Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 51 · Chapter 3166

عدت کا بیان

اس مطلقہ کی عدت کا باب جس کا خاوند اس سے رجوع کا مالک ہو

1 hadith in this chapter

15566

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15566

Sahih

(۱۵۵۶۰) أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ ثُمَّ یُرَاجِعُہَا لَیْسَ لِذَلِکَ مُنْتَہَی یُنْتَہَی إِلَیْہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لاِمْرَأَتِہِ وَاللَّہِ لاَ آوِیکِ إِلَیَّ أَبَدًا وَلاَ تَحِلِّینَ لِغَیْرِی قَالَ فَقَالَتْ کَیْفَ ذَاکَ قَالَ أُطَلِّقُکِ فَإِذَا دَنَا أَجْلُکِ رَاَجَعْتُکِ قَالَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَشْکُو فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} فَاسْتَقْبَلَہُ النَّاسُ جَدِیدًا مَنْ کَانَ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ طَلَّقَ۔ وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا فِیمَا مَضَی مَوْصُولاً وَفِیہِ کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ تَعْتَدُّ مِنَ الطَّلاَقِ الآخِرِ عِدَّۃً مُسْتَقْبِلَۃً وَہَذَا قَوْلُ أَبِی الشَّعْثَائِ وَطَاوُسٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَغَیْرِہِمْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٦٠) ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا، پھر اس سے رجوع کرتا۔ یہ معاملہ اس کے لیے ختم نہ ہوتا کہ وہ اس کو ختم کرے۔ انصار میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا : اللہ کی قسم ! میں تجھے اپنی طرف کبھی بھی جگہ نہیں دوں گا اور نہ ہی اپنے غیر کے لیے تجھے حلال ہونے دوں گا۔ اس عورت نے کہا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب تیری مدت عدت مکمل ہونے کے قریب ہوگی تو میں تجھ سے رجوع کرلوں گا۔ ہشام بن عروہ نے فرمایا : اس نے یہ معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا شکایت کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ٢٢٩] ” طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔ پھر اس کو معروف انداز میں روک لینا ہے یا احسان کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ “ پس نئے انداز میں لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ بھی جس نے طلاق دی اور وہ بھی جس نے طلاق نہیں دی۔