Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 57 · Chapter 3399

مرتد کا بیان

جس کو زبردستی مرتد بنایا جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا } [النحل ١٠٦]

5 hadiths in this chapter

16902

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16902

Zaeef

(۱۶۸۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَخَذَ الْمُشْرِکُونَ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ فَلَمْ یَتْرُکُوہُ حَتَّی سَبَّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَذَکَرَ آلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ ثُمَّ تَرَکُوہُ فَلَمَّا أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا وَرَائَ کَ؟ ۔ قَالَ : شَرٌّ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تُرِکْتُ حَتَّی نِلْتُ مِنْکَ وَذَکَرْتُ آلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ۔ قَالَ : کَیْفَ تَجِدُ قَلْبَکَ؟ قَالَ : مُطْمَئِنًا بِالإِیمَانِ۔ قَالَ : إِنْ عَادُوا فَعُدْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٩٦) عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ مجھے مشرکین نے پکڑ لیا اور انھوں نے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا اور ان کے الہٰوں کو اچھا نہکہہ دیا۔ جب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا : کیا ہوا ؟ میں نے کہا : بہت برا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں برا اور ان کے الٰہ کے بارے میں اچھا نہ کہہدیا تب تک انھوں نے مجھے نہیں چھوڑا۔ فرمایا تیرے دل کی کیا حالت تھی ؟ کہا : ایمان پر مطمئن تھا تو فرمایا : کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تو بھی کردینا۔

16903

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16903

Sahih

(۱۶۸۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِیِّ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ أَظْہَرَ إِسْلاَمَہُ سَبْعَۃٌ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ وَعَمَّارٌ وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ وَصُہَیْبٌ وَبِلاَلٌ وَالْمِقْدَادُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِعَمِّہِ أَبِی طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِقَوْمِہِ وَأَمَّا سَائِرُہُمْ فَأَخَذَہُمُ الْمُشْرِکُونَ فَأَلْبَسُوہُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ وَأَوْثَقُوہُمْ فِی الشَّمْسِ فَمَا مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وَاتَاہُمْ عَلَی مَا أَرَادُوا غَیْرَ بِلاَلٍ فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللَّہِ وَہَانَ عَلَی قَوْمِہِ فَأَعْطُوہُ الْوِلْدَانَ فَجَعَلُوا یَطُوفُونَ بِہِ فِی شِعَابِ مَکَّۃَ وَجَعَلَ یَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٩٧) عبداللہ کہتے ہیں کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تو سب سے پہلے سات لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابو بکر، عمار، سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد (رض) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ نے ان کے چچا اور ابوبکر کو اللہ نے ان کی قوم کے ذریعے بچایا، لیکن باقیوں کو مشرکین نے پکڑ کر بہت اذیتیں دیں۔ انھیں لوہے کی بیڑیاں پہنا کر دھوپ میں پھینک دیا جاتا تو ان میں سے ہر ایک نے مشرکین کے مطالبات مان لیے۔ علاوہ بلال کے انھوں نے اپنے نفس اور قوم کو اللہ پر حقیر سمجھا۔ ان کو بچوں کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا۔ وہ بچے ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور یہ اپنی زبان سے صرف أحد أحد پکار رہے ہوتے۔

16904

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16904

Zaeef

(۱۶۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ أَکَانَ الْمُشْرِکُونَ یَبْلُغُونَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی الْعَذَابِ مَا یُعْذَرُونَ بِہِ فِی تَرْکِ دِینِہِمْ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَاللَّہِ إِنْ کَانُوا لَیَضْرِبُونَ أَحَدَہُمْ وَیُجِیعُونَہُ وَیُعَطِّشُونَہُ حَتَّی مَا یَقْدِرُ عَلَی أَنْ یَسْتَوِیَ جَالِسًا مِنْ شِدَّۃِ الضُّرِّ الَّذِی بِہِ حَتَّی إِنَّہُ لَیُعْطِیہِمْ مَا سَأَلُوہُ مِنَ الْفِتْنَۃِ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٩٨) سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ کیا جب مسلمان مشرکین کے دین کو چھوڑتے تھے تو کیا وہ انھیں عذاب دیتے تھے ؟ فرمایا : ہاں وہ اتنا مارتے اور بھوکا پیاسا رکھتے کہ تکلیف کی وجہ سے وہ سیدھا بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ زبان سے وہ کلماتکہہ دیتا جو وہ طلب کرتے تھے۔

16905

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16905

Zaeef

(۱۶۸۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {إِلاَّ مَنْ أَکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌ بِالإِیمَانِ} قَالَ : أَخْبَرَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ أَنَّہُ مَنْ کَفَرَ بَعْدَ إِیمَانِہِ فَعَلَیْہِ غَضَبٌ مِنَ اللَّہِ وَلَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ فَأَمَّا مَنْ أُکْرِہَ فَتَکَلَّمَ بِلِسَانِہِ وَخَالَفَہُ قَلْبُہُ بِالإِیمَانِ لِیَنْجُوَ بِذَلِکَ مِنْ عَدُوِّہِ فَلاَ حَرَجَ عَلَیْہِ إِنَّ اللَّہَ سُبْحَانَہُ إِنَّمَا یَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عَقَدَتْ عَلَیْہِ قُلُوبُہُمْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٩٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے : { اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ } [النحل ١٠٦] اللہ نے اس میں یہ بتایا ہے کہ جو اسلام کے بعد دین تبدیل کرے تو اس پر اللہ کا غضب ہے اور عذاب عظیم ہے لیکن جس کو مجبور کیا جائے اور وہ صرف ان کا نجات حاصل کرنے کے لیے زبان سے کچھ کہہ دے تو کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر پکڑتے ہیں جو بندہ دل سے کرتا ہے۔

16906

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16906

Sahih

(۱۶۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ سَعِیدٍ یَذْکُرُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْہُمْ تُقَاۃً} قَالَ : وَالتُّقَاۃُ التَّکَلُّمُ بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبُ مُطْمَئِنٌ بِالإِیمَانِ وَلاَ یَبْسُطُ یَدَہُ فَیَقْتُلَ وَلاَ إِلَی إِثْمٍ فَإِنَّہُ لاَ عُذْرَ لَہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٠٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : { اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً } [آل عمران ٢٨] فرمایا : تقاۃ کا معنیٰ ہے : زبان سے بولنا اور دل کا ایمان پر مطمئن رہنا۔