Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3696

سیر کا بیان

خوشخبری دینے والے کو عطیہ دینے کا بیان

1 hadith in this chapter

18592

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18592

Sahih

(١٨٥٨٦) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ قَائِدَ کَعْبٍ حِینَ عَمِیَ مِنْ بَنِیہِ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی تَوْبَتِہِ وَإِیذَانِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْہِ وَعَلَی صَاحِبَیْہِ قَالَ : سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلٍ سَلْعٍ یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی نَزَعْتُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبُشْرَاہُ وَوَاللَّہِ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہُمَا یَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُہُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٨٦) عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن کعب اپنے والد کو نابینا ہونے کے بعد لائے۔ کہتے ہیں : میں نے کعب بن مالک سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے اور ان کی توبہ کا قصہ سنا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اور ان کے دوں تھیوں کو توبہ کی قبولیت کی خبر دی۔ کہتے ہیں : میں نے سلع پہاڑ پر بلند آواز سے پکارنے والے کو سنا جو کہہ دیا تھا : اے کعب بن مالک ! خوش ہوجا۔ کہتے ہیں : میں سجدہ میں گرا پڑا اور جان گیا کہ خوش حالی کے دن آگئے۔ جب آواز دینے والا میرے قریب آیا، وہ مجھے خوشخبری دے رہا تھا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دیے کیونکہ اس کے علاوہ میں اس دن کسی اور چیز کا ملک نہ تھا اور دو کپڑے ادھار لے کر زیب تن کیے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا پہنچا۔