Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3640

سیر کا بیان

جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے

8 hadiths in this chapter

18392

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18392

Sahih

(١٨٣٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِی ثَوْرٌ قَالَ حَدَّثَنِی سَالِمٌ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : افْتَتَحْنَا خَیْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃَ إِنَّمَا غَنَمِنَا الإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی وَادِی الْقُرَی وَمَعَہُ عَبْدٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ مِدْعَمٌ وَہَبَہُ لَہُ أَحَدُ بَنِی الضِّبَابِ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ سَہْمٌ عَائِرٌ حَتَّی أَصَابَ ذَلِکَ الْعَبْدَ فَقَالَ النَّاسُ ہَنِیئًا لَہُ الشَّہَادَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ الشَّمْلَۃَ الَّتِی أَصَابَہَا یَوْمَ خَیْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَیْہِ نَارًا ۔ فَجَائَ رَجْلٌ حِینَ سَمِعَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِشِرَاکٍ أَوْ بِشِرَاکَیْنِ فَقَالَ ہَذَا شَیْئٌ کُنْتُ أَصَبْتُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شِرَاکٌ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٨٦) سالم بن مطیع نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مال غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہ ہوا بلکہ اونٹ، گائے، سامان اور باغ ملے۔ پھر ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سناتھ وادی قریٰ میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا، یہ بنو ضباب کے ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کیا تھا۔ ایک مرتبہ مدعم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک اس کو نامعلوم جانب سے آنے ولا تیر لگا جس سے وہ مرگیا۔ لوگوں نے کہا : مبارک ہو یہ شخص جنتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بیشک وہ چادر جس کو اس نے جنگ خیبر کے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھایا تھا وہ اس پر آگ بن کر لپٹی ہوئی ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا۔ اس نے کہا : یہ مجھے ملے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں۔

18393

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18393

Sahih

(١٨٣٨٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فِیمَا یَحْسِبُ أَبُو سَلَمَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَاتَلَ أَہْلَ خَیْبَرَ حَتَّی أَلْجَأَہُمْ إِلَی قَصْرِہِمْ فَغَلَبَ عَلَی الأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ فَصَالَحُوہُ عَلَی أَنْ یُجْلَوْا مِنْہَا وَلَہُمْ مَا حَمَلَتْ رِکَابُہُمْ وَلِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الصَّفْرَائُ وَالْبَیْضَائُ وَیَخْرُجُونَ مِنْہَا وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یَکْتُمُوا وَلاَ یُغَیِّبُوا شَیْئًا فَإِنْ فَعَلُوا فَلاَ ذِمَّۃَ لَہُمْ وَلاَ عَہْدَ فَغَیَّبُوا مَسْکًا فِیہِ مَالٌ وَحُلِیٌّ لِحُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ کَانَ احْتَمَلَہُ مَعَہُ إِلَی خَیْبَرَ حِینَ أُجْلِیَتِ النَّضِیرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَمِّ حُیَیٍّ مَا فَعَلَ مَسْکُ حُیَیٍّ الَّذِی جَائَ بِہِ مِنَ النَّضِیرِ فَقَالَ أَذْہَبَتْہُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ فَقَالَ الْعَہْدُ قَرِیبٌ وَالْمَالُ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ فَدَفَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الزُّبَیْرِ فَمَسَّہُ بِعَذَابٍ وَقَدْ کَانَ حُیَیٌّ قَبْلَ ذَلِکَ دَخَلَ خَرِبَۃً فَقَالَ قَدْ رَأَیْتُ حُیَیًّا یَطُوفُ فِی خَرِبَۃٍ ہَا ہُنَا فَذَہَبُوا فَطَافُوا فَوَجَدُوا الْمَسْکَ فِی الْخَرِبَۃِ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ابْنِی حُقَیْقٍ وَأَحَدُہُمَا زَوْجُ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ وَسَبَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نِسَائَ ہُمْ وَذَرَارِیَّہُمْ وَقَسَمَ أَمْوَالَہُمْ بِالنَّکْثِ الَّذِی نَکَثُوا وَأَرَادَ أَنْ یُجْلِیَہُمْ مِنْہَا فَقَالُوا یَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَکُونُ فِی ہَذِہِ الأَرْضِ نُصْلِحُہَا وَنَقُومُ عَلَیْہَا وَلَمْ یَکُنْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ لأَصْحَابِہِ غِلْمَانٌ یَقُومُونَ عَلَیْہَا وَکَانُوا لاَ یَفْرُغُونَ أَنْ یَقُومُوا عَلَیْہَا فَأَعْطَاہُمْ خَیْبَرَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الشَّطْرَ مِنْ کُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَیْئٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ یَأْتِیہِمْ کُلَّ عَامٍ فَیَخْرُصُہَا عَلَیْہِمْ ثُمَّ یُضَمِّنُہُمُ الشَّطْرَ فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شِدَّۃَ خَرْصِہِ وَأَرَادُوا أَنْ یَرْشُوہُ فَقَالَ یَا أَعْدَائَ اللَّہِ تُطْعِمُونِی السُّحْتَ وَاللَّہِ لَقَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ وَلأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْ عِدَّتِکُمْ مِنَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ وَلاَ یَحْمِلُنِی بُغْضِی إِیَّاکُمْ وَحُبِّی إِیَّاہُ عَلَی أَنْ لاَ أَعْدِلَ بَیْنَکُمْ فَقَالُوا بِہَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ قَالَ وَرَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَیْنِ صَفِیَّۃَ خُضْرَۃً فَقَالَ : یَا صَفِیَّۃُ مَا ہَذِہِ الْخُضْرَۃُ ؟ ۔ فَقَالَتْ : کَانَ رَأْسِی فِی حَجْرِ ابْنِ حُقَیْقٍ وَأَنَا نَائِمَۃٌ فَرَأَیْتُ کَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِی حَجْرِی فَأَخْبَرْتُہُ بِذَلِکَ فَلَطَمَنِی وَقَالَ تَمَنِّینَ مَلِکَ یَثْرِبَ قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَیَّ قَتَلَ زَوْجِی وَأَبِی فَمَا زَالَ یَعْتَذِرُ إِلَیَّ وَیَقُولُ إِنَّ أَبَاکِ أَلَّبَ عَلَیَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ حَتَّی ذَہَبَ ذَلِکَ مِنْ نَفْسِی وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُعْطِی کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ ثَمَانِینَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ کُلَّ عَامٍ وَعِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ شَعِیرٍ فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَشُوا الْمُسْلِمِینَ وَأَلْقَوُا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَیْتِ فَفَدَعُوا یَدَیْہِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَنْ کَانَ لَہُ سَہْمٌ مِنْ خَیْبَرَ فَلْیَحْضُرْ حَتَّی نَقْسِمَہَا بَیْنَہُمْ فَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ فَقَالَ رَئِیسُہُمْ لاَ تُخْرِجْنَا دَعْنَا نَکُونُ فِیہَا کَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِرَئِیسِہِمْ أَتُرَاہُ سَقَطَ عَنِّی قَوْلُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَیْفَ بِکَ إِذَا رَقَصَتْ بِکَ رَاحِلَتُکَ نَحْوَ الشَّامِ یَوْمًا ثُمَّ یَوْمًا ثُمَّ یَوْمًا وَقَسَمَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ مَنْ کَانَ شَہِدَ خَیْبَرَ مِنْ أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٨٧) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر والوں سے جنگ کرتے ہوئے انھیں قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی زمین، زراعت اور کھجوروں کے باغات پر قبضہ کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ جو ان کی سواریاں لے جاسکیں وہ ان کا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سونا چاندی ہے۔ وہ وہاں سے چلے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرط رکھی کہ وہ کسی چیز کو نہیں چھپائیں گے۔ اگر انھوں نے کسی چیز کو چھپایا تو ان کا ذمہ اور کوئی عہد نہیں ہے۔ پھر بھی انھوں نے مال سے بھری ہوئی ایک کھال چھپا دی اور حیی بن اخطب کے زیورات جو وہ خیبر لے کر آیا تھا بنو نضیر کی جلا وطنی کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیی کے چچا سے کہا کہ حیی کی مال سے بھری ہوئی وہ مشک کہاں ہے جو بنو نضیر سے لے کر آیا تھا ؟ اس نے کہا : جنگوں اور اخراجات نے اس کو ختم کردیا۔ فرمایا کہ احد قریب ہے اور مال اس سے بھی زیادہ ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو زبیر کے حوالے کردیا، جس نے اسے سزا دی اور حیی اس سے پہلے ایک ویرانے میں داخل ہوا : کہتے ہیں : میں نے حیی کو دیکھا کہ وہ اس ویرانے میں گھوم رہا تھا وہاں گئے تو انھوں نے ویرانے میں مال کو پایا۔ رسول اللہ نے حقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کردیا۔ ان میں سے ایک صفیہ بنت حیی بن اخطب کا خاوند تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا اور ان کے مالوں کو وعدہ کی خلاف ورزی کی بنا پر تقسیم کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انھوں نے کہا : اے محمد ! ہمیں اس زمین پر برقرار رکھیے، ہم کھیتی باڑی کریں اور اس کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے پاس غلام بھی نہ تھے جو اس کا خیال رکھتے اور نہ خود ہی فارغ تھے کہ وہاں ٹھہر سکتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں خیبر کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ کھیتی باڑی اور کھجوروں کا اندازہ کرتے۔ پھر نصف ان سے وصول کرتے۔ انھوں نے اندازہ کی سختی کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی اور عبداللہ بن رواحہ کو رشوت دینے کا ارادہ کیا تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے دشمنو ! تم مجھے حرام کھلاتے ہو، اللہ کی قسم ! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے اپنی جانب سب سے زیادہ محبوب شخص کے پاس سے آیا ہوں لیکن تمہاری عادت مجھے بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ بری لگتی ہے۔ تمہارا بغض اور ان کی محبت مجھے اس بات پر نہ ابھارے کہ میں عدل نہ کرسکوں۔ انھوں نے کہا : اسی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کی آنکھ میں سبز نشان دیکھا تو پوچھا : اے صفیہ یہ کیا ہے ؟ کہتی ہیں کہ میں حقیق کے بیٹے کی گود میں سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ چاند میری گود میں گرپڑا ہے۔ میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تھپڑ دے مارا اور کہا : تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوص تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے باپ اور خاوند کو قتل کیا تھا وہ مجھ سے معذرت کرتا رہا اور اس نے کہا کہ تیرا باپ میرے نزدیک عرب کا عقل مند آدمی ہے۔ اس نے یہ کیا۔ یہاں تک کہ میرے دل سے وہ بات ختم ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ہر عورت کو ہر سال اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو دیا کرتے تھے۔ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا دور آیا اور پریشانیوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا تو انھوں نے ابن عمر (رض) کو چھت پر چڑھایا اور اس کے ہاتھوں کے جوڑ نکال دیے پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس کا خیبر میں حصہ ہو وہ آئے کہ ہم ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردی۔ ان کے سردار نے کہا : آپ ہمیں جلا وطن نہ کریں۔ بلکہ جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) نے ہمیں برقرار رکھا ویسے ہی رہنے دیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان کے سردار سے یہ بات کہی : کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات بھول گیا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تیری کیا حالت ہوگی جب تیری سواری تجھے تین دن تک شام کی جانب لے کر جائے گی پھر حضرت عمر (رض) نے حدیبیہ والوں میں جو غزوہ خیبر میں موجود تھے ان کے حصے تقسیم کردیے۔

18394

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18394

Sahih

(١٨٣٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ ظَہَرَ عَلَی خَیْبَرَ فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی سِتَّۃٍ وَثَلاَثِینَ سَہْمًا جَمَعَ کُلُّ سَہْمٍ مِائَۃَ سَہْمٍ فَکَانَ النِّصْفُ سِہَامًا لِلْمُسْلِمِینَ وَسَہْمَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَعَزَلَ النِّصْفَ لِلْمُسْلِمِینَ لِمَا یَنُوبُہُ مِنَ الأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا لأَنَّہُ افْتَتَحَ بَعْضَ خَیْبَرَ عَنْوَۃً وَبَعْضَہَا صُلْحًا فَمَا قَسَمَ بَیْنَہُمْ ہُوَ مَا افْتَتَحَہُ عَنْوَۃً وَمَا تَرَکَہُ لِنَوَائِبِہِ ہُوَ مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ لَمْ یُوجَفْ عَلَیْہِ بِخَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٨٨) بشیر بن یسار نے صحابہ کے ایک گروہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب خیبر کو فتح کیا اور مال غنیمت کو ٣٦ حصوں میں تقسیم کردیا اور تمام حصے سو میں تقسیم کیے۔ نصف حصے مسلمانوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تھے اور نصف حصے ان کے لیے الگ کرلیے جن کو مختلف امور سر انجام دینے پر مقرر کیا ہوا تھا۔ شیخ فرماتے ہیں : خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔

18395

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18395

Zaeef

(١٨٣٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - افْتَتَحَ بَعْضَ خَیْبَرَ عَنْوَۃً ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٨٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا بعض حصہ لڑائی کے ذریعے فتح کیا۔

18396

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18396

Sahih

(١٨٣٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِینَ مَا افْتُتِحَتْ قَرْیَۃٌ إِلاَّ قَسَمْنَاہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٣٣٤-٣١٢٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٩٠) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر دوسرے مسلمان نہ ہوئے تو ہر فتح ہونے والی بستی کو ہم تقسیم کردیتے۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا۔

18397

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18397

Sahih

(١٨٣٩١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لَوْلاَ أَنِّی أَتْرُکَ النَّاسَ بَبَّانًا لاَ شَیْئَ لَہُمْ مَا فُتِحَتْ قَرْیَۃٌ إِلاَّ قَسَمْتُہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَسْتَطِیبُ قُلُوبَہُمْ ثُمَّ یَقِفُہَا لِلْمُسْلِمِینَ نَظَرًا لَہُمْ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٩١) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے سنا، وہ فرماتے تھے : اگر میں لوگوں کو اس حالت میں نہ چھوڑوں کہ ان کے لیے کوئی چیز نہ ہو جو بستی بھی فتح ہو تو میں اسے تقسیم کر دوں۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ شیخ فرماتے ہیں : یہی ہمارا مؤقف ہے۔ ان کے دلوں کی چاہت تھی لیکن پھر بھی انھوں نے مسلمانوں کے فائدہ کے لیے وقف کردیا۔

18398

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18398

Zaeef

(١٨٣٩٢) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ یَقُولُ : أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ فِیہِمْ بِلاَلٌ وَأَظُنُّہُ ذَکَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَکَتَبُوا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ ہَذَا الْفَیْئَ الَّذِی أَصَبْنَا لَکَ خُمُسُہُ وَلَنَا مَا بَقِیَ لَیْسَ لأَحَدٍ مِنْہُ شَیْئٌ کَمَا صَنَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِخَیْبَرَ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَا قُلْتُمْ وَلَکِنِّی أَقِفُہَا لِلْمُسْلِمِینَ فَرَاجَعُوہُ الْکِتَابَ وَرَاجَعَہُمْ یَأْبَوْنَ وَیَأْبَی فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ اللَّہُمَّ اکْفِنِی بِلاَلاً وَأَصْحَابَ بِلاَلٍ قَالَ فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَیْہِمْ حَتَّی مَاتُوا جَمِیعًا۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَوْلُہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَا قُلْتُمْ لَیْسَ یُرِیدُ بِہِ إِنْکَارَ مَا احْتَجُّوا بِہِ مِنْ قِسْمَۃِ خَیْبَرَ فَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیُشْبِہُ أَنْ یُرِیدَ بِہِ لَیْسَتِ الْمَصْلَحَۃُ فِیمَا قُلْتُمْ وَإِنَّمَا الْمَصْلَحَۃُ فِی أَنْ أَقِفَہَا لِلْمُسْلِمِینَ وَجَعَلَ یَأْبَی قِسْمَتَہَا لِمَا کَانَ یَرْجُو مِنْ تَطْیِیبِہِمْ ذَلِکَ لَہُ وَجَعَلُوا یَأْبَوْنَ لِمَا کَانَ لَہُمْ مِنَ الْحَقِّ فَلَمَّا أَبَوْا لَمْ یُبْرِمْ عَلَیْہِمُ الْحُکْمَ بِإِخْرَاجِہَا مِنْ أَیْدِیہِمْ وَوَقْفِہَا وَلَکِنْ دَعَا عَلَیْہِمْ حَیْثُ خَالَفُوہُ فِیمَا رَأَی مِنَ الْمَصْلَحَۃِ وَہُمْ لَوْ وَافَقُوہُ وَافَقَہُ أَفْنَائُ النَّاسِ وَأَتْبَاعُہُمْ وَالْحَدِیثُ مُرْسَلٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْقَسْمِ فِی فَتْحِ مِصْرَ أَنَّہُ رَأَی ذَلِکَ وَرَأَی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قِسْمَتَہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٩٢) جریر بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو شام کی فتح نصیب ہوئی۔ جن میں بلال بھی تھے، میرا گمان ہے کہ انھوں نے معاذ بن جبل کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا کہ مال فیٔ میں سے پانچواں حصہ آپ کا اور باقی ہمارا ہے، کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے موقع پر کیا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب دیا : تمہاری بات درست نہیں بلکہ میں اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہ اس کی امید کیے بیٹھے تھے اور انھوں نے بھی واپس کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔ جب انھوں نے انکار کردیا تو ان پر ان کے ہاتھوں خراج لینے کا حکم باقی رہے گا اور اس زمین کو وقف سمجھا جائے گا۔ لیکن حضرت عمر (رض) نے ان کے خلاف بددعا کی، جب انھوں نے حضرت عمر (رض) سے مصلحت کی مخالفت کی۔ اگر وہ ان کی موافقت کرتے تو غیر معروف لوگ اور ان کے پیروکار اس کی موافقت کرتے۔ (ب) فتح مصر کے بارے میں زبیر بن عوام (رض) کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کردیا جائے، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔

18399

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18399

Zaeef

(١٨٣٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ حَدَّثَنَا الْمُرَجَّا بْنُ رَجَائٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَیُّمَا قَرْیَۃٍ افْتَتَحَہَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ فَہِیَ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَأَیُّمَا قَرْیَۃٍ افْتَتَحَہَا الْمُسْلِمُونَ عَنْوَۃً فَخُمُسُہَا لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَبَقِیَّتُہَا لِمَنْ قَاتَلَ عَلَیْہَا ۔ قَالَ أَبُو الْفَضْلِ الدُّورِیُّ : أَبُو سَلَمَۃَ ہَذَا ہُوَ عِنْدِی صَاحِبُ الطَّعَامِ أَوْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّینَاہُ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٩٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بستی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح کریں تو یہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے اور جس بستی کو جنگ کے ذریعے فتح کریں۔ اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا اور باقی حصہ لڑائی کرنے والوں کا ہے۔