Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3645

سیر کا بیان

لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا

9 hadiths in this chapter

18416

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18416

Zaeef

(١٨٤١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ہُوَ ابْنُ حَرْبٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ : اشْتَرَی عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ثُمَّ أَتَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : مِمَّنْ اشْتَرَیْتَہَا ؟ قَالَ : مَنْ أَہْلِہَا۔ قَالَ : فَہَؤُلاَئِ أَہْلُہَا لِلْمُسْلِمِینَ أَبِعْتُمُوہُ شَیْئًا قَالُوا : لاَ ۔ قَالَ : اذْہَبْ فَاطْلُبْ مَالَکَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٠) بکر بن عامر حضرت عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے خراج والی زمین خریدی پھر۔ آ کر حضرت عمر (رض) کو بتایا۔ انھوں نے پوچھا : آپ نے کس سے خریدی ہے ؟ کہنے لگے : زمین والوں سے۔ فرمایا : یہ زمین والے ہیں۔ کیا تم نے ان سے کچھ خریدا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : جا کر اپنا مال واپس لے لو۔

18417

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18417

Zaeef

(١٨٤١١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسٌ عَنْ أَبِی إِسْمَاعِیلَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ : اشْتَرَیْتُ عَشْرَۃَ أَجْرِبَۃٍ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ عَلَی شَاطِئِ الْفُرَاتِ لِقَضْبِ دَوَابِّ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ اشْتَرَیْتَہَا مِنْ أَصْحَابِہَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ رُحْ إِلَیَّ قَالَ فَرُحْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ یَا ہَؤُلاَئَ أَبِعْتُمُوہُ شَیْئًا قَالُوا لاَ قَالَ ابْتَغِ مَالَکَ حَیْثُ وَضَعْتَہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١١) شعبی حضرت عتبہ بن فرقد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سواد کی زمین سے دس ایکڑ زمین فرات کے کنارے خریدی۔ جب حضرت عمر (رض) کے سامنے تذکرہ ہوا تو پوچھا : آپ نے زمین والوں سے خریدی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ کہنے لگے : میرے پاس آؤ۔ میں ان کے پاس گیا تو فرمایا : کیا تم نے ان کو کچھ فروخت کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : اپنا مال لو جس کو دے رکھا ہے۔

18418

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18418

Sahih

(١٨٤١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَسْلَمَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ نَہَرِ الْمَلِکِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَوْ کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنِ اخْتَارَتْ أَرْضَہَا وَأَدَّتْ مَا عَلَی أَرْضِہَا فَخَلُّوا بَیْنَہَا وَبَیْنَ أَرْضِہَا وَإِلاَّ خَلُّوا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَبَیْنَ أَرَضِیہِمْ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٢) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ اہل نہر سے ایک عورت مسلمان ہوگئی تو حضرت عمر (رض) نے خط لکھا : اگر وہ اپنی زمین کو اختیار کرے اور جزیہ ادا کرے تو اس کو زمین دے دو ، وگرنہ زمین سے فارغ کر دو ۔

18419

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18419

Sahih

(١٨٤١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ الأَسَدِیِّ عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ قَالَ : کَانَ عُمَرُ وَعَلِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ تَرَکَاہُ یَقُومُ بِخَرَاجِہِ فِی أَرْضِہِ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٣) ابو عون ثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی (رض) اہلِ سواد کے افراد کو چھوڑ دیتے، جب وہ اسلام قبول کرلیتے تو فرماتے : وہ اپنی زمین پر ہی رہیں اور خراج ادا کرتے رہیں۔

18420

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18420

Zaeef

(١٨٤١٤) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا شَرِیکٌ وَقَیْسٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ أَسْلَمَ الرُّفَیْلُ فَأَعْطَاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضَہُ بِخَرَاجِہَا وَفَرَضَ لَہُ أَلْفَیْنِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٤) حضرت جابر عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ رفیل نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عمر (رض) نے ان کو خراج والی زمین عطا کردی اور ان کے لیے دو ہزار جزیہ مقرر کردیا۔

18421

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18421

Zaeef

(١٨٤١٥) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی سَعْدٍ یُقْطِعُ سَعِیدَ بْنَ زَیْدٍ أَرْضًا فَأَقْطَعَہُ أَرْضًا لِبَنِی الرُّفَیْلِ فَأَتَی ابْنُ الرُّفَیْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا صَالَحْتُمُونَا ؟ قَالَ : عَلَی أَنْ تُؤَدُّوا إِلَیْنَا الْجِزْیَۃَ وَلَکُمْ أَرْضُکُمْ وَأَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ ۔ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَقْطَعْتَ أَرْضِی لِسَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ۔ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی سَعْدٍ رُدَّ عَلَیْہِ أَرْضَہُ ثُمَّ دَعَاہُ إِلَی الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمَ فَفَرَضَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَبْعَمِائَۃٍ وَجَعَلَ عَطَائَ ہُ فِی خَثْعَمَ وَقَالَ إِنْ أَقَمْتَ فِی أَرْضِکَ أَدَّیْتَ عَنْہَا مَا کُنْتَ تُؤَدِّی۔ وَہَذَا فِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔ فَإِنْ ثَبَتَ کَانَ قَوْلُہُ وَلَکُمْ أَرْضُکُمْ مَحْمُولاً عَلَی أَنَّہُ أَرَادَ وَلَکُمْ أَرْضُکُمُ الَّتِی کَانَتْ لَکُمْ تَزْرَعُونَہَا وَتُعْطُونَ خَرَاجَہَا وَذَلِکَ فِیمَا أُخِذَ عَنْوَۃً أَلاَ تَرَاہُ لَمْ یُسْقِطْ عَنْہُ خَرَاجَہَا حِینَ أَسْلَمَ وَفِی الصُّلْحِ یَسْقُطُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٥) بنو زہرہ کے ایک شیخ حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت سعد کو لکھا کہ سعید بن زید کو کچھ زمین عطا کرو تو انھوں نے رفیل کی زمین دے دی۔ بنو رفیل حضرت عمر (رض) کے پاس آگئے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! کس بات پر تم نے ہمارے ساتھ صلح کی ہے ؟ فرمانے لگے کہ تم جزیہ ادا کرو۔ زمین، مال، اولاد تمہارے پاس ہی رہیں گے۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! کیا آپ نے میری زمین سعید بن زید کو دے دی ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے سعد کو لکھا کہ اس کی زمین واپس کر دو ۔ پھر اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس پر سات سو جزیہ مقرر فرما دیا اور اس کی زمین خثعم قبیلہ کو عطا کردی اور فرمایا : اگر تم اپنی زمین پر رہے تو اتنا جزیہ ادا کرتے رہنا جتنا دیا کرتے تھے۔ (ب) یہ قول { وَلَکُمْ اَرَضْنَاکُمْ } وہ زمین جس میں تم کھیتی باڑی کرتے ہو اور جزیہ ادا کرتے ہو اور یہ زمین زبردستی ان سے لی گئی۔ دیکھیں مسلمان ہونے کے بعد بھی خراج ختم نہ ہوا حالانکہ صلح کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے۔

18422

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18422

Zaeef

(١٨٤١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیَّ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ فَضَعْ عَنْ أَرْضِی الْخَرَاجَ فَقَالَ لاَ إِنَّ أَرْضَکَ أُخِذَتْ عَنْوَۃً ۔ قَالَ : وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا یُطِیقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَکْثَرَ مِمَّا عَلَیْہِمْ فَقَالَ : لاَ سَبِیلَ إِلَیْہِمْ إِنَّمَا صَالَحْنَاہُمْ صُلْحًا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٦) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں نے اسلام قبول کرلیا ہے، جزیہ ختم کر دو ۔ فرمایا : نہیں آپ کی زمین بذریعہ لڑائی حاصل کی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : دوسرا شخص آیا کہ فلاں زمین والے زیادہ خراج دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ فرمایا : ہم نے اسی پر ان سے صلح کی ہے۔

18423

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18423

Sahih

(١٨٤١٧) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ قَالَ : أَسْلَمَ دِہْقَانٌ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ فِی عَہْدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنْ أَقَمْتَ فِی أَرْضِکَ رَفَعْنَا الْجِزْیَۃَ عَنْ رَأْسِکَ وَأَخَذْنَا مِنْ أَرْضِکَ وَإِنْ تَحَوَّلْتَ عَنْہَا فَنَحْنُ أَحَقُّ بِہَا۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٧) زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے دور میں اہل سواد کے ایک تاجر نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت علی (رض) نے اس سے کہا : اگر تو اپنی زمین پر رہے تو ہم تیرا جزیہ ختم کردیتے ہیں اور تیری زمین کا جزیہ وصول کریں گے۔ اگر تو اس سے منتقل ہوجائے تو اس زمین کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔

18424

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18424

Sahih

(١٨٤١٨) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الْمَسْعُودِیِّ عَنْ أَبِی عَوْنٍ قَالَ : أَسْلَمَ دِہْقَانٌ مِنْ أَہْلِ عَیْنِ التَّمْرِ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَّا جِزْیَۃُ رَأْسِکَ فَنَرْفَعُہَا وَأَمَّا أَرْضُکَ فَلِلْمُسْلِمِینَ فَإِنْ شِئْتَ فَرَضْنَا لَکَ وَإِنْ شِئْتَ جَعَلْنَاکَ قَہْرَمَانًا لَنَا فَمَا أَخْرَجَ اللَّہُ مِنْہَا مِنْ شَیْئٍ أَتَیْتَنَا بِہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤١٨) ابو عون فرماتے ہیں کہ اہل عین التمر کا ایک تاجر مسلمان ہوگیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہم تیرا جزیہ ختم کردیتے ہیں، تیری زمین مسلمانوں کے لیے ہوگی۔ اگر آپ چاہو تو آپ کے لیے جزیہ مقرر کردیتے ہیں اور اگر آپ چاہو تو ہم آپ کو قہرمان عطا کردیتے ہیں۔ جو اللہ رب العزت اس سے پیدا فرمائے وہ آپ ہمارے پاس لے کر آئیں گے۔