Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 9 · Chapter 875

حدود، معاملات، احکام

خیانت باعث رسوائی ہے

3 hadiths in this chapter

1273

Silsila Sahiha #1273

Sahih

-" كان ياخذ الوبرة من جنب البعير من المغنم، فيقول: ما لي فيه إلا مثل ما لاحدكم منه، إياكم والغلول، فإن الغلول خزي على صاحبه يوم القيامة، ادوا الخيط والمخيط، وما فوق ذلك، وجاهدوا في سبيل الله تعالى القريب والبعيد، في الحضر والسفر، فإن الجهاد باب من ابواب الجنة، إنه لينجي الله تبارك وتعالى به من الهم والغم واقيموا حدود الله في القريب والبعيد، ولا ياخذكم في الله لومة لائم".-" كان يأخذ الوبرة من جنب البعير من المغنم، فيقول: ما لي فيه إلا مثل ما لأحدكم منه، إياكم والغلول، فإن الغلول خزي على صاحبه يوم القيامة، أدوا الخيط والمخيط، وما فوق ذلك، وجاهدوا في سبيل الله تعالى القريب والبعيد، في الحضر والسفر، فإن الجهاد باب من أبواب الجنة، إنه لينجي الله تبارك وتعالى به من الهم والغم وأقيموا حدود الله في القريب والبعيد، ولا يأخذكم في الله لومة لائم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے اونٹ کے ایک پہلو سے کچھ بال پکڑے اور فرمایا: ”اس میں میرا حصہ بھی وہی ہے جو تم لوگوں کا ہے، خیانت کرنے سے بچو، کیونکہ خیانت قیامت کے روز خائن کے لیے باعث ذلت ہو گی۔ دھاگہ، سوئی اور اس سے بھی کم قیمت والی چیز ادا کر دو اور سفر قریب کا ہو یا بعید کا، حضر ہو یا سفر، ہر صورت میں اللہ کے راستے میں جہاد کرو، کیونکہ جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے پریشانی و پشیمانی اور غم و الم سے نجات دلاتا ہے اور رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، ہر ایک پر اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہیں متاثر نہ کرنے پائے۔“

1274

Silsila Sahiha #1274

Sahih

-" يا ايها الناس إن هذا من غنائمكم، ادوا الخيط والمخيط، فما فوق ذلك، فما دون ذلك، فإن الغلول عار على اهله يوم القيامة وشنار ونار".-" يا أيها الناس إن هذا من غنائمكم، أدوا الخيط والمخيط، فما فوق ذلك، فما دون ذلك، فإن الغلول عار على أهله يوم القيامة وشنار ونار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین والے دن مال غنیمت کے اونٹ کے پہلو کی طرف منہ کر کے ہمیں نماز پڑھائی، (نماز سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں میں اس اونٹ کے بال پکڑے اور فرمایا: ”لوگو! یہ (بال) بھی تمہاری غنیمتوں کا حصہ ہیں، سوئی دھاگہ اور ان سے کم یا زیادہ قیمت والی چیزیں ادا کر دو، کیونکہ خیانت روز قیامت خائن کے لیے عار و شنار اور ذلت و رسوائی کا باعث ہو گی۔“

1275

Silsila Sahiha #1275

Sahih

-" كان ياخذ الوبرة من قصة من فيء الله عز وجل فيقول: مالي من هذا إلا مثل ما لاحدكم، إلا الخمس وهو مردود فيكم، فادوا الخيط والمخيط، فما فوقها وإياكم الغلول، فإنه عار وشنار على صاحبه يوم القيامة".-" كان يأخذ الوبرة من قصة من فيء الله عز وجل فيقول: مالي من هذا إلا مثل ما لأحدكم، إلا الخمس وهو مردود فيكم، فأدوا الخيط والمخيط، فما فوقها وإياكم الغلول، فإنه عار وشنار على صاحبه يوم القيامة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے (ایک جانور کی) پیشانی کے بال پکڑے اور فرمایا: ”اس میں میرا حصہ بھی وہی ہے جو تم لوگوں کا ہے، (یعنی) پانچواں حصہ میرا ہے اور وہ بھی تم میں تقسیم کر دیا جائے گا، لہٰذا دھاگہ، سوئی اور ان سے بھی کم قیمت والی چیزیں ادا کر دو، اور خیانت سے بچو، یہ قیامت کے روز خائن کے لیے عیب و رسوائی کا باعث بنے گی۔“