Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3526

سیر کا بیان

ہجرت کی اجازت کا بیان

5 hadiths in this chapter

17740

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17740

Sahih

(١٧٧٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا ضَاقَتْ عَلَیْنَا مَکَّۃُ وَأُوذِیَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَفُتِنُوا وَرَأَوْا مَا یُصِیبُہُمْ مِنَ الْبَلاَئِ وَالْفِتْنَۃِ فِی دِینِہِمْ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ یَسْتَطِیعُ دَفْعَ ذَلِکَ عَنْہُمْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی مَنْعَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ وَعَمِّہِ لاَ یَصِلُ إِلَیْہِ شَیْئٌ مِمَّا یَکْرَہُ مَمَّا یَنَالُ أَصْحَابَہُ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ مَلِکًا لاَ یُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَہُ فَالْحَقُوا بِبِلاَدِہِ حَتَّی یَجْعَلَ اللَّہُ لَکُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِیہِ ۔ فَخَرَجْنَا إِلَیْہَا أَرْسَالاً حَتَّی اجْتَمَعْنَا بِہَا فَنَزَلْنَا ِخَیْرِ دَارٍ إِلَی خَیْرِ جَارٍ أَمِنَّا عَلَی دِینِنَا وَلَمْ نَخْشَ مِنْہُ ظُلْمًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٣٤) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہوگیا اور اصحابِ رسول کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے اپنے دین پر عمل کرنے سے آزمائشوں اور فتنوں کو دیکھا اور یہ کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے دفاع سے قاصر ہیں کیونکہ درمیان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم اور آپ کے چچا رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں میں بےبس ہوگئے تو آپ نے ان سے کہا کہ حبشہ کی سر زمین میں ان کا بادشاہ اپنے پاس کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا لہٰذا تم ان کے شہر میں چلے جاؤ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے متبادل تمہارے لیے اور راستہ نہ نکال دے۔ پھر ہم آہستہ آہستہ یہاں سے نکلے حتیٰ کہ ہم حبشہ میں جمع ہوگئے اور ہم اچھے گھر اور اچھے پڑوس میں تھے۔ وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔

17741

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17741

Sahih

(١٧٧٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ : مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَبِثَ عَشْرَ سِنِینَ یَتْبَعُ الْحَاجَّ فِی مَنَازِلِہِمْ فِی الْمَوَاسِمِ بِمَجِنَّۃَ وَعُکَاظٍ وَمَنَازِلِہِمْ بِمِنًی : مَنْ یُئْوِینِی وَیَنْصُرُنِی حَتَّی أَبَلِّغَ رِسَالاَتِ رَبِّی وَلَہُ الْجَنَّۃُ ؟ ۔ فَلَمْ یَجِدْ أَحَدًا یُئْوِیہِ وَیَنْصُرُہُ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَدْخُلُ ضَاحِیَۃً مِنْ مُضَرَ وَالْیَمَنِ فَیَأْتِیہِ قَوْمُہُ أَوْ ذُو رَحِمِہِ فَیَقُولُونَ : احْذَرْ فَتَی قُرَیْشٍ لاَ یُصِیبُکَ یَمْشِی بَیْنَ رِحَالِہِمْ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللَّہِ یُشِیرُونَ إِلَیْہِ بِأَصَابِعِہِمْ حَتَّی یَبْعَثَنَا اللَّہُ مِنْ یَثْرِبَ فَیَأْتِیہِ الرَّجُلُ مِنَّا فَیُؤْمِنُ بِہِ وَیُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ فَیَنْقَلِبُ إِلَی أَہْلِہِ فَیُسْلِمُونَ بِإِسْلاَمِہِ حَتَّی لَمْ یَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ یَثْرِبَ إِلاَّ فِیہَا رَہْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یُظْہِرُونَ الإِسْلاَمَ ثُمَّ یَبْعَثُنَا اللَّہُ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعِینَ رَجُلاً مِنَّا فَقُلْنَا حَتَّی مَتَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُطْرَدُ فِی جِبَالِ مَکَّۃَ وَیُخَالُ أَوْ قَالَ وَیُخَافُ ۔ فَرَحَلْنَا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ الْمَوْسِمَ فَوَعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَۃِ فَاجْتَمَعْنَا فِیہِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَیْنِ حَتَّی تَوَافَیْنَا فِیہِ عِنْدَہُ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَا نُبَایِعُکَ ؟ قَالَ : تُبَایِعُونِی عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ وَعَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِی اللَّہِ لاَ یَأْخُذُکُمْ فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ وَعَلَی أَنْ تَنْصُرُونِی إِنْ قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ یَثْرِبَ وَتَمْنَعُونِی مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃُ ۔ فَقُلْنَا : نُبَایِعُکَ فَأَخَذَ بِیَدِہِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ وَہُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِینَ رَجُلاً إِلاَّ أَنَا فَقَالَ : رُوَیْدًا یَا أَہْلَ یَثْرِبَ إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَیْہِ أَکْبَادَ الْمَطِیِّ إِلاَّ وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ وَأَنَّ إِخْرَاجَہُ الْیَوْمَ مُفَارَقَۃُ الْعَرَبِ کَافَّۃً وَقَتْلُ خِیَارِکُمْ وَأَنْ تَعُضَّکُمُ السُّیُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَی عَضِّ السُّیُوفِ وَقَتْلِ خِیَارِکُمْ وَمُفَارَقَۃِ الْعَرَبِ کَافَّۃً فَخُذُوہُ وَأَجْرُکُمْ عَلَی اللَّہِ وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِکُمْ خِیفَۃً فَذَرُوہُ فَہُوَ أَعْذَرُ لَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ ۔ فَقَالُوا : أَخِّرْ عَنَّا یَدَکَ یَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَۃَ فَوَاللَّہِ لاَ نَذَرُ ہَذِہِ الْبَیْعَۃَ وَلاَ نَسْتَقِیلُہَا فَقُمْنَا إِلَیْہِ رَجُلاً رَجُلاً یَأْخُذُ عَلَیْنَا شَرْطَہُ وَیُعْطِینَا عَلَی ذَلِکَ الْجَنَّۃَ ۔ [حسن۔ حدیث حاکم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٣٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مکہ) میں دس سال ٹھہرے اور موسم حج میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حاجیوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے جو مجنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : جو مجھے ٹھکانا دے گا اور میری مدد کرے گا حتیٰ کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوں تو اس کے لیے جنت ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ٹھکانا اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا حتی کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیز و اقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچنا اور اس سے ملاقات نہ کرنا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فرمایا اور ہم میں سے کوئی آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور وہ آپ پر ایمان لے آیا اور آپ اسے قرآن کی تعلیم دیتے۔ پھر وہ آدمی اپنے گھر لوٹا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اس کے اہل و عیال بھی اسلام قبول کرلیتے حتیٰ کہ یثرب (مدینہ) میں کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا کہ آپ کو کب تک مکہ کے پہاڑوں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ خوف کی زندگی ان پہاڑوں میں گزاریں گے۔ اس کے بعد ہم نے وہاں سے کوچ کیا اور موسم حج میں آپ سے ملاقات کی تو آپ نے شعب عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا حتیٰ کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے ہوگئے اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ کی کس بات پر بیعت کریں تو آپ نے فرمایا : تم میری بیعت اطاعت و فرمان برداری پر کرو۔ خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی اور خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر اور اللہ کے دین کی دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے پر اور اس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب آؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا جس چیز سے تم اپنے آپ کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولادوں کو بچاتے ہو تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے۔ “ ہم نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو حضرت سعد بن زرارہ نے جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : ” اہل یثرب ذرا ٹھہر جاؤ ! ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو ۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہوگا۔ “ تو لوگوں نے بیک آواز کہا ” سعد بن زرارہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ ! اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض جنت کی بشارت دی۔

17742

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17742

Zaeef

(١٧٧٣٦) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَکَّۃَ فَأُمِرَ بِالْہِجْرَۃِ وَأُنْزِلَ عَلَیْہِ { وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صَدَقٍ وَأَخْرِجْنِی مَخْرَجَ صَدْقٍ وَاجَعَلْ لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیرًا } [الاسراء ٨٠] ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٣٦) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : { وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔ } [الاسراء ٨٠]” اور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور مددگار مقرر فرما۔ “

17743

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17743

Sahih

(١٧٧٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یَوْمَئِذٍ بِمَکَّۃَ لِلْمُسْلِمِینَ : قَدْ رَأَیْتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ أُرِیتُ سَبَخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لاَبَتَیْنِ وَہُمَا الْحَرَّتَانِ ۔ فَہَاجَرَ مَنْ ہَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِینَۃِ حِینَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ بَعْضُ مِنْ کَانَ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ مِنْ الْمُسْلِمِینَ وَتَجَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُہَاجِرًا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَلَی رِسْلِکِ فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُؤْذَنَ لِی ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَتَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَفْسَہُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِصَحَابَتِہِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ عِنْدَہُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ بِطُولِہِ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ وَیُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٢٩٨]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٣٧) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں سے فرمایا : ” مجھے تمہارا مقام ہجرت دکھایا گیا ہے، یہ لاوے کی دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے۔ “ اس کے بعد لوگوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔ عام مہاجرین حبشہ بھی مدینہ ہی آگئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے بھی سفر مدینہ کے لیے ساز و سامان تیار کرلیا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ذرا رکے رہو، کیونکہ توقع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ ابوبکر (رض) نے کہا : میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فدا ! کیا آپ کو اس پر امید ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اس کے بعد ابوبکر (رض) رکے رہے تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کریں۔ ان کے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ انھیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا۔

17744

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17744

Sahih

(١٧٧٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوالْوَلِیدِ : ہِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ الْبَاہِلِیُّ وَأَبُوعُمَرَ : حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُوإِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : کَانَ أَوَّلُ مِنْ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُصْعَبَ بْنَ عُمَیْرٍ وَابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَا یَقْرَآنِ الْقُرْآنَ ثُمَّ جَائَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَبِلاَلٌ وَسَعْدٌ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی عِشْرِینَ یَعْنِی مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَا رَأَیْتُ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَرِحُوا بِشَیْئٍ قَطُّ فَرَحَہُمْ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ الْوَلاَئِدَ وَالصِّبْیَانَ یَسْعَوْنَ فِی الطَّرِیقِ یَقُولُونَ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فَمَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ حَتَّی قَرَأْتُ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } [الأعلی ١] فِی سُوَرٍ مِثْلِہَا مِنَ الْمُفَصَّلِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ۔ [صحیح۔ بخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٣٨) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے (یعنی مدینہ میں) حضرت مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم (رض) تھے۔ وہ دونوں قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے، پھر عمار بن یاسر، بلال اور سعد (رض) آئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے بیسویں نمبر پر حضرت عمر بن خطاب (رض) آئے۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اتنی خوشی منائی کہ میں نے اس سے پہلے اتنا خوش ہوتے ہوئے انھیں نہیں دیکھا۔ حتی کہ میں لڑکوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ مدینے کی گلیوں میں دوڑتے ہوئے یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } [الأعلی ١] اور اس جیسی مفصل سورتیں پڑھ لی تھیں۔