Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 4 · Chapter 374

اذان اور نماز

امام کی تخفیف سے نماز پڑھانے کی حد ظہر و عصر کی نمازوں میں سورہ اعلیٰ اور سورہ غاشیہ کی تلاوت کرنا

3 hadiths in this chapter

564

Silsila Sahiha #564

Sahih

-" كان يقرا في الظهر والعصر بـ * (سبح اسم ربك الاعلى) * و * (هل اتاك حديث الغاشية) *".-" كان يقرأ في الظهر والعصر بـ * (سبح اسم ربك الأعلى) * و * (هل أتاك حديث الغاشية) *".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ اعلی «سبح اسم ربك الاعلى» اور سورہ غاشیہ «هل اتاك حديث الغاشية» کی تلاوت کرتے تھے۔

565

Silsila Sahiha #565

Sahih

- (اتريد ان تكون فتانا يا معاذ؟! إذا اممت الناس فاقرا ب (والشمس وضحاها) و (سبح اسم ربك الاعلى) و (والليل إذا يغشى) و (اقرا باسم ربك)).- (أتريدُ أن تكون فتّاناً يا معاذُ؟! إذا أمَمتَ الناس فاقرأ ب (والشمسِ وضُحاها) و (سبِّحِ اسمَ ربِّك الأعلى) و (والليلِ إذا يغشى) و (اقرأ باسمِ ربِّك)).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشا کی نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا۔ ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا، علیحدہ نماز پڑھ لی (اور چلا گیا)۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: ایسا کرنے والا منافق ہو سکتا ہے۔ جب اس آدمی کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ معاذ نے میرے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو فرمایا: ”معاذ! کیا تو فتنہ باز بننا چاہتا ہے؟ جب تو لوگوں کو امامت کرائے تو «و الشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الاعلى»، «و الليل إذا يغشى» اور «قرا باسم ربك» جیسی سورتیں پڑھا کر۔“ یہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، ان سے روایت کرنے والے مختلف راویوں کے مختلف الفاظ ہیں، جو طویل اور مختصر روایات پر مشتمل ہیں۔ یہ الفاظ ابوزبیر کے ہیں، جو ان سے لیث بن سعد نے بیان کئے ہیں۔

566

Silsila Sahiha #566

Sahih

-" خفف الصلاة على الناس، حتى وقت * (سبح اسم ربك الاعلى) * و * (اقرا باسم ربك الذي خلق) *، واشباهها من القرآن".-" خفف الصلاة على الناس، حتى وقت * (سبح اسم ربك الأعلى) * و * (اقرأ باسم ربك الذي خلق) *، وأشباهها من القرآن".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن ابوعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف پر عامل بنا کر بھیجا تو آخری بات، جو مجھ سے فرمائی، یہ تھی: ”لوگوں کو خفیف نماز پڑھانا۔“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود «سبح اسم ربك الاعلى» یعنی سورہ اعلی اور «قرا باسم ربك» یعنی سورہ علق اور اس قسم کی سورتوں کی تلاوت کرنے کا تعین کر دیا۔