Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 17 · Chapter 2283

طب کا بیان

انسان کوئی چیز مقررہ مدت کے لیے فروخت کرتا ہے پھر اسی کو تھوڑی قیمت میں خرید لیتا ہے

5 hadiths in this chapter

10803

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10803

Zaeef

(۱۰۷۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَرَابِیسِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ (ح) وَأَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ الإِمَامُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : دَخَلَتِ امْرَأَتِی عَلَی عَائِشَۃَ وَأُمُّ وَلَدٍ لِزَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقَالَتْ لَہَا أُمُّ وَلَدِ زَیْدٍ : إِنِّی بِعْتُ مِنْ زَیْدٍ عَبْدًا بِثَمَانِمِائَۃٍ نَسِیئَۃً وَاشْتَرَیْتُہُ مِنْہُ بِسِتِّمِائَۃٍ نَقْدًا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہ عَنْہَا : أَبْلِغِی زَیْدًا أَنْ قَدْ أَبْطَلْتَ جِہَادَکَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ أَنْ تَتُوبَ بِئْسَمَا شَرَیْتَ وَبِئْسَمَا اشْتَرَیْتَ۔کَذَا جَائَ بِہِ شُعْبَۃُ عَنْ طَرِیقِ الإِرْسَالِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد ۴۵۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٩٨) ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میری بیوی اور زید بن ارقم کی ام ولد حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئیں تو زید بن ارقم کی ام ولد نے کہا : میں زید کو ایک ٨٠٠ درہم کا ادھار فروخت کرتی ہوں، پھر میں ان سے ٦٠٠ درہم میں نقد خرید لیتی ہوں، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میری جانب سے حضرت زید کو یہ بات بتانا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہوا جہاد بھی باطل کرلیا۔ ہاں توبہ کرو اور برا ہے جو تو نے خریدا اور جو فروخت کیا۔

10804

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10804

Zaeef

(۱۰۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْعَالِیَۃِ قَالَتْ : کُنْتُ قَاعِدَۃً عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَتَتْہَا أُمُّ مُحِبَّۃَ فَقَالَتْ لَہَا : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَکُنْتِ تَعْرِفِینَ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَتْ : فَإِنِّی بِعْتُہُ جَارِیَۃً لِی إِلَی عَطَائِہِ بِثَمَانِمِائَۃٍ نَسِیئَۃً وَإِنَّہُ أَرَادَ بَیْعَہَا بِسِتِّمِائَۃٍ نَقْدًا۔ فَقَالَتْ لَہَا : بِئْسَمَا اشْتَرَیْتِ وَبِئْسَمَا اشْتَرَی أَبْلِغِی زَیْدًا أَنَّہُ قَدْ أَبْطَلَ جِہَادَہُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنْ لَمْ یَتُبْ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٩٩) ابواسحق عالیۃ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں : میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ام محبۃ آئی، اس نے کہا : اے ام المومنین ! کیا آپ زید بن ارقم کو جانتی ہیں ؟ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہاں۔ میں نے اس کو اپنی لونڈی فروخت کی ہے ٨٠٠ درہم کی ادھار اور اس کا ارادہ ہے کہ وہ مجھے ٦٠٠ درہم نقد میں فروخت کر دے۔ حضرت عائشہ (رض) نے ام محبہ سے کہا : برا جو تو نے خریدا اور برا ہے جو اس نے فروخت کیا۔ میری بات زید تک پہنچا دو ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تو اس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہوا جہاد بھی باطل کرلیا۔

10805

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10805

Zaeef

(۱۰۸۰۰) وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ امْرَأَتِہِ الْعَالِیَۃِ : أَنَّ امْرَأَۃَ أَبِی السَّفَرِ بَاعَتْ جَارِیَۃً لَہَا إِلَی الْعَطَائِ مِنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَۃِ دِرْہَمٍ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : بِئْسَمَا شَرَیْتَ وَبِئْسَمَا اشْتَرَیْتَ وَزَادَ قَالَتْ : أَرَأَیْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ إِلاَّ رَأْسَ مَالِی قَالَتْ {فَمَنْ جَائَ ہُ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّہِ فَانْتَہَی فَلَہُ مَا سَلَفَ} أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ وَہَکَذَا رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أُمِّہِ الْعَالِیَۃِ بِنْتِ أَیْفَعَ قَالَتْ : خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مُحِبَّۃَ إِلَی مَکَّۃَ فَدَخَلْنَا عَلَی عَائِشَۃَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٠) ابواسحق اپنی بیوی عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو اسفر کی بیوی نے حضرت زید بن ارقم کو ایک لونڈی ٨٠٠ درہم میں فروخت کردی۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے کہا : تو نے برا فروخت کیا ہے اور برا ہی خریدا ہے، اس نے زیادہ کیا ہے کہ اس نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنا اصل مال لوں، حضرت عائشہ (رض) فرمانے لگیں : { فَمَنْ جَآئَ ٗہ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ } (البقرۃ : ٢٧٥) ” جس کے پاس اس کے رب کی نصیحت آگئی، وہ رک گیا تو اس کے لیے وہ ہے جو گزر گیا۔ “ (ب) یونس بن ابی اسحق اپنی والدہ عالیہ بنت ایفع سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا کہ میں اور ام محبۃ مکہ گئی تو حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئی۔

10806

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10806

Sahih

(۱۰۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : قَدْ تَکُونَ عَائِشَۃُ لَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عَنْہَا عَابَتْ عَلَیْہَا بَیْعًا إِلَی الْعَطَائِ لأَنَّہُ أَجَلٌ غَیْرُ مَعْلُومٍ وَہَذَا مَا لاَ نُجِیزُہُ لاَ أَنَّہَا عَابَتْ عَلَیْہَا مَا اشْتَرَتْ بِنَقْدٍ وَقَدْ بَاعَتْہُ إِلَی أَجْلٍ وَلَوِ اخْتَلَفَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی شَیْئٍ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : فِیہِ شَیْئًا وَقَالَ غَیْرُہُ خِلاَفَہُ کَانَ أَصْلُ مَا نَذْہَبُ إِلَیْہِ أَنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ الَّذِی مَعَہُ الْقِیَاسُ وَالَّذِی مَعَہُ الْقِیَاسُ قَوْلُ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ وَجُمْلَۃُ ہَذَا أَنَّا لاَ نُثْبِتُ مِثْلَہُ عَلَی عَائِشَۃَ مَعَ أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ لاَ یَبِیعُ إِلاَّ مَا یَرَاہُ حَلاَلاً وَلاَ یَبْتَاعُ إِلاَّ مِثْلَہُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً بَاعَ شَیْئًا أَوِ ابْتَاعَہُ نُرَاہُ نَحْنُ مُحَرَّمًا وَہُوَ یَرَاہُ حَلاَلاً لَمْ نَزْعُمْ أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُحْبِطُ بِہِ مِنْ عَمَلِہِ شَیْئًا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر یہ حضرت عائشہ (رض) سے ثابت ہوتا تو وہ اس بیع پر ضرور عیب لگاتی، کیونکہ اس کا تو وقت ہی معلوم نہیں۔ اس کو ہم جائز خیال نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے نقد خریدنے پر انھوں نے عیب لگایا ہے تو اس نے مدت متعین کے لیے فروخت کیا تھا۔ لیکن صحابہ کے درمیان بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ہم اس کی بات لیں گے جس کے ساتھ قیاس بھی ہو تو وہ زید بن ارقم ہیں، ہم حضرت عائشہ (رض) کے خلاف کسی چیز کو ثابت تو نہیں کرتے لیکن زید بن ارقم حلال خیال کرتے ہوئے ہی خریدتے اور فروخت کرتے تھے، لیکن ان کے خیال میں حلال تھا تو ان کے اعمال باطل نہ ہوں گے ہمارے حرام سمجھنے کی بنا پر۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام : ٣/ ٩٥)

10807

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10807

Zaeef

(۱۰۸۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلاً بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سَرْجًا وَلَمْ یَنْقُدْ ثَمَنَہُ فَأَرَادَ صَاحِبُ السَّرْجِ الَّذِی اشْتَرَاہُ أَنْ یَبِیعَہُ فَأَرَادَ الَّذِی بَاعَہُ أَنْ یَأْخُذَہُ بِدُونِ مَا بَاعَہُ مِنْہُ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَعَلَّہُ لَوْ بَاعَہُ مِنْ غَیْرِہِ بَاعَہُ بِذَلِکَ الثَّمَنِ أَوْ أَنْقَصَ۔ وَعَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ رَجُلاً بَاعَ بَعِیرًا مِنْ رَجُلٍ فَقَالَ : اقْبَلْ مِنِّی بَعِیرَکَ وَثَلاَثِینَ دِرْہَمًا فَسَأَلُوا شُرَیْحًا فَلَمْ یَرَ بِذَلِکَ بَأْسًا۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۴۸۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٠٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو دیا فروخت کردیا، اس نے قیمت نقد نہ دی۔ اب دینے والا کا اس کو خریدنے کا ارادہ بنا جس سے فروخت کیا تھا تو اس سے کہا : کم قیمت لو جتنے میں میں نے تجھے فروخت کیا تھا، اس کے متعلق ابن عمر (رض) سے سوال ہوا تو وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ وہ کسی دوسرے کو دے تو ممکن ہے اسی قیمت میں فروخت کرے یا اس سے بھی کم۔ (ب) ہشام ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اونٹ فروخت کیا، وہ کہنے لگا : اپنا اونٹ بھی لو اور ٣٠ درہم بھی۔ انھوں نے قاضی شریح سے سوال کیا تو وہ اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔