Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3611

سیر کا بیان

جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو

6 hadiths in this chapter

18229

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18229

Sahih

(١٨٢٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِیِّ عَنْ شُیَیْمِ بْنِ بَیْتَانَ وَیَزِیدَ بْنِ صُبْحٍ الأَصْبَحِیِّ عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ بُسْرِ بْنِ أَبِی أَرْطَاۃَ فِی الْبَحْرِ فَأُتِیَ بِسَارِقٍ یُقَالُ لَہُ مِصْدَرٌ قَدْ سَرَقَ بُخْتِیَّۃً فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ تُقْطَعُ الأَیْدِی فِی السَّفَرِ ۔ وَلَوْلاَ ذَلِکَ لَقَطَعْتُہُ ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ شَامِیٌّ۔ وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یَقُولُ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ یُنْکِرُونَ أَنْ یَکُونَ بُسْرُ بْنُ أَبِی أَرْطَاۃَ سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَالَ یَحْیَی بُسْرُ بْنُ أَبِی أَرْطَاۃَ رَجُلُ سَوْئٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٢٣) جنادہ بن امیہ فرماتے ہیں کہ ہم بسر بن ابی ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر میں تھے۔ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مقتدر تھا۔ اس نے بختی اونٹ چوری کیا تھا۔ اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ سفر میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ (ب) یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ اہل مدینہ انکار کرتے ہیں کہ بسر بن ابی ارطاۃ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنا ہے اور یحییٰ تو فرماتے ہیں کہ بسر بن ارطاۃ برا آدمی ہے۔

18230

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18230

Sahih

(١٨٢٢٤) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ مَعِینٍ قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ یَحْیَی لِمَا ظَہَرَ مِنْ سُوئِ فِعْلِہِ فِی قِتَالِ أَہْلِ الْحَرَّۃِ وَغَیْرِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٢٤) شیخ فرماتے ہیں کہ یحییٰ نے جو اس کے بارے میں کہا اس وجہ سے کہ اس کا برا فعل حرہ کی لڑائی میں ظاہر ہوا۔

18231

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18231

Zaeef

(١٨٢٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ قَالَ أَبُو یُوسُفَ حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْیَاخِنَا عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ تُقَامُ الْحُدُودُ فِی دَارِ الْحَرْبِ مَخَافَۃَ أَنْ یَلْحَقَ أَہْلُہَا بِالْعَدُوِّ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٢٥) زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں اس ڈر سے کہ کہیں دشمن سے نہ جا ملے۔

18232

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18232

Zaeef

(١٨٢٢٦) قَالَ وَحَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ عُمَیْرٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی عُمَیْرِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِیِّ وَإِلَی عُمَّالِہِ أَنْ لاَ یُقِیمُوا حَدًّا عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی أَرْضِ الْحَرْبِ حَتَّی یَخْرُجُوا إِلَی أَرْضِ الْمُصَالَحَۃِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ مَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُسْتَنْکَرٌ وَہُوَ یَعِیبُ أَنْ یَحْتَجَّ بِحَدِیثٍ غَیْرِ ثَابِتٍ وَیَقُولُ حَدَّثَنَا شَیْخٌ وَمَنْ ہَذَا الشَّیْخُ وَیَقُولُ مَکْحُولٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمَکْحُولٌ لَمْ یَرَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَوْلُہُ یَلْحَقُ بِالْمُشْرِکِینَ فَإِنْ لَحِقَ بِہِمْ فَہُوَ أَشْقَی لَہُ وَمَنْ تَرَکَ الْحَدَّ خَوْفَ أَنْ یَلْحَقَ الْمَحْدُودُ بِبِلاَدِ الْمُشْرِکِینَ تَرَکَہُ فِی سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِینَ وَمَسَالِحِہِمُ الَّتِی تَأْتَصِلْ بِبِلاَدِ الْحَرْبِ ۔[ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٢٦) حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عمیر بن سعد انصاری اور اپنے عمال کو خط لکھا کہ وہ مسلمانوں پر دار الحرب میں حد نافد نہ کریں۔ یہاں تک کہ وہ صلح والی زمین پر آجائیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) سے بیان کردہ حدیث منکر ہے۔ لہٰذا غیر ثابت شدہ حدیث سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اگر وہ مشرکین سے جا ملے تو بہت برا ہے اور جس نے حد کو صرف اس لیے چھوڑا کہ وہ مشرکین سے نہ جا ملے تو مسلمانوں کی سمندری حدوں اور ان حدود میں نافذ کرے جہاں بلاد حرب ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

18233

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18233

Zaeef

(١٨٢٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الرَّازِیُّ خَتَنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْفَضْلِ الأَنْصَارِیِّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ وَعَن یَحْیَی بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : شَرِبَ عَبْدُ بْنُ الأَزْوَرِ وَضِرَارُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو بِالشَّامِ فَأُتِیَ بِہِمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ وَاللَّہِ مَا شَرِبْتُہَا إِلاَّ عَلَی تَأْوِیلٍ إِنِّی سَمِعْتُ اللَّہَ یَقُولُ { لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ } [المائدۃ ٩٣] فَکَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَمْرِہِمْ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ الأَزْوَرِ : إِنَّہُ قَدْ حَضَرَ لَنَا عَدُوُّنَا فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تُؤَخِّرَنَا إِلَی أَنْ نَلْقَی عَدُوَّنَا غَدًا فَإِنِ اللَّہُ أَکْرَمَنَا بِالشَّہَادَۃِ کَفَاکَ ذَاکَ وَلَمْ تُقِمْنَا عَلَی خِزَایَۃٍ وَإِنْ نَرْجِعْ نَظَرْتَ إِلَی مَا أَمَرَکَ بِہِ صَاحِبُکَ فَأَمْضَیْتَہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنَعَمْ فَلَمَّا الْتَقَی النَّاسُ قُتِلَ عَبْدُ بْنُ الأَزْوَرِ شَہِیدًا فَرَجَعَ الْکِتَابُ کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ الَّذِی أَوْقَعَ أَبَا جَنْدَلٍ فِی الْخَطِیئَۃِ قَدْ تَہَیَّأَ لَہُ فِیہَا بِالْحُجَّۃِ وَإِذَا أَتَاکَ کِتَابِی ہَذَا فَأَقِمْ عَلَیْہِمْ حَدَّہُمْ وَالسَّلاَمُ فَدَعَا بِہِمَا أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَدَّہُمَا وَأَبُو جَنْدَلٍ لَہُ شَرَفٌ وَلأَبِیہِ فَکَانَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ حَتَّی قِیلَ إِنَّہُ قَدْ وَسْوَسَ فَکَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّی قَدْ ضَرَبْتُ أَبَا جَنْدَلٍ حَدَّہُ وَإِنَّہُ قَدْ حَدَّثَ نَفْسَہُ حَتَّی قَدْ خَشِینَا عَلَیْہِ أَنَّہُ قَدْ ہَلَکَ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی جَنْدَلٍ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الَّذِی أَوْقَعَکَ فِی الْخَطِیئَۃِ قَدْ خَزَنَ عَلَیْکَ التَّوْبَۃَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ { حم تَنْزِیلُ الْکِتَابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصِیرُ } [غافر ١-٣] فَلَمَّا قَرَأَ کِتَابَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَہَبَ عَنْہُ مَا کَانَ بِہِ کَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٢٧) یحییٰ بن عروہ بن زبیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن ازور، ضرار بن خطاب، ابو جندل اور سہیل بن عمرو نے شام میں شراب پی۔ انھیں ابو عبیدہ بن جراح کے پاس لایا گیا۔ ابو جندل نے کہا : میں نے تو اس قرآنی آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پی : { لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } [المائدۃ ٩٣] ” ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اس میں جو انھوں نے کھایا، جب وہ اللہ سے ڈرے ہیں اور ایمان لائے نیک اعمل کیے۔ “ تو ابو عبیدہ (رض) نے ان کا معاملہ حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجا تو عبد بن ازور نے کہا کہ دشمن ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگر آپ ہمیں کل تک دشمن سے لڑنے کے لیے مہلت دیں۔ اگر اللہ نے شہادت کا مرتبہ عطا کردیا تو آپ کو یہی کافی ہے آپ ہمیں حد نہ لگائیں گے۔ اگر واپس آئے تو جو حضرت عمر (رض) کا حکم ہو کر گزرنا۔ ابو عبیدہ (رض) مان گئے تو عبد بن ازور لڑائی میں شہید کردیے گئے۔ حضرت عمر (رض) کا خط آیا کہ ابو جندل نے دلیل لینے میں غلطی کی ہے۔ جب میرا خط آپ کو مل جائے تو ان پر حد نافذ کردینا۔ والسلام ! ابو عبیدہ (رض) نے دونوں کو بلا کر حد نافذ کردی۔ ابو جندل اور اس کے والد کا ایک مقام تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ کہا گیا کہ ان کے حواس گم ہوگئے ہیں تو ابو عبیدہ نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھ دیا کہ میں نے ابو جندل کو حد لگائی تو وہ بد حواس ہوگیا۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہوجائے تو حضرت عمر (رض) نے ابو جندل کو خط لکھا۔ حمد و ثنا کے بعد : جس چیز نے آپ کو غلطی میں مبتلا کیا ہے اس کی وجہ سے آپ کے ذمہ توبہ لازم ہے { بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ۔ حٰمٓ ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ مَا یُجَادِلُ فِیْ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلاَ یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلاَدِ ۔ } [غافر ١-٣] ” اس کتاب کا نازل کرنا غالب جاننے والے خدا کی جانب سے ہے ، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا والا، قوت والا، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اللہ کی آیات کے بارے میں صرف کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کا شہروں میں پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ “ جب اس نے حضرت عمر (رض) کا خط پڑھا تو ان کی وہ کیفیت ختم ہوگئی گویا کہ وہ رسی سے کھول دیے گئے ہیں۔

18234

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18234

Sahih

(١٨٢٢٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ کَانَ اللَّیْثُ یَرَی أَنْ یُقِیمَ الْحَدَّ فِی أَرْضِ الرُّومِ لأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ { وَمَنْ یُرِدِ اللَّہُ فِتْنَتَہُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہُ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا } [المائدۃ ٤١] ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٢٨) عبداللہ بن صالح فرماتے ہیں کہ لیث کا خیال تھا کہ روم کی سر زمین پر حد جاری کی جائے؛ کیونکہ اللہ فرماتے ہیں : { مَنْ یُّرِدِ اللّٰہَ فِتْنَۃً فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا } [المائدۃ ٤١]” جس شخص کی آزمائش کا اللہ ارادہ فرمائیں تو اللہ سے اس کا کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ “