Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 5 · Chapter 557

روزے اور قیام کا بیان

یوم عاشورا کا روزہ اگر یکم رمضان کے روزے کی اطلاع طلوع فجر کے بعد ملے تو، کیا طلوع فجر کے بعد فرضی روزے کی نیت کی جا سکتی ہے؟

3 hadiths in this chapter

840

Silsila Sahiha #840

Sahih

-" اذن في قومك او في الناس يوم عاشوراء: من [كان] اكل فليصم بقية يومه [إلى الليل]، ومن لم يكن اكل فليصم".-" أذن في قومك أو في الناس يوم عاشوراء: من [كان] أكل فليصم بقية يومه [إلى الليل]، ومن لم يكن أكل فليصم".

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عاشورا والے دن اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان کر دو کہ جس نے کھانا کھا لیا ہے، وہ دن کا بقیہ حصے کا روزہ رکھ لے اور جس نے کھانا نہیں کھایا، وہ (مکمل دن) کا روزہ رکھے۔“ یہ حدیث سلمہ بن اکوع، ربیع بنت معوذ، محمد بن صیفی، ہند بن اسما، ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم“ سے مروہ ہے، اسلم قبیلے کے مبہم افراد سے، معبد قرشی سے اور محمد بن سیرین سے مرسلاً مروی ہے۔

841

Silsila Sahiha #841

Sahih

- (إن هذا يوم كان يصومه اهل الجاهلية، فمن احب ان يصومه؛ فليصمه، ومن احب ان يتركه؛ فليتركه).- (إنّ هذا يومٌ كان يصومه أهل الجاهليّة، فمن أحب أن يصومه؛ فليصمه، ومن أحب أن يتركه؛ فليتركه).

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے رویت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو بیان کیا کہ انہوں نے یوم عاشورا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عہد جاہلیت والے لوگ اس دن کا روزہ رکھتے تھے، اب جو اس کا روزہ رکھنا پسند کرتا ہے، وہ رکھ لے اور جو چھوڑنا پسند کرتا ہے، وہ چھوڑ دے۔“

842

Silsila Sahiha #842

Sahih

- (إن عاشوراء يوم من ايام الله، فقن شاء صامه، ومن شاء تركه).- (إنّ عاشوراء يومٌ من أيام الله، فقن شاء صامه، ومن شاء تركه).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ یوم عاشورا (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھتے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمان بھی روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان فرض ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن عاشورا ہے، جو چاہتا ہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہتا ہے نہ رکھے۔“