Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3642

سیر کا بیان

جس نے جزیہ والی زمین کو خریدنا ناپسند کیا ہے

3 hadiths in this chapter

18406

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18406

Zaeef

(١٨٤٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سُفْیَانَ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ تَشْتَرُوا رَقِیقَ أَہْلِ الذِّمَّۃِ فَإِنَّہُمْ أَہْلُ خَرَاجِ یُؤَدِّی بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضٍ وَأَرَضِیہِمْ فَلاَ تَبْتَاعُوہَا وَلاَ یُقِرَّنَّ أَحَدُکُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : أَرَادَ فِیمَا نُرَی أَنَّہُ إِذَا کَانَتْ لَہُ مَمَالِیکُ وَأَرْضٌ وَأَمْوَالٌ ظَاہِرَۃٌ کَانَتْ أَکْثَرَ لِجِزْیَتِہِ وَہَکَذَا کَانَتْ سُنَّۃُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِمْ إِنَّمَا کَانَ یَضَعُ الْجِزْیَۃَ عَلَی قَدْرِ الْیَسَارِ وَالْعُسْرِ فَلِہَذَا کَرِہَ أَنْ یُشْتَرَیَ رَقِیقُہُمْ وَأَمَّا شِرَائُ الأَرْضِ فَإِنَّہُ ذَہَبَ فِیہِ إِلَی الْخَرَاجِ کَرِہَ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَلاَ تَرَاہُ یَقُولُ وَلاَ یُقِرَّنَّ أَحَدُکُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَقَدْ رَخَّصَ فِی ذَلِکَ بَعْدَ عُمَرَ رِجَالٌ مِنْ أَکَابِرِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ بِرَاذَانَ وَخَبَّابُ بْنُ الأَرَتِ وَغَیْرُہُمَا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٠٠) ابو عیاض حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تم ذمی شخص سے غلام نہ خریدو، کیونکہ وہ جزیہ دینے والے لوگ ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ادا کرتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو اور تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں کیوں ڈالتا ہے جب اللہ رب العزت نے اس کو نجات دے دی ہے۔ ابو عبید فرماتے ہیں : جب غلام، زمین اور ظاہری مال ان کے جزیہ سے زیادہ ہوں تو یہ حضرت عمر (رض) کا طریقہ تھا کہ وہ آسانی اور تنگی کی وجہ سے جزیہ کو کم کرلیتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا گیا اور زمین کا خریدنا وہ جزیہ کی ادائیگی کی طرف لے جائے گا اور جزیہ کا ادا کرنا مسلمانوں پر ہو، یہ ناپسندیدہ بات ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں روکے جب کہ اللہ رب العزت نے اس کو نجات دی ہے۔ حضرت عمر (رض) کے بعد کبار صحابہ جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) خباب بن ارت (رض) وغیرہ شامل ہیں انھوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔

18407

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18407

Zaeef

(١٨٤٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَشْتَرِیَ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ شَیْئًا وَیَقُولُ عَلَیْہَا خَرَاجُ الْمُسْلِمِینَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٠١) قتادہ (رض) ، حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ کی زمین میں سے کچھ بھی خریدنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مسلمانوں کا جزیہ ان کے ذمہ ہے۔

18408

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18408

Sahih

(١٨٤٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : اشْتَرَیْتُ أَرْضًا۔ قَالَ : الشِّرَائُ حَسَنٌ۔ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّی أُعْطِی مِنْ کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ دِرْہَمًا وَقَفِیزًا مِنْ طَعَامٍ قَالَ فَلاَ تَجْعَلْ فِی عُنُقِکَ صَغَارًا۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٠٢) کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : میں نے زمین خریدی ہے تو انھوں نے فرمایا : زمین خریدنا اچھا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں ہر زمین کی کھیتی کے عوض ایک درہم اور ایک کھانے کا قفیز (پیمانہ) ادا کرتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ ذلت کو اپنے گلے میں نہ ڈالو۔