Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2250

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی فضیلت

3 hadiths in this chapter

3433

Silsila Sahiha #3433

Sahih

-" العباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن عم الرجل صنو ابيه".-" العباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن عم الرجل صنو أبيه".

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس، رسول اللہ کے چچا ہیں اور چچا باپ کی ایک قسم ہے۔“ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا حسن بن مسلم مکی، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا عبدالمطلب بن ربعیہ بن حارث رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔

3434

Silsila Sahiha #3434

Sahih

- (هذا العباس بن عبد المطلب، اجود قريش كفا، واوصلها).- (هذا العباس بن عبد المطلب، أجود قريش كفاً، وأوصلها).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”‏‏‏‏ یہ عباس بن عبدالمطلب ہیں، قریش کے سب سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔“

3435

Silsila Sahiha #3435

Sahih

-" انت عمي وبقية آبائي والعم والد".-" أنت عمي وبقية آبائي والعم والد".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری، جبکہ آپ حطیم میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”ام الفضل!“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے تو بچے کا حمل ہو گیا ہے۔“ ‏‏‏‏میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ قریشیوں نے قسمیں اٹھائی ہیں کہ عورتیں بچہ نہیں جنیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏وہی ہو گا جو میں کہہ رہا ہوں، جب بچہ پیدا ہو تو میرے پاس لے آنا۔“ ‏‏‏‏جب بچہ پیدا ہوا تو وہ آپ کے پاس لے آئی، آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا، اسے اپنے لعاب دہن کی گھٹی دی اور فرمایا: ”‏‏‏‏لے جاؤ، تم اسے عقلمند پاؤ گی۔ ”‏‏‏‏ وہ کہتی ہیں: میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور ساری بات انہیں بتلا دی، انہوں نے اپنا لباس زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خوبصورت اور درازقد آدمی تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہوئے، ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور انہیں اپنی دائیں جانب بٹھا دیا، پھر فرمایا: ”یہ میرا چچا ہے، جو چاہتا ہے وہ اپنے چچا پر فخر کرے۔“ سیدنا عباس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اتنی تعریف نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسے کیوں نہ کہوں؟ حالانکہ آپ میرے چچا ہیں، میرے آبا و اجدد کی نشانی ہیں اور چچا تو باپ ہی ہوتا ہے۔ ”‏‏‏‏