Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 5 · Chapter 592

روزے اور قیام کا بیان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت قبول جائے

2 hadiths in this chapter

899

Silsila Sahiha #899

Sahih

-" ما بال رجال بلغهم عني امر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟! فوالله لانا اعلمهم بالله واشدهم له خشية".-" ما بال رجال بلغهم عني أمر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟! فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اس میں رخصت دے دی۔ جب یہ بات صحابہ کرام تک پہنچی تو انہوں نے اس رخصت کو ناپسند کیا اور اس سے اجتناب کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے رویے) کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، میری طرف سے ایک رخصت والا معاملہ ان تک پہنچا، لیکن انہوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے گریز کرنے لگے؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہوں اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا بھی میں ہوں۔“

900

Silsila Sahiha #900

Sahih

-" هي رخصة ـ يعني الفطر في السفر ـ من الله، فمن اخذ بها فحسن، ومن احب ان يصوم، فلا جناح عليه".-" هي رخصة ـ يعني الفطر في السفر ـ من الله، فمن أخذ بها فحسن، ومن أحب أن يصوم، فلا جناح عليه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، (اگر میں ایسے کروں تو) کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کرے گا، سو اچھی بات ہو گی اور جو روزہ رکھنا چاہے، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔“