Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 6 · Chapter 612

زکوۃ، سخاوت، صدقہ، ہبہ

صدقہ کرنے والوں کے لیے جنت کا باب الصدقہ

2 hadiths in this chapter

926

Silsila Sahiha #926

Sahih

-" من انفق زوجين في سبيل الله نودي في الجنة: يا عبد الله! هذا خير، فمن كان من اهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الريان. قال ابو بكر الصديق: يا رسول الله! ما على احد يدعى من تلك الابواب من ضرورة، فهل يدعى احد من تلك الابواب كلها؟ قال: نعم، وارجو ان تكون منهم".-" من أنفق زوجين في سبيل الله نودي في الجنة: يا عبد الله! هذا خير، فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من أهل الصيام دعي من باب الريان. قال أبو بكر الصديق: يا رسول الله! ما على أحد يدعى من تلك الأبواب من ضرورة، فهل يدعى أحد من تلك الأبواب كلها؟ قال: نعم، وأرجو أن تكون منهم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرے گا تو اسے جنت (کے دروازوں سے) یوں پکارا جائے گا: اے اللہ کے بندے یہ دروازہ بہتر ہے۔ پس جو شخص نمازیوں میں سے ہو گا اسے ”باب الصلوۃ“ سے پکارا جائے گا، جو مجاہدین میں سے ہو گا، اسے ”باب الجہاد“ سے پکارا جائے گا، جو صدقہ کرنے والوں میں سے ہو گا اسے ”باب الصدقہ“ سے پکارا جائے گا اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا اسے ”باب الریان“ سے پکارا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس کو ان دروازوں میں سے (کسی ایک دروازے سے) بھی پکارا گیا، اس کے لیے کوئی نقصان اور خسارہ نہیں (کیونکہ مقصود جنت میں داخلہ ہے)، لیکن کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جس کو ان تمام دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی ان ہی میں سے ہو گے۔“

927

Silsila Sahiha #927

Sahih

- (يا ابا ذر! ما احب ان لي احدا ذهبا وفضة انفقه في سبيل الله؛ اموت يوم اموت فادع منه قيراطا، قلت: يا رسول الله! قنطارا؟ قال: يا ابا ذر! اذهب إلى الاقل وتذهب إلى الاكثر؟! اريد الآخرة وتريد الدنيا؟! قيراطا؛ فاعادها علي ثلاث مرات).- (يا أبا ذرّ! ما أحبُّ أنّ لي أُحُداً ذهَباً وفضّة أُنفقُه في سبيلِ اللهِ؛ أموتُ يومَ أموتُ فأدعُ منه قِيراطاً، قلتُ: يا رسولَ اللهِ! قِنطاراً؟ قالَ: يا أبا ذرّ! أَذهبُ إلى الأقلِّ وتذهبُ إلى الأكثَر؟! أريد الآخرة وتريد الدنيا؟! قيراطاً؛ فأعادها عليَّ ثلاث مرات).

اردو ترجمہ · Urdu

عبید اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! اگر مجھے احد پہاڑ جتنا سونا یا چاندی مل جائے تو میں اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دوں گا۔ میں جس دن بھی مروں گا، یہ نہیں چاہوں گا کہ اس میں سے ایک قیراط بھی میرے پاس باقی ہو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (آپ کیا کہہ رہے ہیں) ایک قنطار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! میں قلیل کی طرف جاتا ہوں اور تو کثیر کی طرف؟ میں آخرت کا ارادہ رکھتا ہوں اور تو دنیا کا؟ (‏‏‏‏میں کہہ رہا ہوں:) قیراط۔“ یہ الفاظ تین دفعہ دوہرائے۔