Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3578

سیر کا بیان

ضرورت کے وقت مال غنیمت کے استعمال میں رخصت ہے

3 hadiths in this chapter

18019

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18019

Zaeef

(١٨٠١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَعْمَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ صَرِیعٌ وَعَلَیْہِ بَیْضَۃٌ وَمَعَہُ سَیْفٌ جَیِّدٌ وَمَعِی سَیْفٌ رَدِیٌّ فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَہُ بِسَیْفِی وَأَذْکُرُ نَقْفًا کَانَ یَنْقُفُ رَأْسِی بِمَکَّۃَ حَتَّی ضَعُفَتْ یَدُہُ فَأَخَذْتُ سَیْفَہُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : عَلَی مَنْ کَانَتِ الدَّبْرَۃُ ؟ أَکَانَتْ لَنَا أَوْ عَلَیْنَا أَلَسْتَ رُوَیْعِیَنَا بِمَکَّۃَ ؟ قَالَ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ : قَتَلْتُ أَبَا جَہْلٍ ۔ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ قَتَلْتَہُ ؟ فَاسْتَحْلَفَنِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَامَ مَعِی إِلَیْہِمْ فَدَعَا عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠١٣) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں ابو جہل کے پاس پہنچا، وہ نیم مردہ حالت میں تھا۔ اس کے سر پر خود تھا اور اس کے پاس عمدہ تلوار تھی اور میری تلوار ہلکی تھی۔ میں اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارا اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یاد آیا۔ میں نے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہوگیا۔ میں نے اس کی تلوار پکڑ لی۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا : شکست کس کو ہوئی ؟ کیا ہمیں یا ان کو اور مجھے کہا : کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا۔ عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو قتل کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دفعہ مجھ سے قسم لی۔ پھر میرے ساتھ گئے۔ پھر ان کے لیے بددعا کی۔

18020

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18020

Sahih

(١٨٠١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ فِی الْقَتْلَی صَرِیعٌ وَمَعِی سَیْفٌ رَثٌّ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُہُ بِسَیْفِی فَلَمْ یَعْمَلْ شَیْئًا قَالَ وَنَظَرَ إِلَیَّ فَقَالَ : أَرُوَیْعِینَا بِمَکَّۃَ ؟ فَوَقَعَ سَیْفُہُ فَأَخَذْتُہُ فَضَرَبْتُہُ بِہِ حَتَّی قَتَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ أَشْتَدُّ حَتَّی أَخْبَرْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : أَنْتَ قَتَلْتَہُ ؟ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ حَتَّی اسْتَحْلَفَنِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفْتُ لَہُ ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ فَأَرِنِیہِ ۔ فَانْطَلَقَ فَأَرَیْتُہُ إِیَّاہُ فَقَالَ : کَانَ ہَذَا فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ۔ (ت) وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ بِمَعْنَاہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠١٤) عبداللہ (رض) کہتے ہیں : میں ابو جہل کے پاس آیا، وہ مقتولین میں نیم مردہ پڑا تھا۔ میرے پاس پرانی تلوار تھی۔ میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارنا شروع کردیا وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا : کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا اسی اثناء میں اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو اس کی تلوار سے قتل کردیا۔ پھر میں جلدی جلدی آیا اور آپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا : کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں تو آپ نے مجھ سے تین قسمیں لیں۔ میں نے قسمیں دیں۔ آپ نے کہا : چلو مجھے اس کو دکھاؤ۔ آپ نکلے تو میں نے ان کو دکھایا تو آپ نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔

18021

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18021

Zaeef

(١٨٠١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ بَرَائِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَقِیتُ یَوْمَ مُسَیْلِمَۃَ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ حِمَارُ الْیَمَامَۃِ رَجُلاً جَسِیمًا بِیَدِہِ سَیْفٌ أَبْیَضُ فَضَرَبْتُ رِجْلَیْہِ فَکَأَنَّمَا أَخْطَأْتُہُ فَانْقَعَرَ فَوَقَعَ عَلَی قَفَاہُ فَأَخَذْتُ سَیْفَہُ وَأَغْمَدْتُ سَیْفِی فَمَا ضَرَبْتُ بِہِ إِلاَّ ضَرْبَۃً حَتَّی انْقَطَعَ فَأَلْقَیْتُہُ وَأَخَذْتُ سَیْفِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠١٥) حضرت براء بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ مسیلمہ سے لڑائی کے دن میں ایک طاقتور آدمی سے ملا جس کو یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں عمدہ تلوار تھی۔ میں نے اس کی ٹانگوں پر مارا گویا کہ مجھ سے خطا ہوگئی۔ اس کی ٹانگیں اکھڑ گئیں اور وہ گدی کے بل گرگیا۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑا اور اپنی تلوار کو میان میں رکھا میں اس کو ایک ہی وار سے قتل کردیا پھر میں نے اس کی تلوار کو پھنک دیا اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی۔