Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 8 · Chapter 742

خرید و فروخت، کمائی اور زہد کا بیان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صدقہ و خیرات سے شدید محبت

5 hadiths in this chapter

1096

Silsila Sahiha #1096

Sahih

-" لو كان لي مثل احد ذهبا لسرني ان لا تمر علي ثلاث ليال عندي منه شيء إلا شيئا ارصده لدين".-" لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا تمر علي ثلاث ليال عندي منه شيء إلا شيئا أرصده لدين".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند ہو گی (کہ میں اس کو اتنا جلدی راہ حق میں خرچ کر دوں) کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں اور اس کی کچھ مقدار میرے پاس باقی ہو مگر اتنا حصہ جس کا میں قرضہ چکانے کے لیے روک لوں۔“

1097

Silsila Sahiha #1097

Sahih

-" ما احب ان احدا ذاك عندي ذهب، امسى ثالثة عندي منه دينار إلا دينارا ارصده لدين، إلا ان اقول به في عباد الله هكذا - حثا بين يديه -، وهكذا - عن يمينه -، وهكذا - عن شماله -".-" ما أحب أن أحدا ذاك عندي ذهب، أمسى ثالثة عندي منه دينار إلا دينارا أرصده لدين، إلا أن أقول به في عباد الله هكذا - حثا بين يديه -، وهكذا - عن يمينه -، وهكذا - عن شماله -".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر سونا ہو اور (تیسرے دن کی) شام ہو جائے اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی ہو، مگر وہ دینار جس کو قرضہ چکانے کے لیے اپنے پاس رکھ لوں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے اور دائیں بائیں تمثیل پیش کرتے ہوئے چلو بھر بھر کر ڈالے اور فرمایا) میں تو چاہوں گا کہ اس مال کو بندگان خدا میں اس طرح تقسیم کر دوں۔“

1098

Silsila Sahiha #1098

Sahih

-" ما يسرني ان لي احدا ذهبا تاتي علي ثالثة وعندي منه دينار إلا دينار ارصده لدين علي".-" ما يسرني أن لي أحدا ذهبا تأتي علي ثالثة وعندي منه دينار إلا دينار أرصده لدين علي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر سونا ہو اور (تیسرے دن کی) رات آ جائے اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی میرا ہو، مگر وہ (سونا) جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لیے روک لوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ارشاد فرمایا: ”عائشہ! سونے کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لے کر آؤ۔“ میں لے آئی۔ وہ نو یا پانچ دینار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اپنے رب کے بارے میں کیا گمان ہو گا۔ اگر وہ اپنے رب کو اس حال میں ملے کہ یہ سونا اس کے پاس ہو؟ اب اس طرح کرو کہ اس کو (فوراً) خرچ کر دو۔“ یزید راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کی کیفیت بیان کی)۔

1099

Silsila Sahiha #1099

Sahih

-" ما ظن محمد بالله لو لقي الله عز وجل، وهذه عنده؟ انفقيها".-" ما ظن محمد بالله لو لقي الله عز وجل، وهذه عنده؟ أنفقيها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ارشاد فرمایا: ”عائشہ! سونے کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لے کر آؤ۔“ وہ نو یا پانچ دینار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب کے بارے میں کیا گمان ہو گا، اگر وہ اپنے رب کو اس حال میں ملے کہ یہ سونا اس کے پاس ہو؟ اب اس طرح کرو کہ اس کو (فوراً) خرچ کر دو۔“ یزید راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کی کیفیت بیان کی)۔

1100

Silsila Sahiha #1100

Sahih

-" ما ظن نبي الله لو لقي الله عز وجل وهذه عنده؟ يعني ستة دنانير او سبعة".-" ما ظن نبي الله لو لقي الله عز وجل وهذه عنده؟ يعني ستة دنانير أو سبعة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن میں اور عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس روز دیکھتے، جس دن آپ بیمار ہوئے اور میرے پاس آپ کے چھ دینار تھے۔ موسی راوی کا بیان ہے کہ چھ یا سات دینار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کو خرچ کر دینے کا حکم صادر فرمایا، لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کی وجہ سے (‏‏‏‏آپ کی خدمت میں) مصروف تھی، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاء دے دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کے بارے میں دریافت کیا اور فرمایا: ”ان چھ یا سات دیناروں کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: بخدا! آپ کی تکلیف نے اتنا مشغول کر دیا کہ میں ان کو خرچ نہ کر سکی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار منگوائے اور اپنی ہتھیلی پر رکھے اور فرمایا: ”اللہ کے نبی کا (اپنے رب کے بارے میں) کیا گمان ہو گا، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔“ یعنی یہ چھ یا ساتھ دینار۔