Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 58 · Chapter 3406

حدود کا بیان

اس شخصکا بیان جس نے شادی کی لیکن اپنی بیوی کو چھوا تک نہیں، پھر اس سے زنا ہوگیا

4 hadiths in this chapter

16951

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16951

Zaeef

(۱۶۹۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ أَخْبَرَکَ أَبُوکَ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَنْظُورِ بْنِ زَبَّانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَلَمْ یَمَسَّہَا ثُمَّ زَنَی فَقَالَ سَعِیدٌ : السُّنَّۃُ فِیہِ أَنْ یُجْلَدَ وَلاَ یُرْجَمَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٤٥) سعید بن مسیب سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کی شادی ہوئی ، لیکن اپنی بیوی سے وطی نہیں کی، پھر اس سے زنا ہوجائے تو ؟ فرمایا : اس میں سنت یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں رجم نہ کیا جائے۔

16952

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16952

Zaeef

(۱۶۹۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عِجْلٍ قَالَ : جِئْتُ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِصِفِّینَ فَإِذَا رَجُلٌ فِی زَرْعٍ یُنَادِی إِنِّی قَدْ أَصَبْتُ فَاحِشَۃً فَأَقِیمُوا عَلَیَّ الْحَدَّ فَرَفَعْتُہُ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَدَخَلْتَ بِہَا۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَجَلَدَہُ مِائَۃً وَأَغْرَمَہُ نِصْفَ الصَّدَاقِ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٤٦) سماک بن حرب کہتے ہیں کہ بنو عجل کے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ جنگ صفین میں میں حضرت علی کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک آدمی چیخنے لگا : میں نے زنا کرلیا ہے، مجھ پر حد قائم کی جائے۔ میں اسے علی کے پاس لے گیا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : شادی کی ہے ؟ کہا : ہاں، پوچھا : بیوی سے دخول بھی کیا ہے ؟ کہا : نہیں تو اسے سو کوڑے مارے اور بیوی کو نصف حق مہر دلوایا اور ان کے درمیان جدائی کروا دی۔

16953

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16953

Zaeef

(۱۶۹۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَنَشَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ قَالَ : تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَۃً فَزَنَی قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا فَأَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہِ الْحَدَّ فَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَۃَ لاَ تَرْضَی أَنْ تَکُونَ عِنْدَہُ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہِ : أَمَّا التَّفْرِیقُ بَیْنَہُمَا بِالزِّنَا حُکْمًا فَلاَ نَقُولُ بِہِ لِمَا ذَکَرْنَا فِی کِتَابِ النِّکَاحِ مِنَ الْحُجَجِ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا بِرِضَاہُ بِالتَّفْرِیقِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٤٧) حنش بن معتمر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، پھر دخول سے پہلے اس نے کسی سے زنا کرلیا تو حضرت علی نے اس پر حد لگا دی اور عورت نے بھی اس کے پاس نہ رہنا چاہا تو ان میں بھی جدائی کروا دی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان جدائی حکماً تھی۔ ہم یہ نہیں کہتے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کی رضا مندی سے تفریق کرائی گئی ہو۔

16954

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16954

Zaeef

(۱۶۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ تَزَوَّجَ مِمَّنْ لَمْ یَکُنْ أَحْصَنَ قَبْلَ ذَلِکَ فَزَنَی قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِامْرَأَتِہِ فَلاَ رَجْمَ عَلَیْہِ وَالْمَرْأَۃُ مِثْلُ ذَلِکَ فَإِنْ دَخَلَ بِامْرَأَتِہِ سَاعَۃً مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ أَوْ أَکْثَرَ فَزَنَی بَعْدَ ذَلِکَ فَعَلَیْہِ الرَّجْمُ وَالْمَرْأَۃُ مِثْلُ ذَلِکَ وَالإِمَائُ أُمَّہَاتُ الأَوْلاَدِ لاَ یُوجِبْنَ الرَّجْمَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٤٨) ابو زناد کہتے ہیں کہ میں نے فقہاء اہل مدینہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی شادی شدہ ہو، لیکن بیوی سے نہملا ہو، پھر اس سے زنا ہوجائے تو اس پر رجم نہیں ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے اور لونڈیوں اور اوالاد کی ماؤں پر رجم نہیں ہے۔