Silsila Sahiha #4102
- (لا تحقرن شيئا من المعروف ان تاتيه؛ ولو ان تهب صلة الحبل، ولو ان تفرغ من دلوك في إناء المستقي، ولو ان تلقى اخاك المسلم ووجهك بسط إليه، ولو ان تؤنس الوحشان بنفسك، ولو ان تهب الشسع).- (لا تحقِرنَّ شَيئاً من المعروفِ أن تأتيَه؛ ولو أن تَهَبَ صِلَةَ الحبلِ، ولو أن تُفرغَ من دلوكِ في إناءِ المستقِي، ولو أن تلقَى أخاك المسلمَ ووجهُك بسطٌ إليه، ولو أن تؤنِس الوَحشان بنفسكَ، ولو أن تهَبَ الشِّسعَ).
اردو ترجمہ · Urdu
سھم بن معتمر ہجیمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور مدینہ کی کسی گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ نے روئی سے بنا ہوا تہبند باندھا ہوا تھا اور اس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا۔ ہجیمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! «عليك السلام» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك السلام» تو مردوں کا سلام ہے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی نیکی سرانجام دینے کو معمولی خیال نہ کرنا، اگرچہ (وہ نیکی یہ ہو کہ تو کسی کو) رسی کا عطیہ دے دے، اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی ڈال دے، اپنے مسلمان بھائی کو خندہ پیشانی کے ساتھ ملے، خوف و گھبراہٹ میں مبتلا آدمی کا دل بہلا دے یا (کسی کو) تسمہ ہبہ کر دے۔“