Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 4 · Chapter 432

اذان اور نماز

”آمین“ کہنے کی فضیلت

4 hadiths in this chapter

659

Silsila Sahiha #659

Sahih

-" إذا امن القارئ فامنوا، فإن الملائكة تؤمن، فمن وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".-" إذا أمن القارئ فأمنوا، فإن الملائكة تؤمن، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ (اس وقت) فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کرے گی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“

660

Silsila Sahiha #660

Sahih

-" إذا قرا الإمام: * (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) *، فامن الإمام فامنوا، فإن الملائكة تؤمن على دعائه، فمن وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".-" إذا قرأ الإمام: * (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) *، فأمن الإمام فأمنوا، فإن الملائكة تؤمن على دعائه، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ” «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی امام کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“

661

Silsila Sahiha #661

Sahih

-" إن اليهود ليحسدونكم على السلام والتامين".-" إن اليهود ليحسدونكم على السلام والتأمين".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی لوگ تمہاری (ان دو خصلتوں) پر تم سےحسد کرتے ہیں: سلام کہنا اور آمین کہنا۔“

662

Silsila Sahiha #662

Sahih

-" إن اليهود قوم حسد وإنهم لا يحسدوننا على شيء كما يحسدونا على السلام وعلى (آمين)".-" إن اليهود قوم حسد وإنهم لا يحسدوننا على شيء كما يحسدونا على السلام وعلى (آمين)".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے)کہا: اے محمد! «اَلسَّامُ عَليكم» (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا «وعليك» (اور تجھ پر بھی ہو)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ ایک دوسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَليكم» (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وعليك» (اور تجھ پر بھی ہو)۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَليكم» مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ جس انداز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں دیا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے «اَلسَّامُ عَليكم» کہا اور ہم نے بھی (بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك» کہہ کر) جوب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔“