Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2176

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب

3 hadiths in this chapter

3268

Silsila Sahiha #3268

Sahih

-" كان كاشفا عن فخذه، فاستاذن ابو بكر، فاذن له وهو على ذلك الحال، ثم استاذن عمر فاذن له وهو على تلك الحال، ثم استاذن عثمان فارخى عليه من ثيابه، فلما قاموا قلت: يا رسول الله! استاذن عليك ابو بكر وانت على ذلك الحال.. (وفيه) فقال: يا عائشة الا استحي من رجل والله إن الملائكة لتستحي منه".-" كان كاشفا عن فخذه، فاستأذن أبو بكر، فأذن له وهو على ذلك الحال، ثم استأذن عمر فأذن له وهو على تلك الحال، ثم استأذن عثمان فأرخى عليه من ثيابه، فلما قاموا قلت: يا رسول الله! استأذن عليك أبو بكر وأنت على ذلك الحال.. (وفيه) فقال: يا عائشة ألا أستحي من رجل والله إن الملائكة لتستحي منه".

اردو ترجمہ · Urdu

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران سے کپڑا ہٹا کر بیٹھے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ نے اسی حالت میں اجازت دے دی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ نے اسی حالت میں اجازت دے دی۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ نے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر (‏‏‏‏ران کو ڈھانپ لیا)۔ جب یہ سارے لوگ چلے گئے تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب کی، آپ اسی حالت پر تشریف فرما رہے . . . (‏‏‏‏لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنا چاہا تو اس طرح پردہ کر لیا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں کہ اللہ کی قسم! فرشتے بھی جس سے حیاء کرتے ہیں۔“

3269

Silsila Sahiha #3269

Sahih

-" إن عثمان رجل حيي وإني خشيت إن اذنت له على تلك الحال ان لا يبلغ إلي في حاجته".-" إن عثمان رجل حيي وإني خشيت إن أذنت له على تلك الحال أن لا يبلغ إلي في حاجته".

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (‏‏‏‏جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں ہے) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ کر اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آنے کی اجازت دے دی انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا اور چلے گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں اجازت دے دی، انہوں نے اپنی ضرورت پوری کی اور چل دیے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اچھی طرح کپڑے لپیٹ لو۔“ (‏‏‏‏پھر مجھے اجازت دی) میں نے اپنا کام پورا کیا اور چلا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ نے ابوبکر اور عمر کے لیے وہ اہتمام نہیں کیا جو عثمان کے لیے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل عثمان شرمیلا اور حیادار آدمی ہے، مجھے اندیشہ تھا کہ اگر اسی حالت میں اجازت دے دی تو وہ اپنی ضرورت کا اظہار نہیں کر سکے گا۔“

3270

Silsila Sahiha #3270

Sahih

-" عثمان في الجنة".-" عثمان في الجنة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان جنت میں ہوں گے۔“