Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 51 · Chapter 3168

عدت کا بیان

اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ خاوند والی عورت چار سال اس کا انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر حلال ہوجائے

4 hadiths in this chapter

15572

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15572

Sahih

(۱۵۵۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَیُّمَا امْرَأَۃٍ فَقَدَتْ زَوْجَہَا فَلَمْ تَدْرِ أَیْنَ ہُوَ فَإِنَّہَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَنْتَظِرُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔[حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٦٦) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند گم ہوجائے اور اسے علم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن انتظار کرے (یعنی عدت گزارے) ۔

15573

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15573

Sahih

(۱۵۵۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ زَادَ ثُمَّ تَحِلُّ۔ وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَزَادَ فِیہِ قَالَ: وَقَضَی بِذَلِکَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ وَرَوَاہُ أَبُوعُبَیْدٍ فِی کِتَابِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالاَ: امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَنْکِحُ۔[حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٦٧) ہم کو مالک نے حدیث بیان کی انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور انھوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ پھر وہ حلال ہوجائے۔ اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انھوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر (رض) کے بعد عثمان (رض) نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے اوزاعی سے زہری سے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ کہ عمر اور عثمان (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے پھر نکاح کرلے۔

15574

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15574

Sahih

(۱۵۵۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجَلَّ امْرَأَۃَ الْمَفْقُودِ أَرْبَعَ سِنِینَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٦٨) ابو عمرو الشیبانی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی کی مدت (انتظار) چار سال ہے۔

15575

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15575

Sahih

(۱۵۵۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ شُعْبَۃُ سَمِعْتُ مَنْصُورًا یُحَدِّثُ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : قَضَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُہُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ یُطَلِّقُہَا وَلِیُّ زَوْجِہَا ثُمَّ تَرَبَّصُ بَعْدَ ذَلِکَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجُ۔ وَرَوَاہُ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ فِی طَلاَقِ الْوَلِیِّ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُجَاہِدٌ عَنِ الْفَقِیدِ الَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الْجِنُّ فِی قَضَائِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ۔ وَرَوَاہُ خِلاَسُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَرِوَایَۃُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ ضَعِیفَۃٌ وَرِوَایَۃُ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ مُرْسَلَۃٌ وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خِلاَفَ ہَذَا۔ وَرَوَی أَبُوعُبَیْدٍ فِی کِتَابِہِ عَنْ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی وَحْشِیَّۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ شَہِدَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَذَاکَرَا امْرَأَۃَ الْمَفْقُودِ فَقَالاَ تَرَبَّصُ بِنَفْسِہَا أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَعْتَدُّ عِدَّۃَ الْوَفَاۃِ ثُمَّ ذَکَرُوا النَّفَقَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَہَا نَفَقَتُہَا لِحَبْسِہَا نَفْسَہَا عَلَیْہِ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذًا یُضِرَّ ذَلِکَ بِأَہْلِ الْمِیرَاثِ وَلَکِنْ لِتُنْفِقْ فَإِنْ قَدِمَ أَخَذَتْہُ مِنْ مَالِہِ وَإِنْ لَمْ یَقْدَمْ فَلاَ شَیْئَ لَہَا۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٦٩) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا خاوند گم ہوجائے کہ وہ چار سال انتظار کرے۔ پھر خاوند کا ولی اس کو طلاق دے۔ پھر وہ اس کے بعد چار ماہ اور دس دن انتظار کرے، پھر شادی کرلے۔ اس کو عاصم احول نے ابو عثمان سے روایت کیا ہے اور ابو عثمان عمر (رض) سے اسی کے مثل ولی کی طلاق کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اور اس کو خلاس بن عمرو اور ابو ملیح نے علی (رض) سے اسی طرح روایت کیا ہے اور خلاس کی روایت علی (رض) سے ضعیف ہے اور ابو ملیح کی روایت علی (رض) سے مرسل ہے اور مشہور علی (رض) سے اس کے خلاف ہے اور ابو عبید نے اپنی کتاب یزید سے، سعید بن ابی عروبہ سے، جعفر بن ابو وحشیہ سے، عمرو بن ہزم سے اور جابر بن زید سے روایت کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس تھا، ان دونوں نے آپس میں گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے مذاکرہ کیا۔ ان دونوں نے کہا : وہ اپنے نفس کے ساتھ چار سال انتظار کرے پھر وہ وفات کی عدت گزارے۔ پھر انھوں نے خرچے کا ذکر کیا۔ ابن عمر نے کہا : اس کے لیے خرچہ ہوگا۔ اس کے اپنے آپ کو اس مرد پر روکنے کی وجہ سے۔ ابن عباس نے کہا : جب اسے اہل میراث کے ساتھ مجبور کیا جائے اور وہ خرچ کرے ۔ اگر اس کا خاوند آجائے تو وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ اگر وہ نہ آئے تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔