Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 26 · Chapter 2423

اقرار کا بیان

جس چیز کا اقرار جائز ہے

4 hadiths in this chapter

11454

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11454

Sahih

(۱۱۴۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُومُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّرْقُفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی فَقَالَ وَیْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَتُبْ إِلَیْہِ ۔ فَرَجَعَ غَیْرَ بَعِیدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِاللَّہَ وَتُبْ إِلَیْہِ ۔ فَرَجَعَ غَیْرَ بَعِیدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَتِ الرَّابِعَۃُ قَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : مِمَّ أُطَہِّرُکَ؟ ۔ قَالَ : مِنَ الزِّنَا فَسَأَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَبِہِ جُنُونٌ؟ ۔ فَأُخْبِرَ أَنَّہُ لَیْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ : أَشَرِبْتَ خَمْرًا ۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْکَہَہُ فَلَمْ یَجِدْ مِنْہُ رِیحَ خَمْرٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَثَیِّبٌ أَنْتَ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَرُجِمَ وَکَانَ النَّاسُ فِیہِ فِرْقَتَیْنِ قَائِلٌ یَقُولُ قَدْ ہَلَکَ مَاعِزٌ عَلَی أَسْوَإِ عَمَلِہِ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِہِ خَطِیئَتُہُ وَقَائِلٌ یَقُولُ : مَا تَوْبَۃٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَۃِ مَاعِزٍ أَنْ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَوَضَعَ یَدَہُ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِی بِالْحِجَارَۃِ قَالَ فَلَبِثُوا بِذَلِکَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً ثُمَّ جَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَہُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ۔ قَالَ فَقَالُوا: غَفَرَ اللَّہُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: لَقَدْ تَابَ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ أُمَّۃٍ لَوَسِعَتْہَا۔ قَالَ ثُمَّ جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی فَقَالَ : وَیْحَکِ ارْجِعِی فَاسْتَغْفِرِی اللَّہَ وَتُوبِی إِلَیْہِ ۔ فَقَالَتْ : لَعَلَّکَ تُرِیدُ أَنْ تُرْدِّدْنِی کَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ : وَمَا ذَاکِ۔ قَالَتْ: إِنَّہَا حُبْلَی مِنَ الزِّنَا قَالَ: أَثَیِّبٌ أَنْتِ۔ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: إِذًا لاَ نَرْجُمَکِ حَتَّی تَضَعِی مَا فِی بَطْنِکِ۔ قَالَ: وَکَفَلَہَا رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ حَتَّی وَضَعَتْ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِیَّۃُ قَالَ : إِذًا لاَ نَرْجُمَہَا وَنَدَعُ وَلَدَہَا صَغِیرًا لَیْسَ لَہُ مَنْ تُرْضِعُہُ ۔ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَیَّ رِضَاعُہُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ فَرَجَمَہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٤٩) سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! مجھے پاک کردیں، آپ نے کہا : خرابی ہو تیرے لیے لوٹ جا۔ اللہ سے توبہ استغفار کر۔ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے۔ پھر کہا : یا رسول اللہ ! مجھے پاک کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : خرابی ہو تیرے لیے لوٹ جا، اللہ سے توبہ استغفار کر، وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! مجھے پاک کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اسی طرح کہا، جب چوتھی مرتبہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کس چیز سے پاک کروں ؟ کہنے لگے : زنا سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ مجنون تو نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا کہ وہ مجنون نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو نے شراب پی ہے، ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے ماعز سے بو سونگھنے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ محسوس نہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو شادی شدہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اسے قتل کردیا گیا۔ اب لوگوں کے دو گروہ بن گئے۔ کچھ یہ کہہ رہے تھے کہ ماعز ہلاک ہوگئے اپنے برے عمل کی وجہ سے۔ اس کو اس کی غلطی نے گھیر لیا ہے اور کچھ لوگکہہ رہے تھے : ماعز کی توبہ سے افضل کسی کی توبہ نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کہ اس نے خود آکر اپنا ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر رکھ دیا، پھر کہا کہ مجھے پتھروں سے قتل کردیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : دویا تین دن گزرے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے۔ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کہا پھر بیٹھ گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ماعز کے لیے استغفار کرو، صحابہ نے پوچھا : ماعز کو اللہ نے معاف کردیا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر امت کے درمیان تقسیم کردی جائے تو اس سے بھی وسیع ہے، پھر ازد قبیلے کی ایک عورت کو لایا گیا۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے پاک کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : خرابی ہو تیرے لیے لوٹ جا۔ اللہ سے توبہ استغفار کر۔ وہ کہنے لگی : آپ مجھے اس طرح لوٹا رہے ہیں جس طرح ماعز کو لوٹاتے رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا : زنا کی وجہ سے حاملہ ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو شادی شدہ ہے ؟ کہنے لگی : ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تجھے اس وقت تک رجم نہیں کریں گے، یہاں تک کہ تیرا وضع حمل ہوجائے۔ انصار کے آدمی نے اس کی کفالت کا ذمہ لیا تو جب اس نے وضع کرلیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس آدمی (کفیل ) نے کہا : غامدیۃ عورت نے بچہ جن دیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم اسے اس وقت تک رجم نہیں کریں گے جب تک اس کا بچہ چھوٹا ہے اور اس کو دودھ پلانے والا کوئی نہیں ہے۔ انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا : اس کی رضاعت کا میں ذمہ دار ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے رجم کردیا۔

11455

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11455

Zaeef

(۱۱۴۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ : أَنَّہُمَا أَخْبَرَاہُ فِی قِصَّۃِ الرَّجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمَرَ أُنَیْسًا الأَسْلَمِیَّ أَنْ یَأْتِیَ امْرَأَۃَ الآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَہَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَہَا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ وَغَیْرِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [بخاری ۶۸۲۸، مسلم ۱۶۹۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٥٠) حضرت ابوہریرہ (رض) اور زید بن خالدجھنی (رض) فرماتے ہیں، انھوں نے خبر دی دو آدمیوں کے قصہ کی، وہ دونوں اپنا جھگڑا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انس سلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسری عورت کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو رجم کر دے، پس اس نے اعتراف کرلیا تو اسے رجم کردیا گیا۔

11456

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11456

Zaeef

(۱۱۴۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ َدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً وُجِدَ رَأْسُہَا بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَجِیئَ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقِیلَ : مَنْ فَعَلَ بِکِ ہَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ ۔ حَتَّی سُمِّیَ الْیَہُودِیُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِہَا فَبَعَثَ إِلَی الْیَہُودِیِّ فَجِیئَ بِہِ فَاعْتَرَفَ قَالَ : فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَرُضَّ رَأْسُہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی۔ [بخاری ۲۴۱۳، مسلم ۱۶۷۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٥١) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کو اس حالت میں پایا گیا کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا۔ اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کس نے یہ کیا ، فلاں نے ؟ فلاں نے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا، اس (لونڈی ) نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ اس یہودی کو بلایا گیا، اس نے اعتراف کرلیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا جائے۔

11457

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11457

Sahih

(۱۱۴۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ : أَنَّ رَجُلاً أَقَرَّ عِنْدَ شُرَیْحٍ ثُمَّ ذَہَبَ یُنْکِرُ فَقَالَ لَہُ شُرَیْحٌ : شَہِدَ عَلَیْکَ ابْنُ أُخْتِ خَالَتِکَ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ سِیرِینَ أَنَّ شُرَیْحًا قَالَ لَہُ : شَہِدَ عَلَیْکَ ابْنُ أُخْتِ خَالَتِکَ۔ [صحیح۔ ابن سعد ۶/۱۳۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤٥٢) ابراہیم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے شریح کے پاس اقرار کیا، پھر انکار کرنے لگا۔ شریح نے اسے کہا : تیری خالہ کی بہن کے بیٹے نے تیرے بارے میں گواہی دی ہے۔