Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3647

سیر کا بیان

ایسا قیدی جس کو امان دی گئی ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کو مالوں اور جانوں کے بارے میں دھوکا دے قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لأَنَّہُمْ إِذَا آمَنُوہُ فَہُمْ فِی أَمَانٍ مِنْہُ ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب مالک امان دے دیں تو وہ اس سے ام

5 hadiths in this chapter

18427

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18427

Sahih

(١٨٤٢١) وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُقَالُ ہَذِہِ غَدْرَۃُ فُلاَنٍ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢١) حضرت عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں قیامت کے دن ہر دھوکا کرنے والے انسان کے لیے ایک جھنڈا ہوگا کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔

18428

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18428

Sahih

(١٨٤٢٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا آمَنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَی نَفْسِہِ ثُمَّ قَتَلَہُ فَأَنَا بَرِیئٌ مِنَ الْقَاتِلِ وَإِنْ کَانَ الْمَقْتُولُ کَافِرًا ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٢) عمرو بن حمق خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی آدمی کسی شخص کو امان دے کر قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ذمہ ہوں اگرچہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو۔

18429

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18429

Sahih

(١٨٤٢٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : کُنْتُ أَبْطَنَ شَیْئٍ بِالْمُخْتَارِ یَعْنِی الْکَذَّابَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ : دَخَلْتَ وَقَدْ قَامَ جِبْرِیلُ قَبْلُ مِنْ ہَذَا الْکُرْسِیِّ قَالَ فَأَہْوَیْتُ إِلَی قَائِمِ السَّیْفِ فَقُلْتُ مَا أَنْتَظِرُ أَنْ أَمْشِیَ بَیْنَ رَأْسِ ہَذَا وَجَسَدِہِ حَتَّی ذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنِیہِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا آمَنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَی دَمِہِ ثُمَّ قَتَلَہُ رُفِعَ لَہُ لِوَائُ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَکَفَفْتُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٣) رفاعہ بن شداد کہتے ہیں : میں نے کپڑے کے نیچے مختار (کذاب) کے لیے کوئی چیز چھپائی۔ کہتے ہیں : میں ایک دن اس کے پاس گیا اس نے کہا : تو آیا ہے، جبرائیل (علیہ السلام) اس کرسی پر پہلے کھڑا تھا تو میں تلوار کے دستے کی جانب جھکا۔ میں نے کہا کہ میں اسے مہلت نہ دوں گا یہاں تک کہ میں اس کے سر اور جسم کے درمیان چلوں۔ لیکن پھر مجھے عمرو بن حمق خزاعی کی حدیث یاد آگئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جب کوئی شخص کسی فرد کو جان کی امان دے کر قتل کر دے تو قیامت کے دن اس کے لیے عہد شکنی کا جھنڈا لگایا جائے گا تو میں اس سے رک گیا۔

18430

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18430

Zaeef

(١٨٤٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ خَرَجَتْ سَرِیَّۃٌ فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَہُ غَنَمٌ یَرْعَاہَا فَجَائُ وا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَلَّمَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یُکَلِّمَہُ بِہِ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : إِنِّی قَدْ آمَنْتُ بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہِ فَکَیْفَ بِالْغَنَمِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَہِیَ لِلنَّاسِ الشَّاۃُ وَالشَّاتَانِ وَأَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ : احْصُبْ وُجُوہَہَا تَرْجِعْ إِلَی أَہْلِہَا ۔ فَأَخَذَ قَبْضَۃً مِنْ حَصْبَائٍ أَوْ تُرَابٍ فَرَمَی بِہِ وُجُوہَہَا فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّی دَخَلَتْ کُلُّ شَاۃٍ إِلَی أَہْلِہَا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَی الصَّفِّ فَأَصَابَہُ سَہْمٌ فَقَتَلَہُ وَلَمْ یُصَلِّ لِلَّہِ سَجْدَۃً قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَدْخِلُوہُ الْخِبَائَ ۔ فَأُدْخِلَ خِبَائَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : لَقَدْ حَسُنَ إِسْلاَمُ صَاحِبِکُمْ لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَإِنَّ عِنْدَہُ لَزَوْجَتَیْنِ لَہُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ۔ لَمْ أَکْتُبْہُ مَوْصُولاً إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعْدٍ وَقَدْ تَکَلَّمُوا فِیہِ ۔ (ت) وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً ۔ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ فِیہِ قِصَّۃٌ شَبِیہَۃٌ بِہَذِہِ إِلاَّ أَنَّہَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٤) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ایک چھوٹا لشکر نکلا، انھوں نے ایک انسان کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اسے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بات چیت کی جو اللہ نے چاہا تو اس شخص نے کہا : میں آپ پر اور جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول ! بکریوں کا کیا بنے گا ؟ کیونکہ یہ امانت ہے کسی کی ایک اور دو یا اس سے بھی زائد ہے۔ آپ نے فرمایا : تو ان کے چہروں پر کنکریاں پھینک یہ بکریاں اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔ اس نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور ان بکریوں کی طرف پھینکی تو وہ بھاگتی ہوئی ہر بکری اپنے مالکوں کے پاس پہنچ گئی۔ پھر یہ شخص مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تو ایک تیر لگنے کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگیا اور اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو خیمے میں داخل کر دو تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خیمے میں داخل کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے اس کے پاس آئے، پھر نکلے تو فرمایا تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا تھا، میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور العین سے اس کے پاس موجود تھیں۔

18431

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18431

Zaeef

(١٨٤٢٥) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ تَاجِرًا إِلَی الشَّامِ وَکَانَ رَجُلاً مَأْمُونًا وَکَانَتْ مَعَہُ بَضَائِعُ لِقُرَیْشٍ فَأَقْبَلَ قَافِلاً فَلَقِیَہُ سَرِیَّۃٌ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَاقُوا عِیرَہُ وَأَفْلَتَ وَقَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا أَصَابُوا فَقَسَمَہُ بَیْنَہُمْ وَأَتَی أَبُو الْعَاصِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَاسْتَجَارَ بِہَا وَسَأَلَہَا أَنْ تَطْلُبَ لَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَدَّ مَالِہِ عَلَیْہِ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - السَّرِیَّۃَ فَسَأَلَہُمْ فَرَدُّوا عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ فَأَدَّی عَلَی النَّاسِ مَا کَانَ مَعَہُ مِنْ بَضَائِعِہِمْ حَتَّی إِذَا فَرَغَ قَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ہَلْ بَقِیَ لأَحَدٍ مِنْکُمْ مَعِی مَالٌ لَمْ أَرُدَّہُ عَلَیْہِ ؟ قَالُوا : لاَ فَجَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا قَدْ وَجَدْنَاکَ وَفِیًّا کَرِیمًا۔ فَقَالَ : أَمَّا وَاللَّہِ مَا مَنَعَنِی أَنْ أُسْلِمَ قَبْلَ أَنْ أَقْدَمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ تَخَوُّفًا أَنْ تَظُنُّوا أَنِّی إِنَّمَا أَسْلَمْتُ لأَذْہَبَ بِأَمْوَالِکُمْ فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْمُسْلِمِ إِذَا أُسِرَ وَلَمْ یُؤَمِّنُوہُ وَلَمْ یَأْخُذُوا عَلَیْہِ أَنَّہُمْ آمِنُونَ مِنْہُ فَلَہُ أَخْذُ مَا قَدَرَ عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِفْسَادُہُ وَالْہَرَبُ مِنْہُمْ ۔ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّینَا حَدِیثَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمَرْأَۃِ الْمُسْلِمَۃِ الَّتِی أَخَذَتِ النَّاقَۃَ وَہَرَبَتْ عَلَیْہَا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٥) عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ ابو العاص بن ربیع شام کی جانب تجارت کی غرض سے نکلا اور یہ ایسا شخص تھا جس کو امان حاصل تھی۔ اس کے پاس قریش کا مال بھی تھا۔ جب قافلہ آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر نے اس قافلے کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کردیا اور مال آپس میں تقسیم کرلیا۔ ابو العاص نے حضرت زینب کے پاس آ کر پناہ طلب کی اور ان سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے مال اور لوگوں کے مال کو واپس کرنے کا مطالبہ کریں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سریے والوں کو بلا کر پوچھا تو انھوں نے مال واپس کردیا۔ ابو العاص نے مکہ آ کر لوگوں کے مال واپس کردیے۔ فارغ ہونے کے بعد کہنے لگے : اے قریش کے گروہ ! کیا کسی کا مال ہے کہ میں نے واپس نہ کیا ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے تجھے معزز ادا کرنے والا پایا ہے۔ پھر کہا : میں نے اسلام صرف اس ڈر سے نہ قبول کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ امام شافعی (رح) مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں : جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسب قدرت لے سکتا ہے خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمہ عورت جو اونٹنی لے کر بھاگ گئی تھی۔