Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3721

جزیہ کا بیان

ان پر شرط لاگو کریں اگر کسی نے مسلمہ عورت سے زنا یا نکاح کیا یا کسی مسلمان پر ڈاکہ ڈالا یا کسی مسلمان کو دین کے بارے آزمائش میں ڈالا یا مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی مدد کی تو عہد ختم شافعی (رض) فرماتے ہیں : اہل سیر کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بنو قینقاع اور نب

2 hadiths in this chapter

18717

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18717

Zaeef

(١٨٧١١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : ہَذَا حَدِیثُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ خَرَجَ إِلَی بَنِی النَّضِیرِ یَسْتَعِینُہُمْ فِی عَقْلِ الْکِلاَبِیَّیْنِ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِلَی بَنِی النَّضِیرِ یَسْتَعِینُہُمْ فِی عَقْلِ الْکِلاَبِیَّیْنِ وَکَانُوا زَعَمُوا قَدْ دَسُّوا إِلَی قُرَیْشٍ حِینَ نَزَلُوا بِأُحُدٍ فِی قِتَالِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَضُّوہُمْ عَلَی الْقِتَالِ وَدَلُّوہُمْ عَلَی الْعَوْرَۃِ فَلَمَّا کَلَّمَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی عَقْلِ الْکِلاَبِیَّیْنِ قَالُوا اجْلِسْ أَبَا الْقَاسِمِ حَتَّی تَطْعَمَ وَتَرْجِعَ بِحَاجَتِکَ وَنَقُومَ فَنَتَشَاوَرَ وَنُصْلِحَ أَمْرَنَا فِیمَا جِئْتَنَا لَہُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَنْ مَعَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ فِی ظِلِّ جِدَارٍ یَنْتَظِرُ أَنْ یُصْلِحُوا أَمْرَہُمْ فَلَمَّا خَلَوْا وَالشَّیْطَانُ مَعَہُمْ لاَ یُفَارِقُہُمُ ائْتَمَرُوا بِقَتْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : لَنْ تَجِدُوہُ أَقْرَبَ مِنْہُ الآنَ فَاسْتَرِیحُوا مِنْہُ تَأْمَنُوا فِی دِیَارِکُمْ وَیُرْفَعُ عَنْکُمُ الْبَلاَئُ فَقَالَ رَجُلٌ : إِنْ شِئْتُمْ ظَہَرْتُ فَوْقَ الْبَیْتِ وَدَلَّیْتُ عَلَیْہِ حَجَرًا فَقَتَلْتُہُ فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَیْہِ فَأَخْبَرَہُ بِمَا ائْتَمَرُوا مِنْ شَأْنِہِ فَعَصَمَہُ اللَّہُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَأَنَّہُ یُرِیدُ یَقْضِی حَاجَۃً وَتَرَکَ أَصْحَابَہُ فِی مَجْلِسِہِمْ وَانْتَظَرَہُ أَعْدَائُ اللَّہِ فَرَاثَ عَلَیْہِمْ وَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فَسَأَلُوہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَقِیتُہُ قَدْ دَخَلَ أَزِقَّۃَ الْمَدِینَۃِ فَقَالُوا لأَصْحَابِہِ : عَجِلَ أَبُو الْقَاسِمِ أَنْ نُقِیمَ أَمْرَنَا فِی حَاجَتِہِ الَّتِی جَائَ بِہَا ثُمَّ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَجَعُوا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِالَّذِی جَائَ أَعْدَائُ اللَّہِ فَقَالَ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ ہَمَّ قَوْمٌ أَنْ یَبْسُطُوا إِلَیْکُمْ أَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَعَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ } [المائدۃ ١١] فَلَمَّا أَظْہَرَ اللَّہُ رَسُولَہُ عَلَی مَا أَرَادُوا بِہِ وَعَلَی خِیَانَتِہِمْ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ أَمَرَ بِإِجْلاَئِہِمْ وَإِخْرَاجِہِمْ مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَسِیرُوا حَیْثُ شَائُ وا إِلَی آخَرِ الْحَدِیثِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧١١) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، جب آپ بنو نضیر کے پاس گئے اور ان سے کلابین کی دیت میں مددمانگ رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ کلابین کی دیت میں ان سے مدد چاہی اور مسلمانوں کا گمان تھا کہ انھوں نے قریشیوں سے مل کر غزوہ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کی۔ ان کو قتال پہ ابھارا اور راز بتاتے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کلابین کی دیت کے بارے میں بات چیت کی تو انھوں نے کہا : اے ابو القاسم ! آپ تشریف رکھیں، کھانا کھائیں۔ ہم اس معاملہ میں مشورہ کرلیں جس کے لیے آپ تشریف لائے ہیں۔ آپ صحابہ کے ساتھ دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ وہ اپنے معاملہ میں صلاح مشورہ کرلیں۔ انھوں نے الگ ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کا مشورہ کرلیا اور کہنے لگے : اس سے راحت حاصل کرو اپنے گھروں میں امن سے رہو۔ تمہاری مصیبت ختم ہوجائے گی۔ ایک شخص نے کہا : اگر تم چاہو تو میں چھت سے اس کے اوپر پتھر گرا کر قتل کر ڈالوں۔ ادھر اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی اطلاع دے کر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محفوظ کرلیا۔ آپ اپنے صحابہ کو وہاں چھوڑ کر یوں نکلے جیسے قضائے حاجت کے لیے جایا جاتا ہے اور اللہ کے دشمنوں نے آپ کا انتظار کیا، لیکن آپ نے واپس آنے میں دیر کی تو انھوں نے مدینہ سے آنے والے ایک شخص سے آپ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ تو مدینہ کی گلی میں داخل ہو رہے تھے تو انھوں نے صحابہ سے کہا کہ آپ نے تو دیر فرما دی۔ ہم اس معاملہ میں مشورہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب صحابہ واپس آگئے تو قرآن کا نزول ہوا، اللہ خوب جانتا ہے جو اللہ کے دشمنوں نے تدبیر کی، فرمایا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ھَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَھُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ } [المائدۃ ١١] اے ایمان والو ! جو اللہ نے تمہارے اوپر احسان کیا اس کو یاد کرو جب اللہ نے ایک قوم کے ہاتھ تم سے روکے۔ اللہ سے ڈرو اور مومن توکل کریں۔ جب اللہ نے ان کے ارادہ کو ظاہر کردیا اور ان کی خیانت کو تو انھیں جلا وطن کردیا گیا اور کہا گیا : جہاں چاہو چلے جاؤ۔

18718

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18718

Zaeef

(١٨٧١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ الأَزْدِیُّ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : کُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ بِالشَّامِ فَأَتَاہُ نَبَطِیٌّ مَضْرُوبٌ مُشَجَّجٌ مُسْتَعْدِی فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا فَقَالَ لِصُہَیْبٍ : انْظُرْ مَنْ صَاحِبُ ہَذَا فَانْطَلَقَ صُہَیْبٌ فَإِذَا ہُوَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَدْ غَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا فَلَوْ أَتَیْتَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَمَشَی مَعَکَ إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنِّی أَخَافُ عَلَیْکَ بَادِرَتَہُ فَجَائَ مَعَہُ مُعَاذٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا انْصَرَفَ عُمَرُ مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ : أَیْنَ صُہَیْبٌ؟ فَقَالَ : أَنَا ہَذَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : أَجِئْتَ بِالرَّجُلِ الَّذِی ضَرَبَہُ قَالَ : نَعَمْ فَقَامَ إِلَیْہِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقَالَ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّہُ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَاسْمَعْ مِنْہُ وَلاَ تَعْجَلْ عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَا لَکَ وَلِہَذَا۔ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ رَأَیْتُہُ یَسُوقُ بِامْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ فَنَخَسَ الْحِمَارَ لِیَصْرَعَہَا فَلَمْ تُصْرَعْ ثُمَّ دَفَعَہَا فَخَرَّتْ عَنِ الْحِمَارِ فَغَشِیَہَا فَفَعَلْتُ مَا تَرَی قَالَ : ائْتِنِی بِالْمَرْأَۃِ لِتُصَدِّقَکَ فَأَتَی عَوْفٌ الْمَرْأَۃَ فَذَکَرَ الَّذِی قَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُوہَا وَزَوْجُہَا : مَا أَرَدْتَ بِصَاحِبَتِنَا فَضَحْتَہَا فَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ : وَاللَّہِ لأَذْہَبَنَّ مَعَہُ إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَلَمَّا أَجْمَعَتْ عَلَی ذَلِکَ قَالَ أَبُوہَا وَزَوْجُہَا : نَحْنُ نُبَلِّغُ عَنْکِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَأَتَیَا فَصَدَّقَا عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ بِمَا قَالَ ، قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْیَہُودِیِّ : وَاللَّہِ مَا عَلَی ہَذَا عَاہَدْنَاکُمْ فَأَمَرَ بِہِ فَصُلِبَ ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ فُوَا بِذِمَّۃِ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَنْ فَعَلَ مِنْہُمْ ہَذَا فَلاَ ذِمَّۃَ لَہُ ۔ قَالَ سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ فَإِنَّہُ لأَوَّلُ مَصْلُوبٍ رَأَیْتُہُ ۔ (ت) تَابَعَہُ ابْنُ أَشْوَعَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧١٢) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے ساتھ شام میں تھے کہ ایک نبطی شخص آیا جس کو سخت مار کے ذریعے زخمی کیا گیا تھا۔ حضرت عمر (رض) کو سخت غصہ آیا اور صہیب سے کہا : دیکھو کس نے اسے مارا ہے ؟ صہیب گئے تو عوف بن مالک کو پایا کہ اس نے مارا تھا تو صہیب نے عوف بن مالک سے کہا کہ معاذ بن جبل (رض) کو ساتھ لیکر امیر المومنین کے پاس جانا۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ سزا دینے میں جلدی کریں تو عوف بن مالک حضرت معاذ کو لیکر کے پاس گئے۔ جب حضرت عمر (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا : صہیب کدھر ہے ؟ صہیب کہتے ہیں : اے امیر المومنین ! میں حاضر ہوں۔ پوچھا : مارنے والے شخص کو لیکر آئے ہو ؟ تو صہیب نے کہا : اے امیر المومنین ! لیکر آیا ہوں تو معاذ بن جبل (رض) نے کہا : اے امیر المومنین ! عوف بن مالک کی بات سن لینا جلدی نہ کرنا۔ تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا معاملہ کیا ہے ؟ تو عوف بن مالک نے کہا اے امیر المومنین اس نے ایک مسلم عورت کے گدھے کو بھگا دیا تاکہ وہ گرجائے لیکن وہ گری تو نہ۔ اس نے دوبارہ گدھے کو بھاگا کر اس کو گرا دیا اور زنا کیا۔ تب میں نے یہ کیا، جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : عورت کو لاؤ تاکہ وہ تیری صدیق کرسکے تو عوف بن مالک نے عورت کے سامنے حضرت عمر (رض) کی بات کا تذکرہ کیا۔ اس کے والد اور خاوند نے کہا : تو ہماری عورت کی تذلیل چاہتا ہے۔ عورت نے بھی امیر المومنین کے پاس جانے سے انکار کردیا۔ جب اس نے ان کے ساتھ اتفاق کرلیا تو اس عورت کے والد اور خاوند نے پھر کہا : چلو ہم تیری تصدیق حضرت عمر (رض) کے پاس کردیتے ہیں۔ جب انھوں نے تصدیق کردی تو حضرت عمر (رض) نے یہودی سے کہا : ہمارا تمہارے ساتھ اس پر تو معاہدہ نہیں تھا۔ اس یہودی کو سولی دے دی۔ پھر کہا : اے لوگو ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کو پورا کرو۔ جس نے اس طرح کی حرکت کی اس کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں : یہ پہلا شخص میں نے دیکھا جس کو سولی دی گئی۔