Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 27 · Chapter 2430

مانگے کى چیز کا بیان

عاریتاً لی گئی چیز ادا کرنا ضروری ہے

3 hadiths in this chapter

11479

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11479

Sahih

(۱۱۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِیُّ سَمِعَ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الدَّیْنُ مَقْضِیٌّ وَالْعَارِیَّۃُ مُؤَدَّاۃٌ وَالْمِنْحَۃُ مَرْدُودَۃٌ وَالزَّعِیمُ غَارِمٌ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٧٤) ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرض ادا کرنا فرض ہے اور عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنا ہوتی ہے اور جس جانور کو دودھ کے لیے لیا ہو اسے واپس کرنا چاہیے اور ذمہ میں لینے والا ضامن ہوتا ہے۔

11480

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11480

Zaeef

(۱۱۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ أَدْرَاعًا وَسِلاَحًا فِی غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَارِیَّۃٌ مُؤَدَّاۃٌ قَالَ : عَارِیَّۃٌ مُؤَدَّاۃٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٧٥) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے ذرعیں اور اسلحہ عاریتاً لیا، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! عاریتاً لی گئی چیز واپس کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہی فرمایا : عاریتاً لی گئی چیز واپس کرتے ہیں۔

11481

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11481

Zaeef

(۱۱۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ تَفْسِیرِ الْعَارِیَّۃِ الْمُؤَّدَاۃِ قَالَ : أَسْلَمَ قَوْمٌ فِی أَیْدِیہِمْ عَوَارِیٌّ مِنَ الْمُشْرِکِینِ فَقَالُوا : قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلاَمُ مَا بِأَیْدِینَا مِنْ عَوَارِیِّ الْمُشْرِکِینَ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ الإِسْلاَمَ لاَ یُحْرِزُ لَکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ الْعَارِیَّۃُ مُؤَدَّاۃٌ ۔ فَأَدَّی الْقَوْمُ مَا بِأَیْدِیہِمْ مِنْ تِلْکَ الْعَوَارِیِّ۔ قَالَ عَلِیٌّ ہَذَا مُرْسَلٌ وَلاَ تَقُومُ بِہِ حُجَّۃٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٧٦) عطاء بن ابی رباح نے عاریتاً موذاۃ کی تفسیر میں فرمایا : ایک قوم نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس مشرکوں سے لی ہوئی عاریتاً چیزیں تھیں۔ انھوں نے کہا : اسلام نے مشرکوں کی ان چیزوں کو ہمارے لیے محفوظ کردیا ہے۔ یہ بات آپ کے پاس پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام ایسی چیز تمہارے قبضے میں نہیں دیتا جو تمہاری ملکیت نہ ہو۔ عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنی چاہیے تو اس قوم نے وہ اشیاء واپس کردیں۔