Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3535

سیر کا بیان

جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان

11 hadiths in this chapter

17786

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17786

Sahih

(١٧٧٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ وَأَبُو نُعَیْمٍ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ نِی النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعُودُنِی وَکَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ بِأَیْدِیہِمْ وَإِنَّکَ مَہْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَۃٍ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَرْفَعَکَ فَیَنْتَفِعَ بِکَ أُنَاسٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٠) حضرت سعد بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں “ میں نے کہا : آدھے مال کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ میں نے کہا : ایک تہائی مال کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اپنے وارثوں مال داری کی حالت میں چھوڑ جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں صدقہ بن جائے گا حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی اجر ملتا ہے) اور شاید کہ رفعت عطاء فرمائے اور تیری وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں (یعنی کافروں، مشرکوں) کو نقصان۔

17787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17787

Sahih

(١٧٧٨١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : یَعُودُنِی وَأَنَا مَرِیضٌ بِمَکَّۃَ وَہْوَ یَکْرَہُ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا فَقَالَ : یَرْحَمُکَ اللَّہُ ابْنَ عَفْرَائَ ۔ ثُمَّ ذَکَرَہُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری و مسلم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨١) مذکورہ حدیث کو اسی سند اور اسی معنیٰ کے ساتھ بیان کیا سوائے ان الفاظ کی زیادتی کے ساتھ کہ میں مکہ میں مریض تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور وہ ناپسند کرتے تھے کہ ان کی وفات اسی زمین پر ہو جس سے انھوں نے ہجرت کی ہے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن عفرائ ! اللہ تجھ پر رحم کرے۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔

17788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17788

Sahih

(١٧٧٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ مَرِضَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَی مِنْہُ عَلَی الْمَوْتِ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعُودُہُ وَہُوَ بِمَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُخَلَّفُ عَنْ ہِجْرَتِی ؟ قَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِی فَتَعْمَلَ عَمَلاً تُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ رِفْعَۃً وَدَرَجَۃً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ ۔ یَرْثِی لَہُ أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٢) عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ان کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ فتح مکہ کے سال مکہ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری میں ان کو اپنی موت کا اندیشہ ہوا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیادت کرنے کے لیے آئے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو میرے بعد ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پس تم نیک اعمال کرتے رہو اور جو بھی تم اللہ کی رضا کے لیے کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تمہارے مقام و مرتبے کو بڑھاتے جائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور تیری وجہ سے اللہ بعض لوگوں کو نفع پہنچائیں اور بعضوں کو نقصان۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی : اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دینا لیکن فقیر سعد بن خولہ، ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں ہی فوت ہوئے۔

17789

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17789

Sahih

(١٧٧٨٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : یَرْثِی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ ۔ قَالَ سُفْیَانُ : وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری، تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٣) اسی سند اور انہی معنیٰ کے ساتھ مذکورہ بالا روایت منقول ہے سوائے ان الفاظ کے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں فوت ہوئے اور سفیان نے کہا کہ سعد بن خولہ بنی عامر بن لؤی قبیلہ کے ایک آدمی ہیں۔

17790

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17790

Sahih

(١٧٧٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنصُورٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ عَنْ ثَلاَثَۃٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ کُلُّہُمْ یُحَدِّثُہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَی سَعْدٍ یَعُودُہُ بِمَکَّۃَ فَبَکَی فَقَالَ : مَا یُبْکِیکَ ؟ ۔ قَالَ : قَدْ خَشِیتُ أَنْ أَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرْتُ مِنْہَا کَمَا مَاتَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ اشْفِ سَعْدًا اللَّہُمَّ اشْفِ سَعْدًا ۔ ثَلاَثَ مِرَارٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٤) حضرت سعد (رض) کے تین بیٹے سب کے سب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رونے لگ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میری موت اس زمین میں واقع ہو جس سے میں نے ہجرت کی ہے۔ جیسا کہ سعد بن خولہ کی وفات اسی شہر میں ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔ تین دفعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی۔

17791

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17791

Zaeef

(١٧٧٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَمْرٍو الْقَارِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِیضًا حَیْثُ خَرَجَ إِلَی حُنَیْنٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَنِ الْجِعْرَانَۃِ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَیْہِ وَہُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّ لِی مَالاً وَإِنِّی أُورَثُ کَلاَلَۃً فَأُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِہِ ۔ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَوْصَی بِشَطْرِہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَذَاکَ کَثِیرٌ ۔ قَالَ : أَیْ رَسُولَ اللَّہِ أُصِیبُ بِالدَّارِ الَّتِی خَرَجْتُ مِنْہَا مُہَاجِرًا۔ قَالَ : إِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَرْفَعَکَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ یُکَادَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیَنْتَفِعُ بِکَ آخَرُونَ یَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِیِّ إِنْ مَاتْ سَعْدٌ بَعْدِی فَہَا ہُنَا ادْفِنْہُ نَحْوَ طَرِیقِ الْمَدِینَۃِ ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ ہَکَذَا۔ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ تُوَافِقُ رِوَایَۃَ سُفْیَانَ فِی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ عَامَ الْفَتْحِ وَسَائِرُ الرُّوَاۃِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالُوا فِیہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَاخْتُلِفَ فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَلَی ابْنِ خُثَیْمٍ فِی اسْمِ حَفَدَۃِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِیِّ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٥) حضرت عمرو قاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور جب آپ حنین جانے لگے تو آپ نے حضرت سعد (رض) کو پیچھے چھوڑ دیا اور جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھال غشی کی حالت میں تھے۔ (افاقہ کے بعد) حضرت سعد (رض) نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں مال دار آدمی اور میرا وارث بھی کوئی نہیں ہے (یعنی کلالہ) کیا میں سارے مال کی وصیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ انھوں نے کہا : کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت سعد (رض) نے کہا : کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ انھوں نے پھر کہا : کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اور یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر حضرت سعد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایسی جگہ پر بیماری میں مبتلا ہوں، جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے اور تیرے ذریعے سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائے اور بعض کو فائدہ۔ پھر آپ نے کہا : اے عمرو بن قاری ! اگر میرے بعد سعد فوت ہوجائے تو اسے یہاں دفن کرنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے راستے کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ یہ روایت بھی سفیان کی روایت کے موافق ہے جس میں ہے کہ یہ واقعہ عام الفتح میں پیش آیا جبکہ باقی رواۃ زہری کے طریق سے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال میں پیش آیا اور اسی طرح اس روایت میں ابن خیثم نام کے آدمی میں بھی اختلاف کیا گیا ہے جو عمرو بن قاری کے پوتے ہیں۔

17792

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17792

Zaeef

(١٧٧٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ قَالَ : خَلَّفَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی سَعْدٍ رَجُلاً فَقَالَ : إِنْ مَاتَ فَلاَ تَدْفِنُوہُ بِہَا ۔ [ضعیف۔ مرسل ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٦) حضرت عبدالرحمن اعرج (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد پر ایک آدمی مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر وہ یہاں فوت ہوجائیں تو انھیں اس جگہ دفن نہ کرنا۔

17793

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17793

Sahih

(١٧٧٨٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ قَالَ سَعْدٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَیُکْرَہُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَکَذَلِکَ مَا قَبْلَہُ ۔ [صحیح لغیرہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٧) حضرت ابو بردہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا یہ بات آدمی کے لیے ناپسندیدہ ہے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہو اسی میں اس کو موت آئے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! یہ روایت بھی مرسل ہے اور اس سے ماقبل بھی۔

17794

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17794

Sahih

(١٧٧٨٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ خَشْرَمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ الأَسَدِیِّ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَکْرَہُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی یُہَاجِرُ مِنْہَا۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٨) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ آدمی کے لیے یہ چیز ناپسندیدہ ہے کہ جس زمین سے وہ ہجرت کرے اور پھر اسی ہی زمین پر اسے موت آئے۔

17795

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17795

Sahih

(١٧٧٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَیْسَرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ قَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تَجْعَلْ مَنَایَانَا فِیہَا حَتَّی تُخْرِجَنَا مِنْہَا ۔ تَابَعَہُ وَکِیعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٨٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوتے تو فرماتے : اے اللہ ! ہمیں اس زمین پر موت نہ دینا جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ وکیع نے عبداللہ بن سعید کی متابعت کی ہے۔

17796

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17796

Sahih

(١٧٧٩٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : الْقَاسِمُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ الْہَمَذَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَتِیقٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّمَا النَّاسُ کَإِبِلِ مِائَۃٍ لاَ تَکَادُ تَجِدُ فِیہَا رَاحِلَۃً ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ] قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ لاَ تَتَّخِذُوا الأَمْوَالَ بِمَکَّۃَ وَأَعِدُّوہَا بِدَارِ ہِجْرَتِکُمْ فَإِنَّ قَلْبَ الرَّجُلِ عِنْدَ مَالِہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٠) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں جن میں ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : اے مہاجرین کی جماعت ! اپنے مالوں کو مکہ میں جمع نہ کرو اور ان کو اپنے ہجرت کے گھر میں مہیا نہ کرو، کیونکہ آدمی کا دل اس کے مال کے پاس ہوتا ہے۔