنْہُ فِرَارًا وَأَشَدَّہُمْ مِنْہُ فَرَقًا ثُمَّ قَالَ وَمَا أَدْرَکْتُ أَحَدًا کَانَ أَعْلَمَ بِالْقَضَائِ مِنْ أَبِی قِلاَبَۃَ لاَ أَدْرِی مَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ فَکَانَ یُرَادُ عَلَی الْقَضَائِ فَیَفِرُّ إِلَی الشَّامِ مَرَّۃً وَیَفِرُّ إِلَی الْیَمَامَۃِ مَرَّۃً وَکَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَی الْبَصْرَۃِ کَانَ کَالْمُسْتَخْفِی حَتَّی یَخْرُجَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٠) ایوب فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ قاضی کے عہدہ سے وہی بھاگتا ہے، جو اسے لوگوں سے زیادہ جانتا ہے اور ابو قلابہ سے بڑھ کر اس کو کوئی نہیں جانتا۔ محمد بن سیرین کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا گیا تو ایک مرتبہ شام کی طرف اور دوسری دفعہ یمامہ بھاگ گئے اور جب بصرہ آئے تو چھپ کر رہتے ، یہاں تک وہاں سے نکل جاتے۔

20237

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20237

Sahih

(۲۰۲۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ قَالَ : إِنَّمَا مَثَلُ الْقَاضِی کَمَثَلِ رَجُلٍ یَسْبَحُ فِی الْبَحْرِ فَکَمْ عَسَی یَسْبَحُ حَتَّی یَغْرَقَ۔ قَالَ وَطُلِبَ أَبُو قِلاَبَۃَ لِلْقَضَائِ فَہَرَبَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣١) ایوب ابو قلابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی کی مثال ایسے آدمی کی طرح جو سمندر میں تیرتا ہے، وہ کتنی دیر تیرتا رہے گا یہاں تک کہ غرق ہوجائے گا۔ ابوقلابہ کو قاضی کے عہدہ کے لیے طلب کیا گیا تو وہ بھاگ گئے۔

20238

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20238

Zaeef

(۲۰۲۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا الأَخْنَسِیُّ أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی الصَّہْبَائِ التَّیْمِیِّ قَالَ: جِئْتُ وَإِذَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَائِمٌ یُصَلِّی فَلَمَّا رَآنِی أَخَفَّ الصَّلاَۃَ ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ فِی مَجْلِسِ الْقَضَائِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَیَّ أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَۃٌ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ مُسَلِّمٌ فَذَہَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَہُ ثُمَّ أَتَانِی فَقَالَ لِی قُمْ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّی لَمْ أَجْلِسْ لِہَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِی ابْتَلَیْتَنِی بِہِ وَقَدَّرْتَہُ عَلَیَّ إِلاَّ وَأَنَا أَکْرَہُہُ وَأُبْغِضُہُ فَاکْفِنِی شَرَّ عَوَاقِبِہِ قَالَ ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَۃً نَظِیفَۃً فَوَضَعَہَا عَلَی وَجْہِہِ فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتَّی قُمْتُ قَالَ فَمَکَثَ مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ وَلِیَ بَعْدَہُ ابْنُ شُبْرُمَۃَ قَالَ فَجِئْتُ فَإِذَا ہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فَلَمَّا رَآنِی أَخَفَّ الصَّلاَۃَ ثُمَّ بَعَثَ إِلَیَّ أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَۃٌ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ مُسَلِّمٌ فَذَہَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَہُ ثُمَّ أَتَانِی فَقَالَ لِی قُمْ فَقُمْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ وَجَلَسْتُ إِلَی جَنْبِہِ فَقَالَ حَدِّثْنِی حَدِیثَ أَخِی مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ فَحَدَّثْتُہُ الْحَدِیثَ فَقَالَ اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّی لَمْ أَجْلِسْ ہَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِی ابْتَلَیْتَنِی بِہِ إِلاَّ وَأَنَا أُحِبُّہُ وَأَشْتَہِیہِ فَاکْفنِیِ شَرَّ عَوَاقِبِہِ ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَۃً نَظِیفَۃً فَوَضَعَہَا عَلَی وَجْہِہِ فَمَا زَالَ یَبْکِی حَتَّی قُمْتُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٢) ابو صہبا تیمی فرماتے ہیں کہ میں محارب بن دثار کے پاس آیا۔ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، جب انھوں نے مجھے دیکھاتو نماز کو ہلکا کردیا۔ پھر قضاۃ کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے۔ پھر میری طرف کسی کو روانہ کیا۔ پوچھا : کیا جھگڑا لے کر آئے ہو سلام کرنے والے ہو یا کوئی اور ضرورت ہے ؟ میں نے کہا : صرف سلام کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی۔ پھر میرے پاس آیا اور کہا : کھڑے ہوجاؤ۔ کہتے ہیں : میں نے سلام کہا۔ اس نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی۔ پھر کہا : اے اللہ ! تو جانتا ہے میں اس مجلس کی چاہت نہ رکھتا تھا، جس کے ذریعہ تو نے میری آزمائش کی۔ اے اللہ ! اس کے برے انجام سے محفوظ فرما۔ پھر اس نے کپڑے کا ٹکڑا نکالا، چہرے پر رکھ کر روتے رہے۔ یہاں تک کہ میں کھڑا ہوگیا۔ راوی فرماتے ہیں : جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ رہے۔ پھر ابن شبرمہ قاضی بنے۔ پھر میں ان کے پاس آیا۔ اچانک وہ بھی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب انھوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کردیا۔ پھر میری طرف قاصد آیا اور کہنے لگا۔ کیا جھگڑا لے کر آئے ہو یا سلام کی غرض سے یا کوئی اور ضرورت ہے ؟ میں نے کہا : صرف سلام کی غرض سے آیا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی۔ پھر میرے پاس آکر کہا : اٹھو۔ میں نے جا کر سلام کیا اور ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے کہا میرے بھائی محارب بن دثار کی بات بیان کرو۔ میں نے کہا اس نے کہا تھا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں محبت اور شوق سے نہیں بیٹھا۔ مجھے اس کے برے انجام سے کفایت کر جانا۔ پھر ایک کپڑے کا صاف ٹکڑا نکالا، چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہوگیا۔

20239

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20239

Sahih

(۲۰۲۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ الْکِسَائِیُّ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عِیسَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَرُوضِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاجَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ یَقُولُ: لَمَّا وَلِیَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ الْقَضَائَ قِیلَ لِلْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ أَلاَ تَأْتِیہِ قَالَ وَاللَّہِ مَا نَالَ عِنْدِی غَنِیمَۃً فَأُہَنِّیَہُ عَلَیْہَا وَلاَ أُصِیبَ عِنْدَ نَفْسِہِ بِمُصِیبَۃٍ فَأُعَزِّیَہُ عَلَیْہَا وَمَا کُنْتُ زَوَّارًا لَہُ قَبْلَ الْیَوْمِ فَأَزُورَہُ الْیَوْمَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٣) ابوجعفرطحاوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر محمد بن عباس سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : جب محارب بن دثار قاضی بنے تو حکم بن عتیبہ سے کہا گیا : آپ میرے پاس کیوں نہیں آئے ؟ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میرے نزدیک اس نے مال تو حاصل نہیں کیا کہ میں اس کو مبارک باد دوں اور نہ کوئی مصیبت آئی کہ میں اس پر تعزیت کروں۔ اس سے پہلے میں ان کی زیارت نہ کرتا کہ آج زیارت کے لیے جاؤں۔

20240

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20240

Sahih

(۲۰۲۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَبُو نُعَیْمٍ : خَرَجَ شُرَیْحٌ مِنْ عِنْدِ زِیَادٍ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ فَقَالَ کَبِرَتْ سِنُّکَ وَرَقَّ عَظْمُکَ وَارْتَشَی ابْنُکَ قَالَ فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ مَنْ قَالَ لَکَ قَالَ لاَ أَعْرِفُہُ فَأَعْفِنِی قَالَ لاَ أَعْفِیکَ حَتَّی تُشِیرَ عَلَیَّ بِرَجُلٍ فَأَشَارَ عَلَیْہِ بِأَبِی بُرْدَۃَ فَوَلاَّہُ الْقَضَائَ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٤) ابونعیم فرماتے ہیں کہ قاضی شریح زیاد کے پاس سے نکلے۔ ان کو ایک آدمی ملا۔ کہنے لگا : آپ کی عمر بڑھ گئی۔ ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور بچے کمزور۔ وہ زیاد کے پاس گئے، ان کو خبر دی۔ اس نے کہا : آپ کو کس نے کہا ؟ کہنے لگا : میں اس کو پہچانتا نہیں لیکن اس نے مجھے راحت دی۔ زیاد کہتے ہیں : پہلے آدمی کی طرف اشارہ کرو، اس نے ابوبردہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے اس کو قاضی بنادیا۔

20241

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20241

Sahih

(۲۰۲۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ : کَانَ قَعْنَبٌ التَّمِیمِیُّ قَدْ دَعَاہُ وَالٍ فَوَلاَّہُ الْقَضَائَ فَأَبَی عَلَیْہِ فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی قَبِلَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ بِعَہْدِہِ رَمَی بِہِ وَتَوَارَی قَالَ فَأَرْسَلَ الْوَالِی فِی طَلَبِہِ فَبَیْنَمَا ہُمْ یَطْلُبُونَہُ إِذْ سَقَطَ عَلَیْہِ الْبَیْتُ الَّذِی کَانَ فِیہِ مُتَوَارِیًا فَلَمْ یَشْعُرُوا إِلاَّ وَقَدْ خَرَجَ عَلَیْہِمْ بِجَنَازَتِہِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٥) سفیان فرماتے ہیں کہ قعنب تیمی کو والی نے بلایا اور اس کو قضاۃ کا عہدہ دینے لگے تو اس نے انکار کردیا۔ بار بار اصرار کے بعد عہدہ دے دیا گیا۔ جب ان کے پاس سے نکلے تو عہدہ چھوڑ دیا اور چھپ گئے تو امیر نے اس کی تلاش میں آدمی روانہ کیے۔ وہ تلاش کر رہے تھے کہ گھر کی چھت گر پڑی جس کے اندر وہ چھپے ہوئے تھے، ان کو پتہ بھی نہ تھا۔ اس وقت پتہ چلا جب اس کا جنازہ لایا گیا۔

20242

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20242

Sahih

(۲۰۲۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ قَالَ قَالَ اللَّیْثُ قَالَ لِی أَبُو جَعْفَرٍ : تَلِی لِی مِصْرَ قُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی أَضْعَفُ مِنْ ذَلِکَ وَإِنِّی رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِی فَقَالَ مَا بِکَ مِنْ ضَعْفٍ مَعِی وَلَکِنْ ضَعَفَتْ نِیَّتُکَ فِی الْعَمَلِ لِی عَلَی ذَلِکَ أَتُرِیدُ قُوَّۃً أَقْوَی مِنِّی وَمِنْ عَمَلِی فَأَمَّا إِذَا أَبَیْتَ فَدُلَّنِی عَلَی رَجُلٍ أُقَلِّدُہُ أَمْرَ مِصْرَ قُلْتُ عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ الْجُذَامِیُّ رَجُلٌ لَہُ صَلاَحٌ وَلَہُ عَشِیرَۃٌ قَالَ فَبَلَغَہُ ذَلِکَ فَعَاہَدَ اللَّہَ أَنْ لاَ یُکَلِّمَ اللَّیْثَ بْنَ سَعْدٍ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٦) لیث فرماتے ہیں کہ ابوجعفر نے مجھے کہا : میری جانب سے مصر کے قاضی بن جاؤ۔ میں نے کہا اے امیرالمومنین ! میں کمزور آدمی ہوں۔ میں غلام ہوں۔ کہنے لگے : آپ کمزور نہیں، صرف آپ کی نیت میرے ساتھ کام کرنے میں کمزور ہے۔ کیا آپ مجھ سے زیادہ قوت چاہتے ہیں اور میرے کام سے بڑا کام چاہتے ہیں ؟ کہنے لگے : اگر آپ انکاری ہیں تو میری رہنمائی ایسے آدمی کی طرف کرو کہ میں مصر کی امارت اس کو سونپ دوں۔ میں نے کہا : عثمان بن حکم جذامی نیک آدمی ہے۔ اس کا قبیلہ بھی ہے۔ جب اس کو یہ بات پہنچی تو اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ لیث بن سعد سے کلام نہ کرے گا۔

20243

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20243

Zaeef

(۲۰۲۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أَحْمَدَ وَہُوَ الْحَافِظُ الْبُخَارِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی عَمْرٍو الطَّوَاوِیسِیُّ یَقُولُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْہَرِ بَلَغَنِی عَنْ أَبِی یُوسُفَ قَالَ لَمَّا مَاتَ سَوَّارٌ قَاضِی أَہْلِ الْبَصْرَۃِ دَعَا أَبُو جَعْفَرٍ یَعْنِی الْمَنْصُورَ أَبَا حَنِیفَۃَ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ سَوَّارًا قَدْ مَاتَ وَإِنَّہُ لاَ بُدَّ لِہَذَا الْمِصْرِ یَعْنِی مِنْ قَاضٍ فَاقْبَلِ الْقَضَائَ فَقَدْ وَلَّیْتُکَ قَضَائَ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنِّی لاَ أُصْلِحُ لِلْقَضَائِ وَوَاللَّہِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَئِنْ کُنْتُ صَادِقًا فَمَا یَسَعُکَ أَنْ تَسْتَقْضِیَ رَجُلاً لاَ یُصْلِحُ لِلْقَضَائِ وَلَئِنْ کُنْتُ کَاذِبًا فَمَا یَسَعُکَ أَنْ تَسْتَقْضِیَ رَجُلاً کَذَّابًا وَإِنَّہُ لاَ یَصْلُحُ لِہَذَا الأَمْرِ إِلاَّ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ وَقَدْ أَصْبَحْتُ مُخَالِفًا لَکَ قَالَ فَقَالَ لَہُ أَبُو جَعْفَرٍ : صَدَقْتَ إِنَّکَ قُلْتَ لاَ یَصْلُحُ لِہَذَا الأَمْرِ إِلاَّ مِثْلَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ فَتِلْکَ {أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ} [البقرۃ ۱۳۴]الآیَۃَ وَأَمَّا قَوْلُکَ إِنَّہُ لاَ یَصْلُحُ لِہَذَا الأَمْرِ إِلاَّ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فَإِنْ نَأْخُذُ بِمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِہِ {إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ} [الحجرات ۱۳] وَلَیْسَ عَلَیْنَا إِلاَّ الْجُہْدُ فِی أَہْلِ زَمَانِنَا وَأَمَّا قَوْلُکَ إِنَّکَ أَصْبَحْتَ مُخَالِفًا لِی فَإِنَّ الرَّأْیَ یُخَالِفُ الرَّأْیَ فَاقْبَلْ ہَذَا الأَمْرَ فَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَئِنْ خَلَّیْتَ عَنِّی وَإِلاَّ لَبَّیْتُ مَکَانِی السَّاعَۃَ فَمَا یَسَعُکَ أَنْ تَحْبِسَ مُلَبِّیًا قَالَ فَخَلَّی عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٧) ابویوسف فرماتے ہیں : بصرہ کے قاضی سوار فوت ہوگئے تو ابوجعفر منصور نے ابوحنیفہ (رح) کو بلایا اور کہا : بصرہ کے قاضی سوار فوت ہوگئے، اس شہر کے لیے قاضی کی ضرورت ہے۔ میں آپ کو عہدہ قضاء سونپ دیتا ہوں قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ (رح) کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میں عہدہ قضاء کے لائق نہیں ہوں، اے امیرالمومنین ! اگر میں سچ بولتا ہوں تو پھر ایسے آدمی کو قضاء کا عہدہ دینا مناسب نہیں جو اس کا لائق نہیں ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو کذاب آدمی کو عہدہ قضانہ دیں۔ کسی عرب کے آدمی کے لیے یہ عہدہ مناسب ہے۔ میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ منصور نے کہا : تو نے سچ کہا کہ اس عہدہ کے مناسب ابوبکر، عمر (رض) کی طرح کے لوگ تھے۔ { أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ } [البقرۃ ١٣٤]” یہ امت تھی جو گزر گئی ان کے لیے ہے جو انھوں نے کمایا۔ “ آپ کا یہ کہنا کہ عرب کے لوگ اس کے لائق ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ } [الحجرات ١٣] ” اللہ کے ہاں معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ “ اپنے زمانہ میں کوشش کرنا ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ تو نے میری مخالفت مول لی رائے تو ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتی ہے، اس امر کو قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اے امیرالمومنین ! میرا راستہ چھوڑ دیں، وگرنہ میں اپنی اس جگہ سے قیامت تک تلبیہ کہنا شروع کردوں گا۔ پھر آپ تلبیہ کہنے والے کو روک سکیں گے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے راستہ چھوڑ دیا۔

20244

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20244

Sahih

(۲۰۲۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ : دَخَلَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَجَعَلَ یَتَجَانَنُ عَلَیْہِمْ وَیَمْسَحُ الْبِسَاطَ وَیَقُولُ مَا أَحْسَنَہُ مَا أَحْسَنَہُ بِکَمْ أَخَذْتُمْ ہَذَا ثُمَّ قَالَ الْبَوْلَ الْبَوْلَ حَتَّی أُخْرِجَ یَعْنِی أَنَّہُ احْتَالَ لِیَتَبَاعَدَ مِنْہُمْ وَیَسْلَمَ مِنْ أَمْرِہِمْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری امیرالمومنین کے پاس گئے۔ اپنے آپ کو پاگل ظاہر کر رہے تھے اور چٹائی کو چھو رہے تھے اور کہہ رہے تھے : یہ کتنی خوبصورت ہے، یہ کتنی خوبصورت ہے۔ تم نے یہ کتنے میں لی ہے ؟ پھر کہنے لگے : پیشاب، پیشاب۔ یہاں تک کہ نکل گئے۔ تاکہ ان کے معاملے سے دور رہیں اور محفوظ رہیں۔

20245

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20245

Sahih

(۲۰۲۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ یَعِیشَ قَالَ وَقَالَ رَجُلٌ یَمْدَحُ سُفْیَانَ تَحَرَّزَ سُفْیَانُ وَفَرَّ بِدِینِہِ وَأَمْسَی شَرِیکٌ مَرْصِدًا لِلدَّرَاہِمِ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٣٩) عبید بن یعیش فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سفیان کی مدح کررہا تھا۔ سفیان نے بچاؤ اختیار کیا اور اپنے دین کو لے کر نکلے اور شریک نے اس کے دراہم کو گا ت لگائی۔

20246

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20246

Sahih

(۲۰۲۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالَ سَمِعْتُ وَالِدِی یَقُولُ سَمِعْتُ (ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْمُفَسِّرُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ الأَرْغَیَانِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یُونُسَ بْنَ عَبْدِ الأَعْلَی یَقُولُ : کَتَبَ الْخَلِیفَۃُ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ فِی قَضَائِ مِصْرَ فَجَنَّنَ نَفْسَہُ وَلَزِمَ الْبَیْتَ وَأَرَادَ أَنْ یَتَوَضَّأَ فِی وَسَطِ الدَّارِ فَاطَّلَعَ عَلَیْہِ رِشْدِینُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ السَّطْحِ فَقَالَ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَلاَ تَخْرُجُ إِلَی النَّاسِ فَتَحْکُمَ بَیْنَہُمْ بِمَا أَمَرَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ قَدْ جَنَّنْتَ نَفْسَکَ وَلَزِمْتَ الْبَیْتَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ وَقَالَ إِلَی ہَا ہُنَا انْتَہَی عِلْمُکَ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقُضَاۃَ یُحْشَرُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ السَّلاَطِینِ وَیُحْشَرُ الْعُلَمَائُ مَعَ الأَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِینَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٤٠) یونس بن عبدالاعلیٰ فرماتے ہیں کہ خلیفہ نے عبداللہ بن وہب کو مصر کے عہدہ قضاء کے لیے لکھا تو انھوں نے اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا۔ ایک دن گھر کے درمیان وضو کرنے لگے تو چھت سے رشدین بن سعد نے دیکھ لیا اور کہا : اے ابومحمد ! کیا لوگوں کی طرف نکل کر فیصلہ نہ کرو گے جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپ نے اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا ہے۔ انھوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا تیرے علم کی انتہا یہی ہے۔ کیا تو جانتا نہیں ہے کہ قاضی کا حشر قیامت کے دن بادشاہوں کے ساتھ ہوگا اور علماء کا حشر انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہوگا۔