Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3532

سیر کا بیان

مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و

6 hadiths in this chapter

17761

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17761

Sahih

(١٧٧٥٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : أَنَا وَأُمِّی مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ کَانَتْ أُمِّی مِنَ النِّسَائِ وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٥) عبیداللہ بن یزید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سنا : وہ فرما رہے تھے کہ میں اور میری والدہ مستضعفین میں سے تھے۔ میری والدہ عورتوں میں اور میں بچوں میں شامل تھا۔

17762

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17762

Sahih

(١٧٧٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا اجْتَمَعْنَا لِلْہِجْرَۃِ اتَّعَدْتُ أَنَا وَعَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَہِشَامُ بْنُ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَقُلْنَا الْمِیعَادُ بَیْنَنَا التَّنَاضُبُ مِنْ أَضَاۃِ بَنِی غِفَارٍ فَمَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ لَمْ یَأْتِہَا فَقَدْ حُبِسَ فَلْیَمْضِ صَاحِبَاہُ فَأَصْبَحَتُ عِنْدَہُ أَنَا وَعَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَحُبِسَ عَنَّا ہِشَامٌ وَفُتِنَ فَافْتَتَنَ وَقَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَکُنَّا نَقُولُ مَا اللَّہُ بِقَابِلٍ مِنْ ہَؤُلاَئِ تَوْبَۃً قَوْمٌ عَرَفُوا اللَّہُ وَآمَنُوا بِہِ وَصَدَّقُوا رَسُولَہُ ثُمَّ رَجَعُوا عَنْ ذَلِکَ لِبَلاَئٍ أَصَابَہُمْ مِنَ الدُّنْیَا وَکَانُوا یَقُولُونَہُ لأَنْفُسِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ { قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ } إِلَی قَوْلِہِ { مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِینَ } [الزمر ٦٠] قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبْتُہَا بِیَدِی کِتَابًا ثُمَّ بَعَثْتُ بِہَا إِلَی ہِشَامٍ فَقَالَ ہِشَامُ بْنُ الْعَاصِ فَلَمَّا قَدِمَتْ عَلَیَّ خَرَجْتُ بِہَا إِلَی ذِی طُوًی فَجَعَلْتُ أُصَعِّدُ بِہَا وَأُصَوِّبُ لأَفْہَمَہَا فَقُلْتُ اللَّہُمَّ فَہِّمْنِیہَا فَعَرَفْتُ أَنَّمَا أُنْزِلَتْ فِینَا لِمَا کُنَّا نَقُولُ فِی أَنْفُسِنَا وَیُقَالُ فِینَا فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَی بَعِیرِی فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ ہِشَامٌ شَہِیدًا بِأَجْنَادِینَ فِی وِلاَیَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٦) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم ہجرت کے لیے اکٹھے ہوئے تو میں نے اور عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص نے آپس میں طے کیا کہ ہم فلاں جگہ صبح صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے مدینہ کو ہجرت کرنی ہے تو جو صبح کے وقت وہاں نہ پہنچا اور اس کو روک لیا گیا تو اس کے دونوں ساتھی سفر شروع کردیں گے تو کہتے ہیں کہ میں اور عیاش بن ابی ربیعہ اس جگہ پر پہنچ گئے اور ہشام بن عاص کو قید کرلیا گیا اور اس کو سخت تکلیفوں میں ڈالا گیا اور وہ ان تکلیفوں اور فتنوں میں گھر گیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنے والے نہیں کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی۔ پھر دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے اس سے پھرگئے اور وہ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل کیں : { قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ } اس قول تک { جَہَنَّمَ مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِیْنَ ۔ } [الزمر ٦٠] ” اے نبی ! میرے بندوں سے کہہ دو ، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کرلی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے نہ امید نہ ہوں۔ بیشک اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ان کو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط میں لکھ کر ہشام کی طرف بھیج دیا۔ پھر ہشام بن عاص کہتے ہیں کہ جب یہ خط میرے پاس آیا تو میں اسے لے کر ذی طوی کی طرف نکل گیا اور میں اس کو اوپر سے نیچے تک (پڑھتا) اور اللہ سے دعا کرتا : یا اللہ ! مجھے اس کی سمجھ عطاء فرما تو پھر میں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئیں ہیں کیونکہ ہم اپنے بارے میں کہا کرتے تھے۔ پھر کہتے ہیں کہ میں اس کے بعد لوٹا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملا۔ آخر کار حضرت ہشام (رض) حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں اور ان کے لشکر میں شہید ہوئے۔

17763

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17763

Zaeef

(١٧٧٥٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِیمَنْ کَانَ یُفْتَنُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَکَّۃَ { ثُمَّ إِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِینَ ہَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاہَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّک مِنْ بَعْدِہَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ} [النحل ١١٠] ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت : { ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰھَدُوْا وَ صَبَرُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔} ” جن لوگوں نے فتنے میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی اور جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا، بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انھیں بخشنے والا اور مہربان ہے۔ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں مکہ میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔

17764

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17764

Sahih

(١٧٧٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَسْلَمَ عَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَہَاجَرَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَائَ ہُ أَبُو جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ وَہُوَ أَخُوہُ لأُمِّہِ وَرَجُلٌ آخَرُ مَعَہُ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ أُمَّکَ تُنَاشِدُکَ رَحِمَہَا وَحَقَّہَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہَا فَأَقْبَلَ مَعَہُمَا فَرَبَطَاہُ حَتَّی قَدِمَا بِہِ مَکَّۃَ فَکَانَا یُعَذِّبَانِہِ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٨) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس ان کے اخیافی بھائی ابو جہل بن ہشام اور ان کے ساتھ ایک اور آدمی آیا اور انھوں نے ان سے کہا کہ تیری ماں تجھے اپنی قربت اور اپنے حق کی قسم دیتی ہے کہ تو اس کی طرف لوٹ آ تو حضرت عیاش بن ابی ربیعہ ان کے ساتھ لوٹ آئے تو انھوں نے ان کو باندھ دیا اور مدینہ میں لا کر طرح طرح کی سزائیں دیں۔

17765

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17765

Sahih

(١٧٧٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانَ نَاسٌ بِمَکَّۃَ قَدْ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ إِلَی بَدْرٍ لَمْ یَبْقَ أَحَدٌ۔ إِلاَّ أَخْرَجُوہُ فَقُتِلَ أُولَئِکَ الَّذِینَ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَنَزَلَتْ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِین تَوَفَّاہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ ظَالِمِی أَنْفُسِہِمْ } إِلَی قَوْلِہِ { وَسَائَ تْ مَصِیرًا } [النساء ٩٧-٩٨] { حِیلَۃ } نُہُوضًا إِلَیْہَا وَ { سَبِیلاً } [آل عمران ٩٧] طَرِیقًا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَکَتَبَ الْمُسْلِمُونَ الَّذِینَ کَانُوا بِالْمَدِینَۃِ إِلَی مَنْ کَانَ بِمَکَّۃَ فَلَمَّا کُتِبَ إِلَیْہِمْ خَرَجَ نَاسٌ مِمَّنْ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَاتَّبَعَہُمُ الْمُشْرِکُونَ فَأَکْرَہُوہُمْ حَتَّی أَعْطُوہُمُ الْفِتْنَۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ {إِلاَّ مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِیمَانِ } [النحل ١٠٦] ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٩) حضرت عکرمہ (رض) کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مکہ میں اسلام کا اقرار کرلیا۔ جب لوگوں نے بدر کی طرف کوچ کیا تو انھوں نے ان کو بھی نکلوا لیا اور ساتھ لے لیا تو یہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا قتل کردیے گئے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ۔۔۔} اس قول تک { وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ } [النساء ٩٧] ” جب ظالم لوگوں کی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں : تم کن میں تھے ؟ “ ( (حِیْلَۃً ) ) کا معنی ہے اس کی طرف اٹھنا، جانا اور ( (سَبِیْلًا) ) کا معنیٰ ہے مدینہ کی طرف راستہ، پس مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کی طرف خط لکھے جب ان کی طرف خط لکھے گئے تو مکہ کے ان نو مسلمانوں میں سے کچھ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دو چار کیا تو ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ۔۔۔} [النحل ١٠٦]” جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے لبریز ہو تو اس پر کلمہ کفر کہنے پر کوئی گناہ نہیں۔ “

17766

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17766

Sahih

(١٧٧٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ۔ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ اللَّہُمَّ أَنْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ اللَّہُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَیْبَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٦٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ( (سمع اللہ لمن حمدہ) ) کہتے تو سجدہ کرنے سے پہلے آپ ان لوگوں کے لیے دعا کرتے ” اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے اے اللہ ! مؤمنین میں سے جو کمزور لوگ ہیں ان کو نجات دے، اے اللہ ! اپنی پکڑ کو مضر قبیلے پر سخت کر دے اے اللہ ! ان پر ایسی قحط سالی ڈال جس طرح تو نے یوسف کے لوگوں پر قحط سالی ڈالی تھی۔