Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 9 · Chapter 847

حدود، معاملات، احکام

استفادہ کے بعد عاریہ اور منحہ کے طور پر لی ہوئی چیز واپس کر دینا

4 hadiths in this chapter

1234

Silsila Sahiha #1234

Sahih

-" العارية مؤداة والمنحة مرودة ومن وجد لقطة مصراة، فلا يحل له صرارها حتى يريها".-" العارية مؤداة والمنحة مرودة ومن وجد لقطة مصراة، فلا يحل له صرارها حتى يريها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاریۃ لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی اور دودھ والی بکری (‏‏‏‏جو عارضی طور پر عطیہ دی گئی ہو) لوٹا دی جائے گی، جس آدمی نے ایسی گری پڑی چیز اٹھائی، جسے دھاگے وغیرہ کے ساتھ باندھا ہوا ہو، تو اس کے لیے اسے کھولنا حلال نہیں، جب تک کسی دوسرے کو دکھا کر (‏‏‏‏اسے گواہ) نہ بنا لے۔“

1235

Silsila Sahiha #1235

Sahih

-" لا بل عارية مضمونة".-" لا بل عارية مضمونة".

اردو ترجمہ · Urdu

امیہ بن صفوان بن امیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حنین والے دن کچھ زرہیں استعارۃ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏عارضی طور پر) لیں۔ اس نے کہا: اے محمد! کیا ان کو غصب کر لیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ ایسا عاریہ ہے کہ ہلاک ہونے کی صورت میں قیمت کی ضمانت ہو گی۔“

1236

Silsila Sahiha #1236

Sahih

-" بل عارية مؤداة".-" بل عارية مؤداة".

اردو ترجمہ · Urdu

یعلیٰ بن امیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیرے پاس میرے قاصد آئیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر (یہ چیزیں جو میں) عاریۃ (‏‏‏‏دے رہا ہوں) ہلاک ہو گئیں تو ان کی قیمت کی ضمانت ہو گی یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ چیزیں بعینہ موجود رہیں تو واپسی کی ضمانت ہو گی اور تلف ہونے کی صورت میں کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔“

1237

Silsila Sahiha #1237

Sahih

-" الا إن العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم".-" ألا إن العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم".

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن ابوسعید، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے والے صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! عاریہ (‏‏‏‏عارضی طور پر لی ہوئی چیز) واپس کی جائے گی، منحہ (‏‏‏‏وہ عطیہ جو استفادہ کے لیے کچھ مدت کے لیے دیا جائے) بھی واپس کیا جائے گا، قرضہ چکایا جائے گا اور چیز کا ضامن اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔“