Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 6 · Chapter 624

زکوۃ، سخاوت، صدقہ، ہبہ

دوسرے کا مال کب قبول کیا جائے؟

3 hadiths in this chapter

944

Silsila Sahiha #944

Sahih

-" من جاءه من اخيه معروف من غير مسالة ولا بإشراف نفس فليقبله ولا يرده، فإنما هو رزق ساقه الله إليه".-" من جاءه من أخيه معروف من غير مسألة ولا بإشراف نفس فليقبله ولا يرده، فإنما هو رزق ساقه الله إليه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اگر کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے کوئی چیز موصول ہو تو وہ قبول کر لے اور اسے رد نہ کرے، بشرطیکہ نہ اس نے اس کا سوال کیا ہو اور نہ اس کی حرص و طمع رکھی ہو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا ہے۔“

945

Silsila Sahiha #945

Sahih

-" إذا ساق الله إليك رزقا من غير مسالة ولا إشراف نفس فخذه، فإن الله اعطاك".-" إذا ساق الله إليك رزقا من غير مسألة ولا إشراف نفس فخذه، فإن الله أعطاك".

اردو ترجمہ · Urdu

قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن سعدی کو ایک ہزار دینار دینا چاہا، لیکن اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں تجھے وہی بات کہوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمائی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے کوئی مال عطا کرے، جبکہ تو نے نہ کسی سے سوال کیا اور نہ اس کے لیے حرص و طمع رکھی ہو، تو وہ قبول کر لیا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ تجھے عطا کر رہا ہوتا ہے۔“

946

Silsila Sahiha #946

Sahih

-" إذا آتاك الله مالا لم تساله ولم تشره إليه نفسك فاقبله، فإنما هو رزق ساقه الله إليك".-" إذا آتاك الله مالا لم تسأله ولم تشره إليه نفسك فاقبله، فإنما هو رزق ساقه الله إليك".

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اہل شام کا ایک پسندیدہ آدمی تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تم میں کون سی صفت ہے جس کی وجہ سے اہل شام تجھ سے محبت کرتے ہیں؟ اس نے کہا: میں ان کے ساتھ مل کر جہاد کرتا ہوں اور ان سے ہمدردی کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دس ہزار (دینار) دیے اور کہا: یہ لے لو اور ان کو اپنے غزووں میں استعمال کرو۔ اس نے کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر اس سے کم مال پیش کیا تھا جو میں نے تجھ پر کیا اور میں نے وہی بات کہی جو تو نے کہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ تجھے کوئی مال عطا کرے، جبکہ تو نے نہ اس کا سوال کیا ہو اور نہ اس کا حریص بنا ہو، تو قبول کر لیا کر، کیونکہ وہ تو اللہ کا رزق ہوتا ہے جو وہ تجھے عطا کرتا ہے۔“