Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 51 · Chapter 3151

عدت کا بیان

١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان ” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو

7 hadiths in this chapter

15466

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15466

Sahih

(۱۵۴۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاء ُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ الشَّہِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ قُلْتُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ حَبِیبٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَدْ نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الأُخْرَی فَلِمَ تَکْتُبُہَا أَوْ تَدَعُہَا قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی لاَ أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْہُ مِنْ مَکَانِہِ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَلِیٍّ لِمَ تَکْتُبُہَا وَقَدْ نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الأُخْرَی {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ بِسْطَامَ۔ [صحیح۴۵۳۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦٠) ابو ملیکہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر نے کہا : میں نے عثمان بن عفان (رض) کے لیے کہا : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا } اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے تو کس لیے اس کو لکھ رہا ہے یا تو اس کو چھوڑ رہا ہے ؟ اس نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میں کسی چیز کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کرسکتا اور علی (رض) کی ایک روایت میں ہے کہ آپ اس کو کیوں لکھ رہے ہیں اور اس کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا } ” اور وہ تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں یعنی عدت گزاریں۔ “[البقرۃ ٢٣٤] اس کو امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں امیہبن بسطام سے روایت کیا ہے۔

15467

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15467

Zaeef

(۱۵۴۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ} فَنُسِخَ ذَلِکَ بِآیَۃِ الْمَوَارِیثِ مَا فُرِضَ لَہُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦١) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ } [البقرۃ ٢٤٠] یہ آیت وراثت کی آیات سے منسوخ ہوچکی ہے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے ربع اور ثمن، یعنی چوتھا حصہ اور آٹھواں حصہ اور سال کی عدت کو منسوخ کردیا گیا ہے اس کے ساتھ کہ اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کی گئی ہے۔

15468

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15468

Zaeef

(۱۵۴۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ وَتَرَکَ امْرَأَتَہُ اعْتَدَّتِ السَّنَۃَ فِی بَیْتِہِ یُنْفِقُ عَلَیْہَا مِنْ مَالِہِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ بَعْدَ ذَلِکَ {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنْ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا} فَہَذِہِ عِدَّۃُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا إِلاَّ أَنْ تَکُونَ حَامِلاً فَعِدَّتُہَا أَنْ تَضَعَ مَا فِی بَطْنِہَا وَقَالَ فِی مِیرَاثِہَا {وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ} فَبَیَّنَ اللَّہُ مِیرَاثَ الْمَرْأَۃِ وَتَرَکَ الْوَصِیَّۃَ والنَّفَقَۃَ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦٢) ابن عباس (رض) اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : جب آدمی فوت ہوجاتا ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا ہے تو وہ ایک سال اسی کے گھر میں عدت گزارتی وہ اس پر خرچ کرتے ہیں اسی کے مال سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا } [البقرۃ ٢٣٤] نازل فرمائی : ” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں۔ “ یہ عدت اس عورت کی مقرر ہوئی جس کا خاوند فوت ہوجائے مگر حاملہ عورت کی عدت وہ ہے کہ جو اس کے پیٹ میں ہے اس کو جن دے۔ اس کی وراثت کے بارے میں فرمایا : { وَ لَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ } ” اور ان کے لیے چھوتھائی حصہ ہے، اگر تمہاری کوئی اولاد نہیں اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی وراثت کو بیان کردیا اور وصیت اور نفقے کو چھوڑ دیا۔ “

15469

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15469

Sahih

(۱۵۴۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ وَہُوَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ہَا ہُنَا فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَبَیَّنَ لَہُمْ مِنْہَا فَأَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {إِنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِینَ} فَقَالَ: نُسِخَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ ثُمَّ قَرَأَ حَتَّی أَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ ( وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا) إِلَی قَوْلِہِ {غَیْرَ إِخْرَاجٍ} فَقَالَ وَہَذِہِ الآیَۃُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦٣) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وہاں خطاب کیا اور سورة بقرۃ کی ان پر تلاوت کی اور ان کے لیے کھول کر بیان کیا اور جب اس آیت پر پہنچے : { اِنْ تَرَکَ خَیْرَ نِ الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ } [البقرۃ ١٨٠] ” اگر وہ مال چھوڑیں تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت ہے۔ “ فرمایا : ” یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ “ پھر تلاوت کی حتی کہ اس آیت پر پہنچے : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ } [البقرۃ ٢٤٠] پھر فرمایا : یہ آیت بھی منسوخ ہوچکی ہے۔

15470

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15470

Sahih

(۱۵۴۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ عَنَہْا زَوْجُہَا فَرَمِدَتْ فَخَشُوا عَلَی عَیْنِہَا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَاسْتَأْذَنُوہُ فِی الْکُحْلِ فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ تَکْتَحِلُ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَمْکُثُ فِی شَرِّ أَحْلاَسِہَا أَوْ فِی شَرِّ أَبْنِیَتِہَا فَإِذَا کَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَۃٍ فَلاَ حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦٤) زینب بنت ام سلمہ (رض) اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ انھوں نے اس کی آنکھوں کے بارے میں خوف محسوس کیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت چاہی کہ کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ سرمہ نہ لگائے۔ تمہاری ایک برے کمبل اور بدترین گھر میں ٹھہری رہتی اور جب سال ہوجاتا تو ایک کتا گزرتا اس کی لید اس کو مارتے تو وہ سرمہ نہ لگائے جب تک اس پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔ ؁ً اس کو امام بخاری (رح) نے آدم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے ایک دوسری سند سے نقل فرمایا ہے۔

15471

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15471

Sahih

(۱۵۴۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَنَّ حُمَیْدَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَہُ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّہَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَۃَ وَأُمَّ حَبِیبَۃَ تَذْکُرَانِ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ أَنَّ زَوْجَ ابْنَتِہَا تُوُفِّیَ وَاشْتَکَتْ عَیْنَہَا أَفَأَکْحُلُہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ فَإِنَّمَا ہِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦٥) زینب بنت ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے اس نے ام سلمہ (رض) اور ام حبیبہ (رض) سے سنا، وہ دونوں ذکر کر رہی تھیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس نے ذکر کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئی ہیں کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری ایک تو سال کے اختتام پر لید سے رمی کی جاتی تھی اور یہ تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

15472

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15472

Sahih

(۱۵۴۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ فِیہِ قَالَ حُمَیْدٌ فَقُلْتُ لِزَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَمَا رَأْسُ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَیْنَبُ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ إِذَا ہَلَکَ زَوْجُہَا عَمَدَتْ إِلَی شَرِّ بَیْتٍ لَہَا فَجَلَسَتْ فِیہِ حَتَّی إِذَا مَرَّتْ بِہَا سَنَۃٌ خَرَجَتْ وَرَمَتْ بِبَعْرَۃٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٦٦) حمید بن نافع انصاری سے روایت ہے، اس نے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کیا ہے۔ حمید نے کہا : میں نے زینب کو کہا : سال کی ابتداء کیا ہے ؟ زینب (رض) فرماتی ہیں جاہلیت میں جب عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ بدترین گھر کا قصد کرتی جو اس کے لیے ہوتا، وہ اس میں بیٹھ جاتی یہاں تک کہ جب اس پر سال گزر جاتا تو وہ نکلتی اور لید کا ٹکڑا مارتی ، یعنی اپنے جسم سے لگا کر پھینکتی اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔