Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3655

سیر کا بیان

مسلمانوں کا جاسوس بھیجنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

18445

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18445

Sahih

(١٨٤٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بُسَیْسَۃَ عَیْنًا یَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ قَالَ فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی النَّضْرِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠١]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٣٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسیسہ کو جاسوس بنا بھیجا کہ وہ ابو سفیان کے قافلہ کی حرکات کو نوٹ کرلے۔ راوی کہتے ہیں : جب وہ آیا تو میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی گھر میں موجود نہیں تھا۔۔۔ پھر اس نے حدیث بیان کی۔

18446

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18446

Sahih

(١٨٤٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الأَحْزَابِ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : أَنَا ثُمَّ قَالَ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : أَنَا ثُمَّ قَالَ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : أَنَا فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٤٠) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کی خبر میرے پاس کون لائے گا ؟ زبیر (رض) نے کہا : میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : میرے پاس قوم کی خبر کون لائے گا ؟ زبیر (رض) نے کہا : میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : میرے لیے لوگوں کی جاسوسی کون کرے گا۔ زبیر (رض) نے کہا : میں کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر (رض) ہے۔

18447

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18447

Sahih

(١٨٤٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : نَدَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النَّاسَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَیْرُ ثُمَّ نَدَبَہُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَیْرُ ثُمَّ نَدَبَہُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَیْرُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ فِیہِ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ : وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ وَابْنُ عَمَّتِی ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٤١) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کے دن لوگوں کو آواز دی تو حضرت زبیر (رض) نے لبیک کہا۔ پھر دوسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو پکارا تو زبیر (رض) نے لبیک کہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی تو زبیر (رض) نے لبیک کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کے لیے ایک مخلص ساتھی ہوتا ہے اور میرا مخلص ساتھی زبیر (رض) ہے۔ (ب) ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں میرا حواری زبیر (رض) اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔

18448

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18448

Sahih

(١٨٤٤٢) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَاتَلْتُ مَعَہُ وَأَبْلَیْتُ فَقَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ : أَنْتَ کُنْتَ تَفْعَلُ ذَاکَ لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیْلَۃَ الأَحْزَابِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتَ رِیحٍ شَدِیدَۃٍ وَقُرٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَلاَ رَجُلٌ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ یَکُونُ مَعِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَلَمْ یُجِبْہُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ الثَّانِیَۃَ مِثْلَہُ ثُمَّ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِی بِاسْمِی أَنْ أَقُومَ فَقَالَ : ائْتِنِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلاَ تَذْعَرْہُمْ عَلَیَّ ۔ قَالَ : فَمَضَیْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ حَتَّی أَتَیْتُہُمْ فَإِذَا أَبُو سُفْیَانَ یَصْلِی ظَہْرَہُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَہْمِی فِی کَبِدِ قَوْسِی وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِیَہُ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَذْعَرْہُمْ عَلَیَّ ۔ وَلَوْ رَمَیْتُہُ لأَصَبْتُہُ قَالَ : فَرَجَعْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ أَصَابَنِی الْبَرْدُ حِینَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَلْبَسَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ فَضْلِ عَبَائَ ۃٍ کَانَتْ عَلَیْہِ یُصَلِّی فِیہَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّی الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا نَوْمَانُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٨]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٤٢) ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پا لیتا تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کرلیتا تو حذیفہ نے کہا : کیا تو یہ کام کرے گا۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا : اے حذیفہ ! ہمارے پاس قوم کی خبر لیکر آؤ۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام لیکر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا : قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا۔ کہتے ہیں : میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابو سفیان کے قریب آیا : تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا۔ میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات یاد آگئی کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کرسکتا تھا۔ کہتے ہیں : میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ جب میں اپنے کام سے فارغ ہوچکا تھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سونے والے ! اٹھ جا۔