Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3618

سیر کا بیان

جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے

9 hadiths in this chapter

18249

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18249

Sahih

(١٨٢٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَأُخِذَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تِلْکَ وَسُبِیَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتِ النَّاقَۃُ أُصِیبَتْ قَبْلَہَا فَکَانَتْ تَکُونُ فِیہِمْ وَکَانُوا یَجِیئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَیْہِمْ قَالَ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ کُلَّمَا أَتَتْ بَعِیرًا رَغَا حَتَّی أَتَتْ تِلْکَ النَّاقَۃَ فَشَنَقَتْہَا فَلَمْ تَرْغُ وَہِیَ نَاقَۃٌ ہَدِرَۃٌ فَقَعْدَتْ فِی عَجُزِہَا ثُمَّ صَاحَتْ بِہَا فَانْطَلَقَتْ فَطُلِبَتْ مِنْ لَیْلَتِہَا فَلَمْ یُقْدَرْ عَلَیْہَا فَجَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَرَفُوا النَّاقَۃَ فَقَالُوا نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ إِنَّہَا قَدْ جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا قَالُوا لاَ وَاللَّہِ لاَ تَنْحَرِیہَا حَتَّی نُؤْذِنَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَتَوْہُ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ فُلاَنَۃَ قَدْ جَائَ تْ عَلَی نَاقَتِکَ وَإِنَّہَا جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: سُبْحَانَ اللَّہِ بِئْسَمَا جَزَتْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ۔ أَوْ قَالَ : ابْنُ آدَمَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤١]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٣) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا لیا۔ پھر انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پکڑ لی گئی اور ایک انصاری عورت قیدی بنا لی گئی۔ اونٹنی اس سے پہلے پکڑ لی گئی تھی۔ وہ ان میں موجود تھی اور وہ اپنے جانور لے کر ان کے پاس آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن وہ زنجیروں سے کھل گئی۔ وہ اونٹوں کے باڑے میں آئی۔ وہ جس اونٹ کے پاس بھی آئی اس نے آواز نکالی۔ جب وہ عورت اس اونٹنی کے پاس آئی اس اونٹنی کو لگام دی تو اس نے آواز نہ نکالی۔ بلبلانے والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس پر سوار ہوگئی اور اسے چلایا۔ اس عورت کو تلاش کیا گیا لیکن وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ اس عورت نے نذر مان لی۔ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ جب وہ عورت آئی تو صحابہ نے اونٹنی پہچان لی کہ یہ اونٹنی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے۔ اس عورت نے کہا کہ میں نے تو نذر مانی ہے۔ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ صحابہ نے کہا : اس اونٹنی کو ذبح نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ سے اجازت لے لیں۔ صحابہ نے آ کر رسول اللہ کو خبر دی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس کو ذبح کر دے گی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک ہے برا بدلہ ہے اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ اس نذر کو پورا کیا جائے جس کا بندہ مالک نہیں رہا یا فرمایا ابن آدم مالک نہیں رہا۔

18250

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18250

Sahih

(١٨٢٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتِ الْعَضْبَائُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ وَکَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ فَأُسِرَ الرَّجُلُ وَأُخِذَتِ الْعَضْبَائُ قَالَ فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ فِی وَثَاقٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِی بِالرَّجُلَیْنِ وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْعَضْبَائَ لِرَحْلِہِ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِینَ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِ الْمَدِینَۃِ فَذَہَبُوا بِہِ وَکَانَتِ الْعَضْبَائُ فِی ذَلِکَ السَّرْحِ وَأَسَرُوا امْرَأَۃً مِنَ الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ انْفِلاَتِہَا بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ الثَّقَفِیِّ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٤) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ عصباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی اور یہ اونٹنی حاجیوں سے سبقت لے جانے والی تھی۔ آدمی کو قیدی بنا لیا گیا اور اونٹنی پکڑ لی گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے۔ وہ جکڑا ہوا تھا۔ پھر اس شخص کو دو آدمیوں کے عوض چھوڑ دیا گیا اور عصباء اونٹنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سواری کے لیے رکھ لی۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے مویشیوں پر حملہ کیا تو اسے بھی لے گئے اور عصباء اونٹنی بھی ان جانوروں میں تھی۔ انھوں نے مسلمانوں کی ایک عورت کو بھی قید کرلیا۔ پھر اس نے اس عورت کے آنے کا بھی تذکرہ کیا۔

18251

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18251

Zaeef

(١٨٢٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا فَأَصَابُوا امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ وَنَاقَۃً لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ وَالنَّاقَۃُ عِنْدَہُمْ ثُمَّ انْفَلَتَتِ الْمَرْأَۃُ فَرَکِبَتِ النَّاقَۃَ فَأَتَتِ الْمَدِینَۃَ فَعُرِفَتْ نَاقَۃُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ : إِنِّی نَذَرَتْ لَئِنْ نَجَّانِی اللَّہُ عَلَیْہَا لأَنْحَرَنَّہَا فَمَنَعُوہَا أَنْ تَنْحَرَہَا حَتَّی یَذْکُرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : بِئْسَمَا جَزَیْتِہَا إِنْ نَجَّاکِ اللَّہُ عَلَیْہَا أَنْ تَنْحَرِیہَا لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ۔ وَقَالاَ مَعًا أَوْ أَحَدُہُمَا فِی الْحَدِیثِ وَأَخَذَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاقَتَہُ ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقَدْ أَخَذَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاقَتَہُ بَعْدَ مَا أَحْرَزَہَا الْمُشْرِکُونَ وَأَحْرَزَتْہَا الأَنْصَارِیَّۃُ عَلَی الْمُشْرِکِینَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٥) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ کسی قوم نے شب خون مارا اور ایک انصاری عورت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو پکڑ لیا۔ یہ عورت اور اونٹنی ان کے پاس تھیں۔ پھر عورت اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ آگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پہچان لی گئی۔ اس عورت نے کہا : میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دے دی تو میں اس کو ذبح کر دوں گی۔ صحابہ نے ذبح کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے برا بدلہ دیا ہے۔ اگر اللہ تجھے اس پر نجات دے تو اسے ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں اس کی بھی نذر نہیں۔ دونوں یا ایک حدیث میں اکٹھے ذکر ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی لے لی۔

18252

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18252

Sahih

(١٨٢٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی رُوبَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ لُوَیْنٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ غَلاَمًا لَہُمْ أَبَقَ إِلَی الْعَدُوِّ ثُمَّ ظَہَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَیْہِ فَرَدَّہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَکُنْ قَسَمَ ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُہَیْلٍ عَنْ یَحْیَی۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٦) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا غلام دشمن کی جانب بھاگ گیا۔ پھر مسلمانوں نے اس پر غلبہ پا لیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے واپس کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم نہ فرمایا تھا۔

18253

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18253

Sahih

(١٨٢٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ غُلاَمًا لَہُ لَحِقَ بِالْعَدُوِّ عَلَی فَرَسٍ لَہُ فَظَہَرَ عَلَیْہِمَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَدَّہُمَا عَلَیْہِ کَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَقَدْ بَیَّنَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ مَا کَانَ مِنْہُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَا کَانَ بَعْدَہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٧) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا غلام دشمنوں سے ان کے گھوڑے سمیت جا ملا تو خالد بن ولید نے دونوں کو قبضہ میں لے لیا اور ان پر واپس کردیے۔ اسی طرح ابو معاویہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے واضح بیان کیا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد میں ہوا۔

18254

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18254

Sahih

(١٨٢٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَعْنَی قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : ذَہَبَتْ فَرَسٌ لَہُ فَأَخَذَہَا الْعَدُوُّ فَظَہَرَ عَلَیْہِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّتْ عَلَیْہِ فِی زَمَنِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ قَالَ : وَأَبَقَ عَبْدٌ لَہُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّہُ عَلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بَعْدَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٦٨-٩٠٦٩]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٨) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا گھوڑا بھاگ گیا، جسے دشمنوں نے پکڑ لیا تو مسلمانوں نے ان پر غلبہ پا لیا۔ پھر رسول اللہ کے دور میں ان کو واپس کردیا گیا۔ فرماتے ہیں : ان کا غلام بھاگ کر رومیوں کے ساتھ جا ملا۔ مسلمان ان پر غالب آگئے تو خالد بن ولید نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد واپس کردیا تھا۔

18255

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18255

Sahih

(١٨٢٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ عَلَی فَرَسٍ لَہُ یَوْمَ لَقِیَ الْمُسْلِمُونَ طَیِّئًا وَأَسَدًا وَأَمِیرُ الْمُسْلِمِینَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بَعَثَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاقْتَحَمَ الْفَرَسُ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ جُرْفًا فَصَرَعَہُ وَسَقَطَ عَبْدُ اللَّہِ فَعَارَ الْفَرَسُ فَأَخَذَہُ الْعَدُوُّ فَلَمَّا ہَزَمَ اللَّہُ الْعَدُوَّ رَدَّ خَالِدٌ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ فَرَسَہُ ۔ [صحیح ] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ ۔ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْعَبْدُ ہُوَ الَّذِی رُدَّ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْفَرَسُ بَعْدَہُ لِیَکُونَ مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ثُمَّ رِوَایَۃِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ہَذِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الرِّوَایَاتِ أَمْرُ الْقِسْمَۃِ وَلَعَلَّہُ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاۃِ دُونَ ابْنِ عُمَرَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٤٩) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے۔ جب مسلمانوں نے قبیلہ طینا اور اسد سے لڑائی کی۔ مسلمانوں کے امیر خالد بن ولید تھے۔ جنہیں حضرت ابوبکر نے مقرر فرمایا تھا۔ جرف نامی جگہ پر حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا گھوڑا بدکا۔ اس نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو گرا دیا۔ گھوڑا بھاگ گیا تو دشمن نے اسے پکڑ لیا۔ جب دشمن کو اللہ نے شکست دی تو خالد بن ولید نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو گھوڑا واپس کردیا۔ نوٹ : غلام کی واپسی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ہوئی اور گھوڑا بعد میں واپس کیا گیا تاکہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت کے موافق ہوجائے۔ ان روایات میں تقسیم کا تذکرہ نہیں ہے۔

18256

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18256

Zaeef

(١٨٢٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ لاَ أَحْفَظُ عَمَّنْ رَوَاہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِیمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ مِمَّا غَلَبُوا عَلَیْہِ أَوْ أَبَقَ إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَحْرَزَہُ الْمُسْلِمُونَ مَالِکُوہُ أَحَقُّ بِہِ قَبْلَ الْقَسْمِ وَبَعْدَہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٥٠) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ جب دشمن مسلمانوں کا مال ان پر غلبے کی صورت میں حاصل کرلے یا کوئی چیز ان کی طرف بھاگ گئی پھر مسلمانوں نے اس مال کو حاصل کرلیا تو مال کے مالک تقسیم سے پہلے اور بعد میں اس مال کے زیادہ حق دار ہیں۔

18257

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18257

Sahih

(١٨٢٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ زَائِدَۃَ عَنِ الرُّکَیْنِ بْنِ الرَّبِیعِ الْفَزَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَصَابَ الْمُشْرِکُونَ فَرَسًا لَہُمْ زَمَنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ کَانُوا أَحْرَزُوہُ فَأَصَابَہُ مُسْلِمُونَ زَمَنَ سَعْدٍ فَکَلَّمْنَاہُ فَرَدَّہُ عَلَیْنَا بَعْدَ مَا قَسَمَ وَصَارَ فِی خُمُسِ الإِمَارَۃِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٥١) رکین بن ربیع فراری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے ان کا گھوڑا قبضہ میں لے لیا، خالد بن ولید کے دور میں۔ پھر مسلمانوں نے حضرت سعد کے دور میں واپس حاصل کرلیا۔ ہم نے حضرت سعد سے بات کی تو انھوں نے ہمیں مال کی تقسیم کے بعد واپس کردیا اور یہ خلیفہ کے خمس مال میں تھا۔